پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج فرانس کے شہر ایوین میں جی7 سربراہی اجلاس میں “نئی شراکت داریوں کے قیام اور بین الاقوامی یکجہتی کی از سر نو تعمیر” کے موضوع پر منعقدہ آؤٹ ریچ اجلاس سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے زور دیا کہ آج کی باہم مربوط دنیا میں، جہاں توانائی، خوراک، صحت، سائبر اور اقتصادی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بین الاقوامی شراکتیں قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر یقینی صورتحال سے بھرپور اس دنیا میں تجارت اور ٹیکنالوجی کو محدود مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اعتماد کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔ کووڈ وبا سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ممالک سے عالمی شراکت داریوں میں اعتماد اور شفافیت بڑھانے پر توجہ دینے کی اپیل کی۔
بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے بھارت کے نقطۂ نظر کو بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہمیشہ “انسانیت پہلے” کے اصول پر عمل پیرا رہا ہے۔ یہی نظریہ بھارت کی تمام کوششوں کے مرکز میں رہا ہے، خواہ وہ انٹرنیشنل سولر الائنس، کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر، گلوبل بایو فیول الائنس، مشن لائف یا “ایک پیڑ ماں کے نام” مہم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی جامع نقطۂ نظر کی وجہ سے، چاہے سری لنکا میں طوفان ہو، افغانستان میں زلزلہ، موزمبیق میں سیلاب یا جمائیکا میں طوفان، دنیا کے مختلف حصوں میں قدرتی آفات کے وقت بھارت سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آیا ہے۔
بھارت کے جامع اور پائیدار ترقی کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ “سرو جن ہتائے، سرو جن سکھائے” (سب کی بھلائی اور خوشی) کے اصول نے مالی شمولیت، صحت تحفظ، ڈیجیٹل شناخت، ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی بااختیاری اور خواتین کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینے میں قابل ذکر رول ادا کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کو “دہندہ-حاصل کنندہ”(ڈونر-ریسپینٹ) کے تصور سے آگے بڑھ کر یکجہتی اور مساوات کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام نہ کرنا عالمی یکجہتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں میں مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
********
ش ح ۔ ع و ۔ م الف
U NO-8729
Shared my thoughts at the Outreach Session on ‘Forging New Partnerships and Rebuilding International Solidarity’ at the G7 Summit in Evian. In a world that is getting more interconnected and interdependent than ever before, this subject becomes all the more vital. But,… pic.twitter.com/NjNddWGtFF
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
Mutual trust is the most important strategic asset today.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
But, sadly, today, the world does not suffer from a shortage of resources…it suffers from a shortage of trust.
And the future of our partnerships depends on re-building this trust.
We, in India, view the world as one family.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
Our experience shows that development is most effective when it is connected to the aspirations of people.
This principle also forms the basis of our international partnerships like the International Solar Alliance, Coalition for…
India believes that the true test of partnership is not what we build for others, but what we enable others to build for themselves.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
Our development partnerships reflect the same spirit.
Our efforts have focused on capacity building and skill development in partner countries.
Emphasised that the Global South has immense expectations from the world. More than support, it seeks partnership.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
We must move beyond the donor-recipient mindset and work as equal partners!
We must walk together and not merely alongside one another.
Partnerships must be…
Highlighted India’s efforts in Africa, including the focus on training, capacity building, water resources, agriculture and energy. These are strengthening the capacities of African nations and helping them provide solutions to pressing global challenges.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026