پی ایم انڈیا
کامرس ، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وزیر عزت مآب قیص ال یوسف ،
دونوں ممالک کے مندوبین ،
کاروباری دنیا کے لیڈر ،
خواتین و حضرات!
نمسکار ۔
مجھے سات سال بعد عمان آنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور آج مجھے آپ سب کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع مل رہا ہے ۔
اس بزنس سمٹ کے لیے آپ کی گرمجوشی بھی میرا بھی جوش بڑھا رہی ہے ۔ آج کی سربراہ کانفرنس بھارت-عمان شراکت داری کو ایک نئی سمت دے گی ، ایک نئی رفتار دے گی اور نئی بلندیوں تک پہنچنے میں مدد کرے گی ۔ اور اس میں آپ سبھی کا بہت بڑا رول ہے ۔
دوستو ،
آپ ہندوستان اور عمان کے کاروبار ، ہماری تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ آپ ایک ایسی وراثت کے وارث ہیں جس کی صدیوں کی بھرپور تاریخ ہے۔ تہذیب کے آغاز سے ہی ہمارے آباؤ اجداد ایک دوسرے کے ساتھ سمندری تجارت کر رہے تھے ۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ سمندر کے دونوں کنارے بہت دور ہوتے ہیں ، لیکن مانڈوی اور مسقط کے درمیان بحیرہ عرب ایک مضبوط پل بن گیا ہے ۔ ایک ایسا پل جس نے ہمارے رشتوں کو مضبوط کیا ، ہماری ثقافت اور معیشت کو طاقت دی ۔ آج ہم اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ سمندر کی لہریں بدلتی ہیں ، موسم بدلتا ہے ، لیکن ہندوستان اور عمان کی دوستی ہر موسم کے ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے ، اور ہر لہر کے ساتھ نئی بلندیوں کو چھوتی ہے ۔
دوستو ،
ہمارا رشتہ اعتماد کی بنیاد پر بنا تھا ، دوستی کی طاقت سے بڑھا اور وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا ۔
آج ہمارے سفارتی تعلقات بھی ستر سال کے ہو گئے ہیں ۔ یہ صرف ستر سال کا جشن نہیں ہے ، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سے ہمیں اپنے صدیوں پرانے ورثے کو خوشحال مستقبل کی طرف لے جانا ہے ۔
دوستو ،
آج ہم ایک تاریخی فیصلہ لے رہے ہیں جس کی گونج آنے والی کئی دہائیوں تک سنائی دے گی۔ جامع اقتصادی شراکت داری سمجھوتہ یعنی ایس آئی پی اے اکیسویں صدی میں ہماری شراکت داری کو نئے اعتماد اور نئی توانائی سے بھردے گا ۔ یہ ہمارے مشترکہ مستقبل کا خاکہ ہے ۔ اس سے ہماری تجارت کو نئی رفتار ملے گی ، سرمایہ کاری کو نیا اعتماد ملے گا اور ہر شعبے میں مواقع کے نئے دروازے کھلیں گے ۔
ایس آئی پی اے ہمارے نوجوانوں کے لیے ترقی ، اختراع اور روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا کرے گا ۔ اس معاہدے کو کاغذ سے نکالنے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں آپ سب کا بڑا رول ہے ۔ کیونکہ جب پالیسی اور کاروبار ایک ساتھ چلتے ہیں تب ہی شراکت داری نئی تاریخ رقم کرتی ہے ۔
دوستو،
ہندوستان کی ترقی ہمیشہ مشترکہ ترقی کی کہانی رہی ہے ۔ جب ہندوستان ترقی کرتا ہے تو وہ اپنے دوستوں کو اپنا ترقی کا شراکت دار بناتا ہے ۔ آج بھی ہم یہی کر رہے ہیں ۔
آج ہندوستان تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اس میں پوری دنیا کے لیے مواقع ہیں ، لیکن عمان کے لیے فائدہ اور بھی بڑا ہے ۔
کیونکہ ہم پکےدوست تو ہیں ہی ، بحری لحاظ سے پڑوسی بھی ہیں ۔ ہمارے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ، ہماری کاروباری دنیا میں پیڑھیوں کا بھروسہ ہے اور ہم ایک دوسرے کے بازار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں ہندوستان کے ترقی کے سفر میں عمان کے لیے مواقع ہی مواقع ہیں ۔
دوستو ،
آج کاروباری دنیا میں ہندوستان کی معیشت کی مضبوطی کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ دنیا میں اتنی غیر یقینی صورتحال ہے ، عالمی معیشت بھی مشکلات میں ہے ، تو ایسی صورتحال میں ہندوستان آٹھ فیصد سے زیادہ ترقی کیسے حاصل کر رہا ہے ؟ میں آپ کواس کی سب سے بڑی وجہ بتاتاہوں۔
درحقیقت گزشتہ 11 سالوں کے دوران بھارت نے نہ صرف پالیسیاں تبدیل کی ہیں بلکہ بھارت نے اپنا اقتصادی ڈی این اے بھی تبدیل کیا ہے ۔
