پی ایم انڈیا
نئیدہلی07فروری۔وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والے مرکزی کابینہ کی اجلاس میں بیننگ آف اَن ریگولیٹیڈ ڈپازٹ اسکیم بل 2018 میں سرکاری ترمیم کی تجویز کی منظوری دے دی گئی ۔ یہ منظوری مالیاتی امور پر قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کے لئے دی گئی ہے۔ غیر ضابطہ بند ڈپازٹ اسکیموں کا بل یعنی ان ریگولیٹیڈ ڈپازٹ اسکیم 2018 پارلیمنٹ میں 18 جولائی 2018 کو پیش کیا گیا تھا،جو مالیہ امور کی قائمہ کمیٹی ( ایس سی ایف ) کو بھیج دیا گیا تھا ۔ اس کمیٹی نے مذکورہ بل پر اپنی 17ویںرپورٹ 3 جنوری 2019 کو پارلیمنٹ میں پیش کردی ۔غیر ضابطہ بند ڈپازٹ اسکیم بل میں ترمیم سے اس بل کو ناجائز ڈپازٹ اسکیموں کی وبا پر موثر طریقے سے قابو پانے کے مقصدسے استحکام حاصل ہوسکے گا۔
خاص خاص باتیں :
بیننگ آف ان ریگولیٹیڈ ڈپازٹ اسکیم 2018 یعنی غیر ضابطہ بند ڈپازٹ اسکیموںکا بل 18 جولائی 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس بل کی قانونی حیثیت اختیار کرنے کے بعد ملک میں غیر قانونی طریقے سے ڈپازٹ اسکیمیں چلانے کی وبا پر سختی سے ساتھ قابو پایا جاسکے گا۔ جس میں ( الف )غیر ضابطہ بند ڈپازٹ لینے کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کیا جانا ۔(ب) غیر ضابطہ بند ڈپازٹ اسکیمیں چلانے یا انہیں فروغ دینے والوںکوسخت سزائیں دیا جانا ، (ج) رقم جمع کرانے والوں کے ساتھ کی جانے والی جعل سازی کی پاداش میں سخت سزا دیا جانا بھی شامل ہے۔(د) ڈپازٹ لینے والے ادارے کی نادہندگی کی صورت میں جمع کرائی گئی رقم کی باز ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے ریاستی سرکار وں کے ذریعہ ایک افسر مجاز کا تقرر اور ادارہ مجاز کی تشکیل ۔( ہ) اس ادارے کے فرائض اور اختیارات میں نادہند اداروں کے اثاثہ جات ضبط کیا جانا بھی شامل ہے۔(و) رقم جمع کرانے والوں کو باز ادائیگی کئے جانے کے معاملات کافیصلہ کرنے اور اس قانون کے تحت مقدمہ چلائے جانے کے لئے ایک خصوصی عدالت کی تشکیل اور (ح ) اس بل میں ضابطہ بند ڈپازٹ اسکیموںکی فہرست شامل ہے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔س ش ۔رم
U-748