پی ایم انڈیا
میرے ساتھی مرکزی کابینہ کے وزیر جناب پرہلاد جوشی، دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یوگیش سنگھ، شری رام کالج آف کامرس کی پرنسپل سمرت کور، اجے جی، ملکّا جی، راجت جی، ایس آر سی سی سے وابستہ تمام ساتھیوں، فیکلٹی ممبران، عملے کے ارکان، ایس آر سی سی کے سابق طلبہ اور میرے نوجوان دوستو!
میں چھٹا کھلاڑی ہوں۔ آج کا موقع سری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) کے لیے نہایت تاریخی ہے اور ملک کے تعلیمی شعبے کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہاں ایس آر سی سی سے وابستہ کئی نسلوں کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوئے ہیں۔ میں ایس آر سی سی کی صد سالہ تقریب پر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں اس کے بانی سر شری رام جی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے وژن کو سلام کرتا ہوں۔
دوستو!
جب کوئی شخص 100 سال کی عمر پاتا ہے تو اسے تجربات کا سمندر سمجھا جاتا ہے۔ اور جب کوئی ادارہ 100 سال مکمل کرتا ہے تو وہ کامیابیوں اور ترغیبات کا سمندر بن جاتا ہے۔ اپنے 100 سالہ سفر میں ایس آر سی سی نے نسلوں کی تربیت کی اور انہیں روشن مستقبل سے جوڑا۔ جو لوگ یہاں آئے، تعلیم حاصل کی اور یہاں سے نکلے، وہ ایک بہتر شخصیت کے طور پر آگے بڑھے۔ اس کالج کا سفر دریاگنج کی ایک چھوٹی سی جگہ سے شروع ہوا تھا اور آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ ایسا درخت جس نے کئی نسلوں کو سایہ دیا اور اپنی ٹھنڈک سے انہیں مالامال کیا۔ آج بھی دہلی یونیورسٹی میں جب کوئی پوچھتا ہے کہ کون سے کالج سے ہیں اور جواب ملتا ہے ’’ایس آر سی سی‘‘، تو یہ اپنے آپ میں ایک فخر کی بات ہوتی ہے۔
دوستو!
ایس آر سی سی کے سابق طلبہ بھی بہت خاص رہے ہیں۔ اگر میں آپ کی زبان میں کہوں تو یہاں کے سابق طلبہ ’’او جی‘‘ ہیں، جنہوں نے ایس آر سی سی کا نام دنیا بھر میں روشن کیا اور مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنائی۔ رجت جی نے ایک طویل فہرست کا ذکر کیا۔ مجھے بھی ان میں سے کچھ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ ہمارے ارون جیٹلی جی نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ شاید ہی ان کے ساتھ کوئی ایسی ملاقات ہوئی ہو جس میں انہوں نے ایس آر سی سی کا کوئی واقعہ نہ سنایا ہو۔ کبھی کبھی میں تھک جاتا تھا، کیونکہ وہ ایک ہی واقعہ بار بار سناتے تھے۔ آج میری ٹیم میں بھائی سنجیو سنیال بھی یہاں سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ بہت سے دوسرے ساتھی بھی یہاں موجود ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہاں سے صرف معاشیات کے شعبے کے لوگ ہی نکلے؛ بہت سے فنکار، رہنما، وکلا اور جج بھی یہاں سے نکلے ہیں۔ یعنی ایس آر سی سی سے وابستہ لوگوں نے ہر شعبے میں اپنی دھاک بٹھائی ہے۔ وہ سب شاید بڑے نام نہ بنے ہوں، لیکن انہوں نے اپنی موجودگی کا احساس ضرور کرایا ہے۔
دوستو!
گزشتہ کچھ دنوں سے اس پروگرام پر کافی بحث ہو رہی ہے۔ خاص طور پر لوگ میری 2013 کی تقریر کو یاد کر رہے ہیں۔ لوگوں نے اسے دوبارہ سنا اور دوبارہ پڑھا ہے۔ ممکن ہے نئی نسل نے بھی اسے دوبارہ دیکھا ہو۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تقریر ایک لہر اور ایک تحریک بن گئی تھی۔ اور آج بھی 13–14 سال بعد اس اجتماع اور اس خطاب کا اثر برقرار ہے۔
دوستو!