میں آپ کو کچھ مثالیں دیتا ہوں ، جیسے اشیا اور خدمات کا ٹیکس یعنی جی ایس ٹی نے پورے ہندوستان کو ایک مربوط ، متحد بازار میں تبدیل کر دیا ہے ۔ انسولوینسی اور بینک رپسی کوڈ سے مالیاتی نظم و ضبط آیا ، شفافیت کو فروغ ملا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوا۔ اس طرح ہم نے کارپوریٹ ٹیکس اصلاحات کیں ۔ اس سے بھارت دنیا کے سب سے زیادہ مسابقتی سرمایہ کاری مقامات میں سے ایک بن گیا ہے۔
دوستو،
ابھی آپ نے لیبر اصلاحات کا تذکرہ سنا ہوگا۔ ہم نے درجنوں لیبر کوڈز کو صرف چار کوڈز میں سمیٹ دیا ہے ۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اصلاحات میں سے ایک ہے ۔
دوستو ،
جب پالیسی واضح ہوتی ہے تو مینوفیکچرنگ کو بھی نیا اعتماد ملتا ہے ۔ ایک طرف ہم پالیسی اور عمل کی اصلاحات کر رہے ہیں ، دوسری طرف ہم ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبات بھی دے رہے ہیں ۔ اس طرح کی کوششوں سے میک ان انڈیا مہم کو لے کر آج دنیا میں کافی جوش و خروش ہے ۔
دوستو،
ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر نے اصلاحات کو مزید تقویت دی ہے ۔ حکمرانی پیپر لیس ہو گئی ہے ، معیشت نقدی کے بغیر ہو گئی ہے ، اور یہ نظام کہیں زیادہ موثر ، شفاف اور قابل پیش گوئی ہو گیا ہے ۔
ڈیجیٹل انڈیا صرف ایک پروجیکٹ نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ‘شمولیتی انقلاب’ بھی ہے ۔ اس سے زندگی گزارنے میں آسانی میں اضافہ ہوا ہے اور کام کرنے میں آسانی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ اور ہندوستان میں بنایا جا رہا جدید فزیکل انفراسٹرکچر اسے اور بھی بہتر بنا رہا ہے ۔ بہتر کنیکٹیویٹی کی وجہ سے ہندوستان میں لاجسٹکس کی لاگت مسلسل کم ہو رہی ہے ۔
دوستو ،
ہندوستان سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ، ہندوستان ایک قابل اعتماد ، مستقبل کے لیے تیار شراکت دار ہے ۔ اور عمان اسے اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس کی ستائش بھی کرتا ہے ۔
ہمارا مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کئی سالوں سے دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے ۔ توانائی ہو ، تیل اور گیس ہو ، کھاد ہو ، صحت ہو ، پیٹروکیمیکل ہو ، گرین انرجی ہو ، ایسے ہر شعبے میں نئے امکانات پیدا کیے جا رہے ہیں ۔
لیکن ساتھیو ، بھارت اور عمان صرف اتنے سے مطمئن نہیں ہیں ۔ ہم کمفرٹ زون میں نہیں رہتے ۔ ہمیں بھارت اور عمان کی شراکت داری کو اگلی سطح پر لے جانا ہے ۔ اس کے لیے دونوں ممالک کی کاروباری دنیا کو اپنے لیے کچھ بڑے اہداف طے کرنے ہوں گے ۔
آپ کا یہ کام میں کچھ ہلکا کردیتا ہوں۔ میں آپ کو کچھ چیلنجز دیتا ہوں۔ کیا ہم سبز توانائی میں مل کر کچھ بڑا کر سکتے ہیں ؟ کیا ہم اگلے پانچ سالوں میں پانچ بڑے گرین پروجیکٹ شروع کر سکتے ہیں ؟ ہمیں گرین ہائیڈروجن ، گرین امونیا ، سولر پارکس ، انرجی اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈ کے شعبے میں نئے معیارات قائم کرنے ہیں ۔
دوستو ،
توانائی کی یقینی فراہم جتنی ضروری ہے اتنی ہی ضروری خوراک کی فراہمی بھی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ ایک بڑا عالمی چیلنج بننے والا ہے ۔ کیا ہم مل کر بھارت- عمان ایگری انوویشن ہب بنا سکتے ہیں ؟ اس سے عمان کی غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی اور ہندوستان کی زرعی ٹیکنالوجی کو عالمی منڈی تک لے جانے میں مدد ملے گی ۔
دوستو ،
زراعت تو ایک شعبہ ہے ۔ اسی طرح ہر شعبے میں اختراع کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ ایسے میں کیا ہم “عمان-انڈیا انوویشن برج” قائم کر سکتے ہیں ؟ ہمیں یہ طے کرکے چلنا ہوگا کہ آنے والے دو برسوں میں 200 بھارتی اور عمانی اسٹارٹ اپ کو ہم جوڑیں۔
ہمیں مشترکہ انکیوبیٹرز ، فنٹیک سینڈ باکسز ، اے آئی اور سائبرسیکیوریٹی لیبز بنانے ہوں گے اور کراس بارڈر وینچر فنڈنگ کو فروغ دینا ہوگا۔
دوستوں ،
یہ صرف خیالات نہیں ہیں ، یہ ایک دعوت ہے ۔
سرمایہ کاری کی دعوت ۔
اختراع کے لیے دعوت ۔
ایک ساتھ مل کر مستقبل کی تعمیر کی دعوت ۔
آئیے ہم اس پرانی دوستی کو نئی ٹیکنالوجی ، نئی توانائی اور نئے خوابوں کی طاقت سے آگےبڑھائیں۔
شکراً جزیلاً
شکریہ
*****
ش ح۔ ش ب ۔ج
Speaking at the India-Oman Business Summit in Muscat. This forum will infuse new energy into our business ties and unlock growth opportunities.
