پی ایم انڈیا
نئی دہلی۔14 نومبر؛
نمستے،
اگر آپ سے بغیر ملاقات کئے چلا جاتا تو میرا یہ سفر ادھورا رہ جاتا۔ الگ الگ مقامات سے آپ وقت نکال کر آئے ہیں۔ ورکنگ ڈے یعنی کام کا دن ہونے کے باوجود بھی آپ آئے ہیں۔ یہ بھارت کے تئیں آپ کا جو پیار ہے، بھارت کے تئیں آپ کی جو انسیت ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم سب آج ایک چھت کے نیچے جمع ہوئے ہیں۔ میں سب سے پہلےتو آپ کو خصوصی طور پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ کیونکہ میں بھارت کے باہر جہاں بھی جاتا ہوں۔ بھارتی کمیونٹی سے ملنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ لیکن آج آپ لوگوں نے جس ڈسپلن یعنی نظم و ضبط کا اظہار کیا اس کے لیے میری طرف سے بہت بہت مبارکباد۔ یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی طاقت ہوتی ہے ورنہ اتنی بڑی تعداد اور اتنے آرام سے میں سب سے مل سکوں یہ اپنے آپ میرے لئے بہت خوشی کا موقع ہے اور اس کے لیے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں، خیرمقدم کے مستحق ہیں۔
میرا اس ملک میں پہلی بار آنا ہوا ہے لیکن بھارت کے لیے زمین کا یہ خطہ بہت ہی اہم ہے اور جب سے وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے کی آپ لوگوں نے مجھے جو ذمہ داری سونپی ہے۔ ابتدا ہی سے ہم نے ایکٹ ایسٹ پالیسی پر زور دیا ہے کیونکہ اس طرح سے ہم ان ممالک میں بہت نزدیکی محسوس کرتے ہیں۔ فطری طور پر اپنا پن محسوس کرتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ وجوہات سے، کچھ نہ کچھ اقدار میں، کچھ نہ کچھ وراثت کی وجہ سے ایک جذباتی لگاؤ ہمارے درمیان ہے۔ شاید ہی یہاں کاکوئی ملک ایساہوجو رامائن کے بارے میں جانتا نہ ہو، رام کے بارے میں نہ جانتا ہو، شاید ہی بہت کم دیش ہوں گے جنہیں بدھ کے تئیں عقیدت نہ ہو۔ یہ اپنے آپ میں بی بڑی وراثت ہے اور اس وراثت کو سنوارنے اور سنجونے کا کام بھارتی کمیونٹی، جو یہاں آباد وہ بخوبی کرسکتی ہے۔ ایک کام ایک سفارتخانہ کرتا ہے، اس سے متعدد گنا زیادہ کام ایک عام بھارتی کرسکتا ہے۔ اور میں تجربہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں آج ہر ہندوستانی فخر کے ساتھ سر اٹھا کر ، آنکھ سے آنکھ ملاکر فخر کے ساتھ ہندوستانی ہونے کی با کرتا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ ایک بہت بڑی پونجی ہوتی ہے۔ اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی بھارتی کمیونٹی اور بھارت کے لوگ صدیوں سے ملک کا سفر کرنے کے رجحان کے حامل رہے ہیں۔ صدیوں قبل ہمارے آبائ و اجداد نکلے ہیں اور بھارت کی ایک خصوصیت رہی ہے۔ ہم جہاں گئے، جس سے ملے اسے اپنا بنالیا۔ یہ چھوٹی چیز نہیں ہے، اپنے پن بچائے رکھتے ہوئے ہر کسی کو اپنا بنالینا یہ تب ممکن ہوتا ہے، جب اندر ایک مستحکم خوداعتمادی ہوتی ہے اور آپ لوگ جہاں گئے ہیں، وہاں اس مستحکم خود اعتمادی کا تعارف کرایا ہے۔ آپ کہیں پر بھی ہو، کتنے ہی سالوں سے باہر ہوں گے، کتنی ہی پیڑھیوں سے باہر رہے ہوں گے، ہوسکتا ہے، زبان کا ناتا بھی ٹوٹ گیا ہو، لیکن اگر بھارت میں کچھ برا ہوتا ہے، تو آپ کو بھی نیند نہیں آتی۔ اور اگر کچھ اچھا ہوتا ہے تو آپ بھی پھولے نہیں سماتے۔ اور اس لیے موجودہ حکومت کی لگاتار کوشش ہے کہ ملک کو ترقی کی ان بلندیوں پر لے جایا جائے جس سے ہم دنیا کی برابری کرسکیں اور ایک بار برابری کرنے کی قوت حاصل کرلی ، میں نہیں مانتا ہوں کہ ہندوستان کو آگے بڑھنے سے کوئی روک پائے گا۔ کچھ رکاوٹیں جو ہوتی ہیں، وہ ایک مساوی سطح پر پہنچنے تک ہوتی ہیں۔ ایک بار جب اُن دشواریوں پر قابو حاصل کرلیا تو پھر راستہ آسان ہوجاتا ہے۔ اہل ہند کے دل ، دماغ، بازوؤں میں دم ہے اور اس کو آگے جانے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔ اور اس لئے پچھلے تین ساڑھے تین سال سے حکومت کی لگاتار کوشش رہی کہ بھارت کی جو اہلیت ہے، جو سوا سو کروڑ اہل وطن کی قوت ہے، بھارت کے پاس جو قدرتی وسائل ہیں، بھارت کے پاس جو ثقافتی وراثت ہے، بھارت کے لوگ ، جنھوں نے کسی بھی دور میں کوئی بھی دور نکال دیجئے، سو سال پہلے، پانچ سو سال پہلے، ہزار سال پہلے، پانچ ہزار سال پہلے، تاریخ میں ایک بھی واقعہ نظر نہیں آتا، کہ ہم نے کسی کا برا کیا ہو۔
جس ملک کے پاس ، جب میں دنیا کے ملک کے لوگوں سے ملتا ہوں اور جب میں اُن کو بتاتا ہوں کہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم، نہ ہمیں کسی کی زمین لینی تھی، نہ ہمیں کہیں جھنڈا لہرانا تھا، نہ ہمیں دنیاکو قبضہ کرنا تھا۔ لیکن امن کی تلاش میں میرے ملک کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ جوانوں نے شہادت دی تھی۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں امن کے لیے لینا دینا کوچھ نہیں، امن کے لیے ڈیڑھ لاکھ ہندوستانی شہادت مول لے کوئی بھی، کوئی بھی بھارتی سینہ تان کر کہہ سکتا ہے کہ ہم لوگ دنیا کو دینے والے لوگ ہیں، لینے والے لوگ نہیں اور چھیننے والے نہیں قطعی نہیں۔
آج دنیامیں پیس کیپنگ فورس یونائیٹڈ نیشنس سے جڑاہوا کوئی بھی ہندوستانی فخر کرسکتا ہے،کہ آج دنیا میں ہر جگہ پر کہیں بھی تشدد واقع ہوتا ہے اقوام متحدہ کے ذریعے پیس کیپنگ فورس بناکر وہاں امن بنائے رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ پوری دنیامیں پیس کیپنگ فورس میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے کوئی ہیں تو ہندوستان کے سپاہی ہیں۔ آج بھی دنیا کے کئی ایسے خطوں میں بھارت کے جوان تعینات ہیں۔ بدھ اور گاندھی کی سرزمین پر امن کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ نہیں ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے امن و امان سے رہ کر دکھایا ہے۔ امن کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ امن ہماری رگوں میں شامل ہے۔ اور تبھی تو ہمارے اجداد نے وسودھیو کُٹنبھ – دنیا ایک کنبہ ہے، یہ اصول ہمیں دیا ہے۔ جس اصول کو ہم نے جی کر دکھایا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کا مطلب دنیا تب قبول کرتی ہے جب بھارت مضبوط ہو، بھارت باصلاحیت ہو، بھارت زندگی کے ہر شعبے میں نئی بلندیاں حاصل کرنے کے لیے ترقی یافتہ ہو۔ تب جاکر کے دنیا قبو ل کرتی ہے۔ مادی علم کتنا ہی کیوں نہ ہو، تاریخ کتنی شاندار کیوں نہ ہو، وراثت کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو، مستقبل اتنا ہی روشن، تابناک اور شجاعانہ ہونا چاہئے تب جاکر دنیا مانتی ہے۔ اور اس لیے ہمارے شاندار ماضی سے ترغیب حاصل کرنا اس سے سبق حاصل کرنا، جتنا اہم ہے اُتنا ہی، 21ویں صدی اگر ایشیا کی صدی مانی جاتی ہے تو یہ ہم لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ 21ویں صدی ہندوستان کی صدی بنے۔ اور یہ مجھے مشکل نہیں لگتا۔ تین سال، ساڑھے تین سال کے تجربے کے بعد میں کہتا ہوں۔ یہ ممکن ہے۔ پچھلے دنوں آپ نے دیکھا ہوگا ، بھارت سے جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، مثبت خبریں آتی رہتی ہیں۔ اب ڈر نہیں رہتا ہے کہ پتہ نہیں کوئی منفی خبر آجائے گی، آفس جائیں گے تو لوگ کیا کہیں گے۔ اب گھر سے نکلتے ہیں یقین ہوتا ہے کہ ہندوستان سے اچھی خبر ہی آئے گی۔ سوا سو کروڑ کا دیش ہے اس کی قومی دھارا جو ہے۔ سماج کی قومی دھار اہو، سرکار کی قومی دھارا ہو، وہ مثبت ہی چل رہی ہے۔ پوزیٹو کے ارد گردہی چل رہی ہے۔ ہر بار فیصلے ملک کے مفاد میں لیے جارہے ہیں۔ سوا سو کروڑ کا دیش، آزادی کے 70 سال بعد اگر 30 کروڑ کنبے، بینکنگ نظام سے باہر ہوں تو ملک کی معیشت کیسے چلے گی۔
ہم نے بیڑا اٹھایا، جن دھن یوجنا شروع کی، اور زیرو بیلنس ہو تو بھی بینک اکاؤنٹ کھولنا ہے، بینک والوں کو پریشانی ہورہی تھی۔ اور منیلا میں تو بینک کیا دنیا ہے، سب کو پتہ ہے۔ بینک والے مجھ سے جھگڑا کررہے تھے کہ صاحب کم سے کم اسٹیشنری کا پیسہ تو لینے دو، میں نے کہا یہ دیش کے غریبوں کا حق ہے۔ ان کو بینک میں باعزت داخلہ ملنا چاہئے۔ وہ بیچارہ سوچتا تھاکہ ائیرکنڈیشن بینک کے باہر دو بندوق والے کھڑے ہیں وہ غریب جاپائے گا کہ نہیں ۔ اور پھر ساہوکار کے پاس چلا جاتا تھا، اور ساہوکار کیا کرتا تھا یہ ہم جانتے ہیں۔ 30 کروڑ اہل وطن کا زیرو بیلنس سے اکاؤنٹ کھولا۔ اور کبھی کبھی آپ نے امیر قوم کو دیکھا ہوگا۔ میں نے امیروں کو بھی دیکھا ہے، امیروں کی غریبوں کو بھی دیکھا ہے۔ آپ نے غریبوں کو بھی دیکھا ہوگا، لیکن میں نے غریبوں کی امیروں کو دیکھا ہے۔ زیرو بیلنس بینک اکاؤنٹ کھولے تھے۔ لیکن آج میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اُن جن دھن اکاؤنٹ سے ان غریبوں کی سیونگ کی عادت بنی، پہلے بیچارے گھر میں گیہوں میں چھپاکر پیسہ رکھتے تھے، گدے کے نیچے رکھتے تھے، اور وہ بھی اگر شوہر کی عادت خراب ہو، اوروہ کہیں اور خرچ کردیتا تھا۔ وہ مائیں ڈرتی رہتی تھیں۔ آپ کو جان کو خوشی ہوگی کہ اتنے کم وقت میں اُن جن دھن اکاؤنٹ میں 67 ہزار کروڑ روپے غریبوں کا محفوظ ہوا ہے۔ ملک کی اقتصادی ترقی میں غریب عملی طور پر شراکت دار بنا ہے۔ یہ چھوٹی تبدیلی نہیں ہے، جو طاقت، قوت، نظام سے باہر تھی وہ آج نظام کے مرکز میں آگئے۔