اس وقت آپ کی جگہ آپ کے سینئر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں اس وقت وزیراعلیٰ بھی تھا اور ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کا رکن بھی۔ شاید لوگوں کو توقع تھی کہ میں اس وقت کی مرکزی حکومت پر سخت حملے کروں گا اور الزامات کی بوچھاڑ کردوں گا۔
لیکن دوستو!
اپوزیشن میں رہتے ہوئے اور اس وقت کی حکومت کا ناقد ہونے کے باوجود میں نے اس پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا۔ میں نے ایک وژن پیش کیا اور مثبت باتیں کیں۔ اس وقت میں نے جو کچھ کہا تھا، وہ میرے پختہ یقین کی عکاسی کرتا تھا۔ میں نے ہمیشہ ان الفاظ اور خوابوں کو اپنی زندگی میں اپنایا ہے۔ میں نے ہمیشہ اسی راستے پر چلتے ہوئے خود کو پورے دل سے ملک کے لیے وقف کیا اور قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزاری۔
میرے اندر کی یہی دنیا، میرے جذبات کا یہی عالم، 2013 میں اسی پلیٹ فارم سے الفاظ کی ایک مالا کی صورت میں ایک ایک کرکے سامنے آیا تھا۔ میں نے تفصیل سے بات کی تھی۔ اس کے بعد میں نے طلبہ سے پوچھا تھا کہ کیا میں اپنی بات جاری رکھوں، تو انہوں نے بلند آواز میں کہا تھا، ’’ہاں، جاری رکھیں۔‘‘
دوستو!
اس دن میں نے پانی سے بھرے ایک گلاس کی مثال دی تھی، جس پر ملک بھر میں کافی بحث ہوئی تھی۔ میں نے بتایا تھا کہ پانی سے بھرے گلاس کو دیکھنے کے تین انداز ہوسکتے ہیں۔ ایک، وہ لوگ جو گلاس کو آدھا بھرا ہوا دیکھتے ہیں۔ دوسرے، وہ جو اسے آدھا خالی دیکھتے ہیں۔ اور تیسرے، وہ جو گلاس کو مکمل بھرا ہوا دیکھتے ہیں، یعنی آدھا پانی اور آدھا ہوا سے بھرا ہوا۔
دوستو!
یہ وہ وقت تھا جب ملک مایوسی کے دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ میں گلاس کو آدھا نہیں دیکھتا، میں اسے نامکمل نہیں دیکھتا؛ میں اسے مکمل بھرا ہوا دیکھتا ہوں، آدھا پانی اور آدھا ہوا سے۔
اس وقت آپ سب شاید اسکول میں تھے، لیکن آج اگر آپ انٹرنیٹ پر 2013 اور اس کے آس پاس کے دور کی خبریں پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس وقت ملک کی صورتحال کیا تھی۔ میں نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ 2013 کے اس دور کو ایک بار انٹرنیٹ پر ضرور دیکھیں اور اس وقت میری تقریر کے آس پاس کی سرخیاں بھی دیکھیں۔ اخبارات ہوں یا ٹی وی چینل، اس وقت کی سرخیاں کیا تھیں؟ میں ان سرخیوں کی ایک جھلک آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
اب ایک ایسا گروہ ہے جو میرے الفاظ کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر میرے کھاتے میں ڈال دے گا، اس لیے میں پہلے ہی واضح کردوں کہ میں جن باتوں کا ذکر کر رہا ہوں وہ 2013 میں میڈیا پر چھائی ہوئی سرخیاں تھیں، مثلاً:
یہ اس وقت کی سرخیاں تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ آج کے طلبہ ان تمام باتوں سے واقف نہیں ہوں گے۔ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ اس وقت ملک کی حالت کیا تھی۔ ترقی کی شرح زمین پر تھی اور مہنگائی آسمان پر۔ گھوٹالے عروج پر تھے اور بدعنوان لوگ بے خوف گھومتے تھے۔ معیشت کی حالت خراب تھی اور ہر طرف پالیسی مفلوج ہونے کی بات ہوتی تھی۔ دنیا ہندوستان کو ’’فریجائل فائیو‘‘ میں شمار کرتی تھی۔ دہشت گردوں کے حوصلے بلند تھے اور پاکستان بے قابو تھا۔ یعنی اس وقت ہر طرف مایوسی اور بے چینی کا ماحول تھا۔
دوستو!