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
https://t.co/BRkC1MySbA
समंदर की लहरें बदलती हैं... मौसम बदलते हैं... लेकिन भारत–ओमान की दोस्ती हर मौसम में और मज़बूत होती है...और हर लहर के साथ नई ऊंचाई छूती है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2025
आज हम एक ऐसा ऐतिहासिक निर्णय ले रहे हैं, जिसकी गूँज आने वाले कई दशकों तक सुनाई देगी।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2025
Comprehensive Economic Partnership Agreement… यानि CEPA, हमारी partnership को, 21st century में नया विश्वास, नई ऊर्जा देगा: PM @narendramodi
बीते 11 वर्षों के दौरान भारत ने सिर्फ़ policies नहीं बदली हैं... भारत ने अपना economic DNA बदला है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2025
Goods and Services Tax यानि GST है...इसने पूरे भारत को एक integrated, unified market में बदल दिया है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2025
Insolvency and Bankruptcy Code से financial discipline आया... transparency को बढ़ावा मिला... और इससे investor confidence मज़बूत हुआ: PM @narendramodi
हमने दर्जनों labour codes को सिर्फ चार codes में समेट दिया है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2025
ये भारत के इतिहास के सबसे बड़े labour reforms में से एक हैं: PM @narendramodi
The waves of the sea may change, the seasons may change, but the friendship between India and Oman grows stronger in every season and reaches new heights. pic.twitter.com/PO9WaumwAM
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
India’s growth and reform trajectory is being discussed globally. pic.twitter.com/yoObN0Dibr
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
We want to take the India-Oman business partnership to the next level. There is immense potential in sectors like green energy. pic.twitter.com/VKpleSHlt9
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
Agriculture and food security will be important issues in the times to come. India and Oman can work closely on these subjects. Similarly, our StartUps can also collaborate and strengthen the innovation ecosystem. pic.twitter.com/1IrysAVbwV
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
At the Business Forum in Muscat this morning, which was attended by industry representatives from India as well as Oman, highlighted the rich potential to deepen economic linkages. Also invited businesses from Oman to invest and innovate in India. pic.twitter.com/g7sRehMwZM
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
قد تتغير أمواج البحر، وقد تتغير الفصول، لكن الصداقة بين الهند وسلطنة عمان تزداد قوة في كل فصل وتصل إلى آفاق جديدة. pic.twitter.com/nCiSU5mrVt
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
نسعى إلى الارتقاء بالشراكة التجارية بين الهند وسلطنة عمان إلى مستوى جديد. هناك إمكانات هائلة في قطاعات مثل الطاقة النظيفة. pic.twitter.com/jNiZB1i9K1
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
ستُشكّل الزراعة والأمن الغذائي قضايا بالغة الأهمية في المستقبل القريب. ويمكن للهند وسلطنة عُمان التعاون بشكل وثيق في هذه المجالات. وبالمثل، يُمكن لشركاتنا الناشئة التعاون لتعزيز بيئة الابتكار. pic.twitter.com/ctsgyvH3QV
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025
خلال منتدى الأعمال الذي عُقد صباح اليوم في مسقط، والذي حضره ممثلون عن قطاع الأعمال من الهند وسلطنة عُمان، تم تسليط الضوء على الإمكانات الكبيرة لتعزيز الروابط الاقتصادية بين البلدين. كما دُعيت الشركات العُمانية إلى الاستثمار والابتكار في الهند. pic.twitter.com/4n9e6AhBS1
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2025