Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

ممبئی میں انڈیا-فرانس انوویشن فورم کے افتتاح کے دوران وزیر اعظم کے خطاب کا متن


عزت مآب، میرے عزیز دوست، صدر میکرون، دونوں ممالک کے اختراع کارو، نمسکار! بونژوخ!

آج کے دن دنیا کے دو بڑے اختراعی مراکز ایک ساتھ آ رہے ہیں۔ جب ہم بھارت اور فرانس کی بات کرتے ہیں، تو ہمارا رشتہ اختراع کے ساتھ ساتھ اعتماد اور مشترکہ اقدار کا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ صدر میکرون اور میں نے سال 2026 کوبھارت-فرانس اختراعی سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ محض ایک جشن ہی نہیں، یہ ہمارا مشترکہ عزم بھی ہے۔ اختراع کرنے کا عزم، قیادت کرنے کا عزم۔

ساتھیو!

بھارت اور فرانس نے اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے متعدد شعبوں میں مل کر کام کیا ہے، اس سے ہمارے جس باہمی اعتماد کو مضبوطی ملی ہے، اس نے ہمارے تعلقات کو خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم سنگ میل تک پہنچا دیا ہے۔ آنے والے وقت میں، ہر شعبے میں ہماری اجتماعی تخلیقی صلاحیت پوری دنیا کے بہتر مستقبل کو یقینی بنائے گی۔

ساتھیو!

بھارت اپنے ہزاروں سال کے سفر میں ریاضی، طب، دھات کاری اور فنِ تعمیر جیسے متعدد شعبوں میں انسانی بہبود کے لیے اختراعات کرتا رہا ہے اور اب 21ویں صدی میں بھی بھارت کے نوجوان عالمی بھلائی کے لیے اختراع  کے اس سفر پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ دیکھیے، بھارت کے متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے لے کر ہماری عالمی معیار کی ریسرچ لیبز تک ایک نیا ’کین ڈو آپٹیمزم‘ ابھر رہا ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا پروگرام سے ایک ہی دہائی میں بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے۔ 2014 میں بھارت میں جہاں صرف چار یونیکورنز تھے، آج بھارت میں 120 سے زیادہ یونیکورنز ہیں۔ ان کی کل مالیت 350 بلین ڈالر سے زیادہ یا تقریباً 300 بلین یورو ہے۔ آج دنیا کی تقریباً ہر بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بھارت کے اسٹارٹ اپ، بھارت کی اختراع سے کسی نہ کسی شکل میں جڑی ہوئی ہے۔

ساتھیو!

گزشتہ ایک دہائی میں ہم نے اسکولوں سے لے کر صنعتوں تک اختراع کے لیے ایک سازگار ماحول  تیار کیا ہے۔ اسکولوں میں اٹل ٹنکرینگ لیبز سے لے کر رہنمائی، اسکالرشپ اور اسٹارٹ اپ کیپیٹل تک آج ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ آج بھارت دنیا کے سب سے بڑے ہیکاتھون ایکو سسٹمز  میں سے ایک ہے۔ یہاں پرائیویٹ سیکٹر کی ریسرچ انوویشن اسکیم کے ذریعے براہ راست تعاون مل رہا ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا 2.0 سے ڈیپ ٹیک اختراعات کے لیےکیپٹل موبلائزیشن کیا جا رہا ہے۔

ساتھیو!

ہمارا اٹل انوویشن مشن آنے والی 24 فروری کو ایک دہائی مکمل کرے گا اور اتنے ہی وقت میں یہ دنیا کے سب سے بڑے نچلی سطح کے اختراعی مشنوں  میں سے ایک بن چکا ہے۔ ہماری 10,000 سے زیادہ ٹنکرنگ لیبز آج 1 کروڑ سے زیادہ طلباء اور اختراع کاروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اس مشن سے 100 سے زیادہ انکیوبیٹرز اور کئی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ میں آج یہاں موجود صنعت کے تمام سرکردہ افراد سے بھی خصوصی درخواست کروں گا کہ آپ اٹل انوویشن مشن کے ساتھ ضرور جڑیں۔

ساتھیو!

