Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

مرکزی کابینہ نے ٹیچروں کی تعلیم کی قومی کونسل کے قانون 1993 میں ترمیم منظوری دے دی ہے


نئی دہلی 01 نومبر/ مرکزی کابینہ نےجس کی صدارت، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کی، ٹیچروں کی تعلیم کی قومی کونسل کے قانون 1993 میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اب اس کا نام ٹیچروں کی تعلیم کی قومی کونسل (ترمیمی قانون 2017) ہوگا۔ اس کا مقصد ان مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں کو پچھلی تاریخ سے تسلیم کرنا ہے جو این سی ٹی ای کی اجازت کے بغیر ٹیچروں کی تعلیم کے کورس چلا رہی ہیں۔

اس ترمیم کا مقصد مرکزی/ ریاستی / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے فنڈ سے چلنے والے ان اداروں اور یونیورسٹیوں کو پچھلی تاریخ سے تسلیم کرنا ہے جو این سی ٹی ای کی منظوری کے بغیر 2017-18 تک ٹیچروں کی تعلیم کے کورس چلا رہی ہوں گی۔پچھلی تاریخوں سے تسلیم کرنے کی یہ کارروائی صرف ایک مرتبہ کے لیے ہے اور اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو طلبا ان اداروں سے امتحان پاس کرچکے ہیں یا ابھی زیر تعلیم ہیں ان کے مستقبل کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

اس ترمیم کے ذریعے ان طلبا کو جو ان اداروں / یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں یا ان سے پہلے ہی کامیاب ہوکر نکل چکے ہیں ایک ٹیچر کے طور پر روزگار کا اہل قرار دیا جاسکے۔ ان مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے تحت اسکولی تعلیم اور لائبریری سے متعلق شعبے نے یہ ترمیمات کی ہیں۔

ٹیچروں کی تعلیم کے کورس مثلا بی ایڈ اور ڈی ای آئی ای ڈی چلانے والے تمام اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ این سی ٹی ای قانون کی دفعہ 14 کے تحت ٹیچروں کی تعلیم کی قومی کونسل سے اپنی حیثیت تسلیم کرائیں۔ اس کے علاوہ اس طرح کے تسلیم شدہ اداروں / یونیورسٹیوں کے نصابوں کی بھی این سی ٹی ای قانون کی دفعہ 15 کے تحت اجازت حاصل کی جائے۔

این سی ٹی ای نے تمام مرکزی یونیورسٹیوں اور ریاستی اداروں / ریاستی یونیورسٹیوں اور تعلیم و تربیت کے ضلع اداروں (ڈی آئی ای ٹی ایس) کو مطلع کیا تھا کہ وہ قانونی ضابطوں کا خیال رکھیں جس کے تحت ٹیچروں کی تعلیم کے کورس چلانے کے لیے پہلے سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہے اور اس کے لیے انھیں 31 مارچ 2017 تک این سی ٹی ای کو اس صورت میں کہ اس طرح کے اداروں یا یونیورسٹیوں نے ای سی ٹی ای کی اجازت کے بغیر اس طرح کے کورس چلا رکھے ہیں، مطلع کرنا لازمی ہے اور ماضی کے مسائل کی صرف ایک مرتبہ کے لیے حل کی تجویز سے مطلع کیا جانا چاہیے۔

پس منظر

این سی ٹی ای قانون 1993 یکم جولائی 1995 کو عمل میں آیا تھا اور اس کا اطلاق ریاست جموں وکشمیر کو چھوڑ کر پورے ملک پر ہوتا ہے۔ اس قانون کا اصل مقصد این سی ٹی ای کا قیام ہے تاکہ ٹیچروں کے تعلیمی نظام کا منصوبہ بند اور مربوط فروغ ہوسکے اور اس نظام کے ضابطوں اور معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ قانون کے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے قانون میں علاحدہ سے ضابطے بنائے گئے ہیں جن کے تحت ٹیچروں کی تعلیم کے کورسوں کو تسلیم کیا جاتا ہے اور تسلیم شدہ اداروں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے ان پر عمل درآمد کے لیے رہنما خطوط مرتب کئے جاتے ہیں۔

************

(م ن ۔ج ۔ را۔ 01.11.2017 )
U – 5459