وہ ایک ایسا دور تھا جب ملک ہر محاذ پر مشکلات سے دوچار تھا، اور آج کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ آج دہشت گردی پھیلانے والے عناصر دباؤ میں ہیں۔ اگر پاکستان کوئی ناپاک حرکت کرتا ہے تو ہندوستانی افواج ان کے گھر میں داخل ہوکر کارروائی کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر سے لے کر شمال مشرق تک امن میں اضافہ ہوا ہے۔ ماؤ نواز دہشت گردی اور نکسل ازم کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ جو دنیا کبھی ہندوستان میں پالیسی مفلوج ہونے کی بات کرتی تھی، آج وہ ہندوستان کی متحرک پالیسیوں کی بات کرتی ہے۔
تب دنیا ہندوستان کو ’’فریجائل فائیو‘‘ کا حصہ کہتی تھی، آج وہ ہندوستان کو دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ہندوستان کی معیشت سے متعلق کئی مثبت خبریں سامنے آئی ہیں۔ سہ ماہی ترقی کی شرح 7.8 فیصد رہنے سے ملک کا حوصلہ بڑھا ہے، جبکہ اسی عرصے میں جاپان کی ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے ہندوستان کی ریٹنگ میں بھی بہتری کی ہے۔
اور دوستو!
یہ 7.8 فیصد ترقی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ جاری ہے اور تجارت کے حوالے سے کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایسے حالات میں اتنی بلند شرح نمو حاصل کرنا خود ہندوستان کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
دوستو!
میں جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہندوستان کو ’’فریجائل فائیو‘‘ میں پہنچانے کے لیے بدنامی حاصل کی، وہ ان اعداد و شمار کو ہضم نہیں کرپارہے ہیں۔ لیکن آپ سب اعداد و شمار کو سنجیدگی سے سمجھتے ہیں۔ اپریل سے جون کے درمیان بجلی کی پیداوار میں 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گاڑیوں کی فروخت 20 فیصد سے زیادہ بڑھی۔ اس میں دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں 20 فیصد اور تین پہیہ گاڑیوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین کی طلب برقرار ہے اور تجارتی سرگرمیاں مضبوط ہیں۔
اسٹیل اور سیمنٹ کی کھپت میں بھی 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعمیرات، مکانات، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ یعنی ہندوستان ترقی کررہا ہے اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کررہا ہے۔ اس کے باوجود 2013 میں جو لوگ گلاس کو آدھا خالی دیکھتے تھے، ان کی سوچ آج بھی وہی ہے۔ ان کے لیے گلاس ہمیشہ آدھا خالی ہی رہے گا۔ جب میں گلاس کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب کسی چیز کے خالی ہونے سے نہیں ہے۔
دوستو!
2013 میں اسی ایس آر سی سی میں خطاب کرتے ہوئے میں نے پی ٹو جی ٹو جی یعنی عوام پر مبنی بہتر حکمرانی کی بات بھی کی تھی۔ طویل عرصے تک حکومتیں چلانے والوں کا ایک طریقہ کار تھا—آگ لگنے پر ہی جاگنا اور قحط پڑنے پر کنواں کھودنا۔ میں نے اس رویے کو بدلنے کی بات کی تھی۔ 2014 میں حکومت بنانے کے بعد ہم نے اسے عملی طور پر کرکے دکھایا۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔
دوستو!
حال ہی میں جن دھن یوجنا نے 12 سال مکمل کیے ہیں۔ آج آپ فن ٹیک کے بالکل مختلف دور میں زندگی گزار رہے ہیں، لیکن 2013 میں گاؤں یا چھوٹے شہروں کے طلبہ کے لیے سیونگ بینک اکاؤنٹ کھلوانا بھی ایک بڑی مشکل ہوا کرتا تھا۔ اس وقت ملک کی آبادی 1.25 ارب سے تجاوز کرچکی تھی، لیکن مارچ 2014 تک ملک کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ تک نہیں تھا۔ بینکنگ نظام سے باہر رہنے والوں میں زیادہ تر غریب، خواتین، مہاجر مزدور اور طلبہ شامل تھے۔
اسی لیے ہم جن دھن یوجنا لائے اور گزشتہ 12 برسوں میں اس کے تحت تقریباً 60 کروڑ نئے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ آج ملک کا تقریباً ہر خاندان بینکنگ نظام سے جڑ چکا ہے۔ یہی ہندوستان کے فن ٹیک انقلاب کی بنیاد بنا۔
دوستو!