وکست بھارت کے سفر کو اختراع کا انجن چاہیے، اس لیے اس سال کے بجٹ میں بھی ہم نے اختراعی ماحول کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ مواد کی تخلیق کو مضبوطی دینے کے لیے 15,000 اسکولوں اور 500 کالجوں میں کنٹینٹ کری ایٹر لیبز بنائی جائیں گی۔ اے آئی، کوانٹم، بائیو ٹیک، سیمی کنڈکٹر اور کلین انرجی میں ہم مشن موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ٹیکسٹائل، کیمیکلز، کھیلوں کے سامان، درست اوزار ، الیکٹرانکس، انفراسٹرکچر، ہر شعبے میں اختراع کو فروغ دیں گے۔

ساتھیو!

ہمیں بہت فخر ہے کہ بھارت خواتین کی قیادت میں تحقیق اور اختراع  کی ایک روشن مثال بن رہا ہے۔ آج تقریباً 50 فیصد اسٹارٹ اپس میں کم سے کم ایک خاتون ڈائریکٹر ہے۔ ایک بہت بڑی تعداد میں طالبات اسٹیم (ایس ٹی ای ایم) گریجویٹس بن رہی ہیں۔ زراعت، صحت یا پھر خلائی مشنز، خواتین ہر جگہ قیادت کر رہی ہیں۔

ساتھیو!

بھارت کی اس رفتار اور پیمانے کے ساتھ جب فرانس کی طاقت جڑ جاتی ہے، تو دنیا کے لیے نئے راستے بنتے ہیں۔ آج بھی یہاں دونوں ممالک کے بہترین ذہن ایک ساتھ آئے ہیں۔ آج دونوں ممالک ایک دوسرے کے ٹیلنٹ کا کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیں۔ فرانس نے 2030 تک 30 ہزار بھارتی طلباء کا استقبال کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ نوجوان توانائی اور نوجوان ذہنوں کے تال میل کی ایک بہترین کوشش ہے۔

ساتھیو!

سال 2026 بھارت-فرانس تعلقات کے لیے ایک انتہائی خصوصی سال ہے، اس میں عوامی سطح پر تبادلے مزید گہرے ہوں گے، صنعت سے صنعت کی شراکت داری میں وسعت آئے گی۔ آج ہم جیسے بھارت میں اکٹھے ہوئے ہیں، اسی طرح جون 2026 میں فرانس میں ’بھارت انوویٹس 2026‘ کے تحت ہم بھارت کے بہترین ٹیک اسٹارٹ اپس دنیا کے سامنے رکھیں گے، جو صحت، آب و ہوا اور سیکورٹی جیسے عالمی چیلنجوں کے حل تیار کر رہے ہیں۔

ساتھیو!

میں فرانس اور پوری دنیا کے لیڈرز، سی ای اوز، سرمایہ کاروں اور یونیورسٹیوں کو مدعو کرتا ہوں۔ آئیے بھارت کے ساتھ مل کر ایسا مستقبل بنائیں، جہاں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے اور ترقی ہمہ گیر ہو۔ اسی جذبے کے ساتھ آپ سب کو بہت بہت مبارکباد! اور میں اپنے دوست کا بہت مشکور ہوں، جس طرح سے انہوں نے وقت نکالا ہے اور جس طرح کے عمدہ الفاظ انہوں نے کہے ہیں اور جو اعتماد ظاہر کیا ہے بھارت اور فرانس کے تعلقات کے حوالے سے، اس کے لیے ایک اچھے دوست کے طور پر اور بھارت-فرانس کی اچھی دوستی کے طور پر، میں ان کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ!

********

ش ح۔ک ح۔ م ش

U. No. 2619