ایسے دیگر کئی اقدام ہیں جن پر کبھی غور و خوض نہیں کیا گیا، کسی کے تصور میں بھی نہیں تھے، کچھ لوگوں کو تو یہ پریشانی ہے کہ بھائی ایسا بھی ہوسکتا ہے کیا؟ ہم لوگوں نے تو یہ طے کرلیا تھا اپنا ملک ہے، جیسا ہے، ویسا ہی چلے گا، کیوں چلے گا بھائی، اگر سنگار پور سووچھ ہو سکتا ہے، فلیپنس سووچھ ہوسکتا ہے، منیلا سووچھ ہوسکتا ہے تو ہندوستان کیوں سووچھ نہیں ہوسکتا؟ دیش کا کونسا شہری ہوگا جو گندگی میں رہنا پسند کرتا ہوگا۔ کوئی نہیں چاہتا ہے۔ لیکن کسی کو تو قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ کسی کو تو ذمہ داری لینی پڑتی ہے، کامیابی، ناکامی کی فکر کیے بغیر کام ہاتھ میں لینا پڑتا ہے۔ مہاتما گاندھی جی نے جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے ہم نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے اور سماج کے عام انسان کی معیار زندگی میں کیسےتبدیلی واقع ہوگئی۔
اب ہمارے ملک میں آپ میں سے جو لوگ پچھلے 20، 25، 30 سال میں بھارت سے یہاں آئے ہوں گے۔ یا ابھی بھی بھارت سے رابطے میں ہوں گے تو آپ کو پتہ ہوگا کہ ہمارے یہاں گیس سلنڈر لینا گھر میں گیس کا کنکشن لینا بہت بڑا کام مانا جاتا تھا۔اور گھر میں اگر گیس کنکشن آجائے، سلنڈر آجائے تو قرب و جوار میں ایسا ماحول بنتا تھا جیسے مرسڈیز آگئی ہے۔ یعنی بہت بڑی کامیابی مانی جاتی تھی۔ کہ ہمارے گھر میں اب گیس کا کنکشن آگیا اور گیس کا کنکشن اتنی بڑی چیز ہوا کرتی تھی ۔ ہمارے دیش میں پارلیمنٹ کے ممبران کو 25 کوپن ملتے تھے۔ اس چیز کے لیے، کہ آپ اپنے پارلیمانی حلقے میں سال میں 25 لوگوں کومستفید کرسکتے ہیں۔ بعد میں وہ لوگ کیا کرتے تھے ، وہ کہنا نہیں چاہتا، اخبار میں آتا تھا۔ یعنی گیس سلنڈر کا کنکشن ، آپ کو یاد ہوگا 2014 میں جب پارلیمانی الیکشن ہوئے تو اس وقت ایک طرف بھارتی جنتا پارٹی نے مجھے ذمہ داری دی تھی ، اُس انتخابات کی قیادت کرنے کے لیے۔ وہاں پر ایک میٹنگ ہوئی کانگریس کی پریس کانفرنس ہوئی۔ اس پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا ، یہ کہا گیا کہ اگر 2014 میں ہم جیتیں گے تو ہم سال بھر میں ابھی جو 9 سلنڈر دیتےہیں، 12 سلنڈر دیں گے۔ یاد ہے کہ نہیں یعنی 9 سلنڈر کے 12 سلنڈر۔ اس موضوع پر کانگریس انتخاب لڑرہی تھی۔ یعنی یہ دور کی بات نہیں ہے 2014 تک سوچ کا یہی دائرہ تھا جی، اور ملک بھی تالی بجارہا تھا، اچھا اچھا، بہت اچھا 9 کے 12 مل جائیں گے۔
مودی نے طے کیا کہ وہ میں غریبوں کو دے دوں گا اور 3 کروڑ کنبوں کو مفت گیس کنکشن دینے کی سمت میں ہم کامیابی کے ساتھ آگے بڑھے۔ 3 کروڑ کنبوں کو پہنچا دیا۔ میرا وعدہ پانچ کروڑ کنبوں کا ہے۔ بھارت میں کل کنبے 25 کروڑ ہیں۔ 25 کروڑ کنبے، اس میں سے 5 کروڑ کا وعدہ ہے، تین کروڑ کردیا ہے۔ اچھا، اس میں بھی کچھ کمال ہے جو اپنے گھر کے لوگ ہیں تو کچھ بات کرسکتا ہوں۔ کبھی کبھی حکومت کی سبسڈی جاتی تھی تو لگتا تھا کہ لوگوں کا بھلا ہوتا ہوگا۔ تو میں نے کیا کیا، آدھار کے ساتھ اس کو جوڑ دیا۔ بائیو میٹرک آئیڈینٹی فیکیشن تو اس کی وجہ سے معلوم ہوا کہ ایسے ایسے لوگوں کو سبسڈی دی جاتی تھی جو پیدا ہی نہیں ہوئے۔ ان کو نہ ملے، اتنا سا کام ، کیا بڑا کام نہیں کیا۔ اتنا ہی کیا، نتیجہ کیا نکلا ،معلوم ہے ، 57 ہزار کروڑ روپے بچ گئے۔ اور یہ ایک مرتبہ نہیں بچے یہ ہر سال 57 ہزار کروڑ جاتا تھا۔ اب بتائیے کہاں جاتا تھا بھائی۔ اب جن کی جیب میں جاتا تھا، ان کو مودی کیسا لگے گا، وہ کبھی فوٹو نکالنے کے لیے آئے گا کیا؟ آئے گا کیا؟ وہ مودی کو پسند کرے گا کیا؟ مجھے بتائیے کام کرنا چاہئے کہ نہیں کرنا چاہئے؟ دیش میں تبدیلی آنی چاہئے کہ نہیں؟ سخت فیصلے لینے چاہئے کہ نہیں کرنے چاہئیں؟ ملک کو آگے لے جانا چاہئے کہ نہیں لے جانا چاہئے؟
آپ لوگ آکر مجھے دعاؤں سے نوازرہے ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ۔ جس مقصد کے لیے ملک نے مجھے کام سونپا ہے اس مقصد کو پورا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑوں گا۔ 2014 سے قبل خبریں آتی تھیں، کتنا گیا، کوئلے میں گیا، 2جی میں گیا، ایسی ہی خبریں آتی تھیں نا۔ 2014 کے بعد مودی سے کیا پوچھا جاتا ہے، مودی جی بتائیے کہ کتنا آیا؟ دیکھے یہ تبدیلی ہے۔ وہ بھی ایک وقت تھا، جب ملک پریشان تھا، کتنا گیا، آج وقت ہے کہ دیش، خوشی کی خبر سننے کے لیے پوچھتا رہتا ہے کہ مودی جی بتائیے کتنا آیا۔
ہمارے دیش میں کوئی کمی نہیں ہے دوستوں ، دیش میں آگے بڑھنے کے لئے ہر طرح کے امکانات ہیں، ہر طرح کی قوت موجود ہے، اسی طرح کی اہم پالیسیوں کے ساتھ ہم آگے چل رہے ہیں۔ ملک، ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور عوام کی شراکت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ عام سے عام انسان کو ساتھ لےکر چل رہے ہیں اور اس کے نتائج اتنے اچھے نکلیں گے کہ آپ بھی طویل عرسے تک یہاں رہنا پسند کریں گے۔ تو مجھے اچھا محسوس ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں آکر آپ لوگوں نے مجھے اپنی دعاؤں سے نوازا۔
بہت بہت شکریہ
***********
(م ن ۔ ۔ ن ر۔ 14.11.2017 )
U – 5693
I have come to a nation and a region that is very important for India: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 13, 2017
Our efforts are aimed at transforming India and ensuring everything in our nation matches global standards: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 13, 2017
India has always contributed to world peace. Our contingent in the UN Peacekeeping Forces is among the biggest. India is the land of Mahatma Gandhi, peace is integral to our culture: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 13, 2017
I thank the Indian community in the Philippines for the warmth. Interacted with the diaspora during the community programme in Manila. Sharing my speech on the occasion. https://t.co/vdbSQlJKss pic.twitter.com/CftYOHCRTX
— Narendra Modi (@narendramodi) November 13, 2017