اب ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچئے جنہوں نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو بینکنگ نظام سے جوڑنے کی مخالفت تک کی تھی۔ دراصل ایسے لوگوں کو تب ہی مزہ آتا تھا جب گلاس آدھا بھرا رہے، تاکہ غریب اور عام شہری ان کے گرد چکر لگاتے رہیں۔ کئی دہائیوں تک انہوں نے اسی ’’مائی باپ‘‘ کلچر کو جاری رکھا۔ لیکن یہ مودی ہے، جو ’’مائی باپ‘‘ کلچر پسند کرنے والوں کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہے۔
دوستو!
ایک پرانی کہاوت ہے کہ سچ کو آگ کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ میرے اندر حوصلہ ہے، اسی لیے میں آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ میں نے اس دن کیا کہا تھا اور اپنی کارکردگی کا حساب آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ سچ کی گھن گرج کے سامنے جھوٹ کی بازگشت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
دوستو!
2013 کے اسی پروگرام میں جب میں نے’’میک اِن انڈیا ‘‘پر کام کرنے کی بات کی تھی تو اس وقت کے پرانے نظام سے وابستہ لوگ اسے سمجھ بھی نہیں پائے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ مایوسی کے اس دور میں ’’میک اِن انڈیا‘‘ ممکن ہی نہیں ہوگا۔ اور جو لوگ اسی سوچ کے ماحول میں بڑے ہوئے، وہ آج بھی ’’میک اِن انڈیا‘‘ کا مذاق اڑاتے ہیں۔
لیکن دوستو!
آج آپ ’’میک اِن انڈیا‘‘ کی برانڈ ویلیو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔ آج ہر ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے موبائل فون برانڈز ہندوستان کو اپنا مرکز بنا رہے ہیں۔ ہندوستان میں تیار ہونے والے اسمارٹ فون دنیا کے ہر کونے تک پہنچ رہے ہیں۔ 2014 میں ہندوستان اپنی موبائل فون کی زیادہ تر ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا تھا، لیکن آج ہندوستان 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے موبائل فون برآمد کررہا ہے۔
دوستو!
میں چھوٹے اور آسان اہداف رکھنے والا شخص نہیں ہوں۔ میں ملک کے لیے بڑے اہداف مقرر کرتا ہوں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردیتا ہوں۔ دفاعی شعبے کو ہی دیکھ لیجیے۔ پہلے ہندوستان کی مسلح افواج کے لیے زیادہ تر سامان بیرون ملک سے خریدا جاتا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد میں نے دفاعی شعبے کے لوگوں سے کہا کہ ایک منفی فہرست تیار کریں۔ پہلے 500 اشیا کی فہرست بنائی گئی کہ انہیں بیرون ملک سے نہیں خریدا جائے گا۔ پھر یہ تعداد 1000 اور اس کے بعد 3000 تک پہنچ گئی۔ فوج، بحریہ اور فضائیہ کو کئی بار معمولی سے سامان کے لیے بھی مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔
ہم نے مسلح افواج کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا، اشیا کی فہرستیں تیار کیں اور ہندوستانی کمپنیوں سے کہا کہ یہ تمام سامان ملک میں تیار کریں۔ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ملک کی دفاعی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ آج ہندوستان تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے مالیت کا دفاعی سامان تیار کررہا ہے۔ 2013–14 میں ہندوستان نے صرف 600–700 کروڑ روپے کا دفاعی سامان برآمد کیا تھا، جبکہ آج یہ اعداد و شمار تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ کامیابیاں ملک میں تیزی سے فروغ پاتے دفاعی مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں۔
دوستو!
مجھے ملک پر، ملک کی صلاحیت پر اور آپ نوجوانوں پر پورا بھروسہ ہے۔ اسی اعتماد کی بنیاد پر میں ترقی یافتہ ہندوستان کی بات کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم 140 کروڑ ہندوستانی مل کر اپنے ملک کو ترقی یافتہ اور خود کفیل بنائیں گے۔
اور آپ وہ دن بھی دیکھیں گے جب ہندوستان ایسے انداز میں اولمپکس کی میزبانی کرے گا کہ پوری دنیا حیرت سے دیکھتی رہ جائے گی۔
یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ہمارے عزم ہیں اور انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے ملک میں مسلسل کام ہورہا ہے۔
دوستو!
اس وقت آپ کی زندگی ایس آر سی سی کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ چاہے کو۔آپ میں چائے ہو، کولڈ کافی پر بحث، امتحانات کے لیے آخری وقت میں نوٹس تیار کرنا، پرنٹ آؤٹ کے لیے بھاگ دوڑ یا کراس روڈز اور بزنس کنکلیو کے لیے کی جانے والی محنت، آپ نے یہاں گزارے ہر لمحے کو زندگی کی ایک یاد بنا لیا ہے۔
لیکن کیمپس سے باہر ایک نئی دنیا آپ کی منتظر ہے۔ وہاں آپ کو دو طرح کے لوگ ملیں گے۔ ایک وہ جو معاشرے کی طاقت کو مثبت انداز میں ملک کی طاقت میں تبدیل کرتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو ہر کام شروع ہوتے ہی ’’ناراض انکل‘‘ بن جاتے ہیں۔ ان کا پسندیدہ کام ہر چیز کی مخالفت کرنا ہے۔ ان کا مستقل سوال ہوتا ہے، ’’اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
جب ہم نے دنیا کا سب سے بلند مجسمہ بنایا تو انہوں نے کہا، ’’اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ جب ہائی اسپیڈ ٹرین پر کام شروع کیا تو پھر یہی سوال اٹھایا۔ جب ہم یو پی آئی لائے تو کہا، ’’یو پی آئی کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ جب چِپس بنانے کی بات کی تو پھر یہی سوال، اور جب نئی پارلیمنٹ کی عمارت بنائی تو بھی پوچھا، ’’اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ملک کے لیے عظیم قربانی دینے والے بہادر فوجی کمانڈروں کی یاد میں یادگار بنائی تو بھی یہی سوال اٹھایا گیا۔
لیکن ہندوستان نے ایسے تمام ’’انکلوں‘‘ کو جواب دے دیا ہے کہ ملک کے لیے جو بھی ضروری ہے، ہندوستان کو اسے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
دوستو!
آج ہندوستان ایک مختلف رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ جو کام پہلے کئی دہائیاں لیتے تھے، وہ اب چند برسوں میں ہورہے ہیں۔ ایک مثال دیکھیے۔ ہندوستان کی پہلی برقی ٹرین 1925 میں چلی تھی، جبکہ آپ کا کالج 1926 میں شروع ہوا۔ لیکن اس کے بعد 2014 تک یعنی 90 برسوں میں ریلوے لائنوں کے 30 فیصد سے بھی کم حصے کو بجلی فراہم کی جاسکی۔ گزشتہ 12 برسوں میں ہم نے تقریباً 100 فیصد ریلوے لائنوں کی برقی کاری مکمل کرکے دکھائی ہے۔
دوستو!
ہندوستان کے پالیسی فیصلوں میں یہ رفتار پوری دنیا دیکھ اور سمجھ رہی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک ہندوستان کے ساتھ اپنی شراکت داری بڑھا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 40 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے اور آزاد تجارتی معاہدے کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چمڑے، ٹیکسٹائل، پھلوں اور سبزیوں، پروسیسڈ فوڈ، جھینگے اور دیگر مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں کھل رہی ہیں۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ جب نئی منڈیاں کھلتی ہیں اور ہندوستانی اشیا و خدمات پر ٹیرف کم ہوتا ہے تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ اس سے ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے مواقع کا ایک نیا آسمان کھل رہا ہے۔
دوستو!
2013 کے مقابلے میں آج ملک معاشی اور سماجی اعتبار سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن اسے دیکھ کر کچھ لوگوں کی بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔ آپ نے 15 اگست کی میری تقریر سنی ہوگی۔ ایسے لوگوں کے لیے میں نے لال قلعے سے ہومیوپیتھی کی ایک چھوٹی سی گولی دی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ ہومیوپیتھی میں کہا جاتا ہے کہ دوا شروع کرنے پر ابتدا میں بیماری کچھ عرصے کے لیے مزید شدت اختیار کرلیتی ہے۔ میں نے لال قلعے سے ایسی ہی ایک گولی دی تھی—’’ذہنی نکسل‘‘۔
جیسا کہ میں نے کہا تھا، ’’ذہنی نکسل‘‘ کا یہ علاج پہلے کچھ عرصے کے لیے بیماری کو نمایاں کرے گا اور پھر علاج شروع ہوگا۔ اسی طرح جب میں نے ’’ذہنی نکسل‘‘ کی گولی دی تو تمام ’’ذہنی نکسل‘‘ عناصر سامنے آنے لگے۔ اور جو لوگ اس بیماری کو فروغ دے رہے ہیں، عوام اب ان کے اصل رنگ بھی دیکھ رہی ہے۔
دوستو!
میں نے اتنی باتیں کہیں تو کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ اس میں بڑی بات کیا ہے؟ ملک 140 کروڑ آبادی والا تھا، سب کچھ آسان تھا، مودی نے نیا کیا کیا؟ لیکن کیا واقعی یہ اتنا آسان تھا؟ آئیے ایک بار پھر ماضی میں چلتے ہیں۔
جب آپ اسکول میں تھے تو 2013 میں کیدارناتھ میں تباہی آئی تھی۔ اس وقت پوری حکومت ہل کر رہ گئی تھی اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ 2008 میں جب بینکاری بحران آیا تو اس وقت کی حکومت نے 2014 تک اس بحران کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کی اور اسے حل کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ہندوستان کا پورا بینکاری نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ اسی 2008 میں جب ممبئی میں خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہوا تو اس وقت کی حکومت بیرونی دباؤ میں آگئی، لیکن پاکستان کو سبق سکھانے کی ہمت بھی نہیں دکھائی۔
دوستو!
گزشتہ 12 برسوں میں ملک کو کئی آفات کا سامنا کرنا پڑا اور بڑے بڑے سمندری طوفان آئے، لیکن قوم نے ان کا مضبوطی سے مقابلہ کیا۔ گزشتہ چھ برسوں میں بھی بہت بڑے بحران آئے۔ پہلے کورونا کی وبا آئی، جس نے پوری دنیا کو مفلوج کردیا۔ پھر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ اس کے بعد تجارت اور سپلائی چین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا دور آیا۔ پھر مغربی ایشیا کا بحران سامنے آیا۔
ہر بار کہا گیا کہ اب ہندوستان نہیں بچ پائے گا۔ اور میرے ’’خاص مداح‘‘ یہ سوچ کر خوش ہوتے رہے کہ اب مودی پھنس گیا، اب مودی گر جائے گا، اب مودی کچل دیا جائے گا۔ لیکن میرے ملک کے عوام کی دعاؤں اور آشیرواد میں ایسی طاقت ہے کہ ہندوستان کی تباہی کی خواہش رکھنے والوں کی ہر خواہش ادھوری رہ گئی۔
دوستو!
اب 21ویں صدی میں ہمارے سامنے نئے مواقع سے بھری ایک دنیا موجود ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ بلند عزائم رکھتے ہیں، کیونکہ عزم اور بلند حوصلہ کسی نصابی کتاب سے نہیں سیکھا جاسکتا۔ یہ جذبہ اس ماحول سے پیدا ہوتا ہے جو انسان کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج ہمارے نوجوان ساتھی کہتے ہیں کہ اگر کچھ کرنا ہے تو اسٹارٹ اپ شروع کریں گے، اگر کمپنی بنائیں گے تو اسے یونی کارن بنائیں گے۔ ہم خلائی شعبے اور ڈرونز جیسے شعبوں میں جائیں گے اور کچھ بڑا کریں گے۔ جدید ترین اے آئی حل تیار کریں گے اور زراعت میں اختراع کریں گے۔ تیرہ سال پہلے آپ کے سینئر ایسے خواب دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن آج آپ یہ خواب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ آج کے ہندوستان میں ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول اور نظام تیار ہوچکا ہے۔
دوستو!
اب وقت ہے کہ بڑے اہداف مقرر کیے جائیں اور انہیں حاصل کیا جائے۔ حال ہی میں لال قلعے سے میں نے کچھ باتیں کہی تھیں، آج آپ کے درمیان انہیں دوبارہ کہنا چاہتا ہوں۔ عہد کیجیے کہ ہندوستان میں عالمی سطح کی مشاورتی کمپنیاں کیوں نہیں ہوسکتیں؟ ہماری اکاؤنٹنگ، قانونی اور مالیاتی کمپنیاں عالمی رہنما کیوں نہیں بن سکتیں؟ ہم فخر سے کہتے ہیں کہ آج ہندوستانی دنیا کی بڑی ترین کمپنیوں کی قیادت کررہے ہیں۔ اگر ہندوستانی دنیا کی بڑی کمپنیوں کی قیادت کرسکتے ہیں تو ہندوستانیوں کی قائم کردہ کمپنیاں دنیا کی قیادت کیوں نہیں کرسکتیں؟
دوستو!
یہ سب ممکن ہے۔ اس کے لیے آپ کے پاس نیٹ ورک بھی ہے اور علم بھی۔
دوستو!
ہماری اور آپ کی تحریک کا سرچشمہ ایس آر سی سی کالج کا نشان بھی ہے۔ اس میں دو خوبصورت علامتیں ہیں۔ ایک طلوع ہوتا سورج اور دوسری سمندر میں آگے بڑھتا ہوا جہاز۔ سورج جو سمت دکھاتا ہے اور جہاز جو اس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔
ہمیں بھی ایسی نئی راہوں پر چلنا ہے جہاں سورج ہمارا ہو، سمندر ہمارا ہو۔ کشتی ہماری ہو، ملاح ہمارا ہو۔ لہروں پر فتح لکھنے کا حوصلہ ہمارا ہو۔ پرواز ہماری ہو، آسمان ہمارا ہو۔ تیز ہواؤں کا مقابلہ کرنے کا جذبہ ہمارا ہو۔ خواب ہمارے ہوں، عزم ہمارا ہو، خود کفیل ہندوستان کا پرچم ہمارا ہو۔ ترقی یافتہ ہندوستان کی راہ پر تیزی سے اٹھنے والا ہر قدم ہمارا ہو۔
ایک بار پھر اس خصوصی موقع پر ایس آر سی سی سے وابستہ تمام لوگوں کو میری دلی نیک خواہشات۔
وندے ماترم!
***********
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3073 )
Delighted to join the centenary celebrations of Shri Ram College of Commerce. Over the years, this institution has given generations of students the opportunity to learn, grow and make a difference.@SRCCOfficial
— Narendra Modi (@narendramodi) September 5, 2026
https://t.co/2YyZBJuFAy
Delighted to attend the centenary celebrations of Shri Ram College of Commerce (SRCC) at Delhi University.
— Narendra Modi (@narendramodi) September 5, 2026
Brought back several memories of my 2013 address at the same college.
For a hundred years, SRCC has nurtured bright minds and contributed immensely to nation-building.… pic.twitter.com/TIThccN7DM
From policy paralysis to policy dynamism... India has come a long way. pic.twitter.com/DV5KYkAmZb
— PMO India (@PMOIndia) September 5, 2026
India's 7.8% growth amid global uncertainty reflects its economic strength. pic.twitter.com/AeQ83PHEQH
— PMO India (@PMOIndia) September 5, 2026
Together, 140 crore Indians will make India both Viksit and Aatmanirbhar. pic.twitter.com/0Xj2faEVra
— PMO India (@PMOIndia) September 5, 2026
India is moving forward at a new pace. What once took decades is now happening in just a few years. pic.twitter.com/PykSUe4oMh
— PMO India (@PMOIndia) September 5, 2026
If Indians can lead the world's top companies, Indian companies can lead the world too. It is all possible. pic.twitter.com/XKi3eHMHLm
— PMO India (@PMOIndia) September 5, 2026
सूरज हमारा हो, समंदर भी हमारा हो।
— Narendra Modi (@narendramodi) September 5, 2026
नाव हमारी हो, नाविक भी हमारा हो।
लहरों पर विजय लिखें, वो हौसला हमारा हो। pic.twitter.com/oNNFck16hR
‘नाराज फूफा’ देश की प्रगति को नहीं रोक सकते! pic.twitter.com/ghqDrbPm0t
— Narendra Modi (@narendramodi) September 5, 2026