پی ایم انڈیا
نئی دہلی،25/ نومبر میرے پیارے ہم وطنوں، آپ سب کو نمسکار! 3 اکتوبر 2014 وجے دشمی کا مقدس تہوار ۔ ‘من کی بات’ کے ذریعے ہم سب نے ایک ساتھ، ایک سفر کی شروعات کی تھی۔ ‘من کی بات’، اس سفر کا آج 50واں ایپیسوڈ پورے ہوگئے ہیں۔ اس طرح آج یہ گولڈن جوبلی ایپیسوڈ ہے۔ اس بار آپ کے جو خط اور فون آئے ہیں، زیادہ تر وہ اس 50ویں ایپیسوڈ کے بارے میں ہی ہے۔ مائی گوو پر دلّی کے انشو کمار، امر کمار اور پٹنہ سے وکاس یادو، اسی طرح سے نریندر مودی ایپ پر دلّی کی مونیکا جین، بردوان، ویسٹ بنگال کے پرسین جیت سرکار اور ناگپور کی سنگیتا شاستری ان سب لوگوں نے لگ بھگ ایک ہی طرح کا سوال پوچھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ آپ کو جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور موبائل ایپ کے ساتھ جوڑتے ہیں، لیکن آپ نے اپنے لوگوں کے ساتھ جڑنے کے لیے ریڈیو کو کیوں چنا؟ آپ کا یہ تجسس بہت فطری ہے کہ آج کے دور میں، جب کہ قریب قریب ریڈیو بھلا دیا گیا تھا اس وقت مودی ریڈیو لے کر کے کیوں آیا؟ میں آپ کو ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ یہ 1998 کی بات ہے، میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے ہماچل میں کام کرتا تھا۔ مئی کا مہینہ تھا اور میں شام کے وقت سفر کرتا ہوا کسی اور جگہ پر جا رہا تھا۔ ہماچل کی پہاڑیوں میں شام کو ٹھنڈ تو ہو ہی جاتی ہے، تو راستے میں ایک ڈھابے پر چائے کے لیے رکا اور جب میں نے چائے کے لیے آرڈر کیا تو اس کے پہلے، وہ بہت چھوٹا سا ڈھابہ تھا، ایک ہی شخص خود چائے بناتا تھا، بیچتا تھا۔ اوپر کپڑابھی نہیں تھا ایسے ہی سڑک کے کنارے پر چھوٹا سا ٹھیلہ لگا کے کھڑا تھا۔ اس کے پاس ایک شیشے کے برتن تھا، اس میں سے لڈو نکالا، پہلے بولا صاحب، چائے بعد میں، لڈو کھایئے۔ منھ میٹھا کیجئے۔ میں بھی حیران ہوگیا تو میں نے پوچھا کیا بات ہے گھر میں کوئی شادی-بیاہ کوئی خوشی ومسرت کا موقع ہے کیا! اس نے کہا نہیں نہیں بھائی صاحب، آپ کو معلوم نہیں کیا؟ ارے بہت بڑی خوشی کی بات ہے وہ ایسے اچھل رہا تھا، ایسے امنگ سے بھرا ہوا تھا، تو میں نے کہا کیا ہوا! ارے بولے آج بھارت نے بم پھوڑ دیا ہے۔ میں نے کہا بھارت نے بم پھوڑ دیا ہے! میں کچھ سمجھا نہیں! تو اس نے کہا، دیکھئے صاحب ، ریڈیو سنئے۔ تو ریڈیو پر اسی کی چرچا چل رہی تھی۔ تو اس نے کہا اس وقت ہمارے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے – وہ نیو کلیائی تجربہ کا دن تھا اور میڈیا کے سامنے آکر اعلان کیا تھا اور اس نے یہ اعلان ریڈیو پر بھی سنا تھا اور ناچ رہا تھا اور مجھے بڑا ہی تعجب ہوا کہ اس جنگل کے سنسان علاقے میں، برفیلی پہاڑیوں کے بیچ، ایک عام آدمی جو چائے کا ٹھیلہ لے کر کے اپنا کام کر رہا ہے اور دن بھر ریڈیو سنتا رہتا ہوگا اور اس ریڈیو کی خبر کا اس کے من پر اتنا اثر تھا، اتنا اثر تھا اور تب سے میرے من میں ایک بات بیٹھ گئی تھی کہ ریڈیو عام لوگوں سے جڑا ہوا ہے اور ریڈیو کی بہت بڑی طاقت ہے۔ مواصلات کی پہنچ اور اس کی گہرائی، شاید ریڈیو کی برابری کوئی نہیں کرسکتا یہ میرا اس وقت سے میرے من میں بھرا پڑا ہے اور اس کی طاقت کا میں اندازہ کرتا تھا۔ تو جب میں وزیر اعظم بنا تو سب سے طاقت ور ذرائع کی طرف میرا دھیان جانا بہت فطری تھا۔ اور جب میں نے مئی 2014 میں ایک ‘پردھان-سیوک’ کے طور پر کام سنبھالا تو میرے دل میں خواہش تھی کہ ملک کی ایکتا، ہماری عظیم تاریخ، اس کی عظمت ، ہندوستان کی تنوع، ہماری ثقافتی تنوع، ہمارے سماج کی رگ رگ میں سمائی ہوئی اچھائیاں، لوگوں کی بہادری ،جذبہ،قربانی ،صبر واستقلال ان ساری باتوں کو، ہندوستان کی یہ کہانی عام لوگوں تک پہنچنی چاہئے۔ ملک کے دور دراز گاؤوں سے لے کر میٹرو سٹی تک، کسانوں سے لے کر نوجوان پیشہ وروں تک اور بس اسی میں سے یہ ‘من کی بات’ کے سفر کی شروعات ہو گئی۔ ہر مہینے لاکھوں کی تعداد میں خطوط کو پڑھتے، فون کال سنتے، ایپ اور مائی گوو پر تبصرہ دیکھتے اور ان سب کو ایک دھاگے میں پروکر کے، ہلکی پھلکی بات کرتے کرتے 50 ایپیسوڈ کا ایک سفر، یہ سفر ہم سب نے مل کر طے کر لی ہے۔ حال ہی میں آکاشوانی نے ‘من کی بات’ کاسروے بھی کرایا۔ میں نے ان میں سے کچھ ایسے فیڈ بیک کو دیکھا جو کافی دلچسپ ہیں۔ جن لوگوں کے بیچ سروے کیا گیا ہے، ان میں سے اوسطاً 70 فیصد باضابطہ طور پر ‘من کی بات’ سننے والے لوگ ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو لگتا ہے کہ ‘من کی بات‘ کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے سماج میں مثبت سوچ کے جذبے کو بڑھایا ہے۔ ‘من کی بات’ کے وسیلے سے بڑے پیمانے پر عوامی تحریکوں کو فروغ ملا ہے۔ #indiapositive کو لے کر وسیع پیمانے پر بحث بھی ہوئی ہے۔ یہ ہمارے ہم وطنوں کے من میں بسا مثبت سوچ کا جذبہ کی بھی جھلک ہے۔ لوگوں نے اپنا یہ تجربہ بھی شیئر کیا ہے کہ ‘من کی بات’ سے رضاکارانہ طور پر یعنی خود سے کچھ کرنے کے جذبے کو فروغ ملا ہے۔ ایک ایسی تبدیلی آئی ہے جس نے سماج کی خدمت کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر آگے آرہے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ‘من کی بات’ کے سبب ریڈیو اور بھی پسندیدہ پروگرام ہو رہا ہے۔ لیکن یہ صرف ریڈیو ہی نہیں ہے جس کے ذریعے لوگ اس پروگرام میں جڑ رہے ہیں۔ لوگ ٹی وی ایف ایم ریڈیو، موبائل، انٹرنیٹ، فیس بک لائیو، اور پیری اسکوپ کے ساتھ ساتھ نریندر مودی ایپ کے توسط سے بھی ‘من کی بات’ میں اپنی شراکت داری یقینی بنا رہے ہیں۔ میں من کی بات پریوار کے آپ سبھی کارکنوں کو یہ اعتماد کرنے اور اس کا حصہ بننے کے لیے دلی مبارکباد دیتا ہوں۔
فون کال۔1
‘‘معزز وزیر اعظم صاحب نمستے، میرا نام شالنی ہے اور میں حیدرآباد سے بول رہی ہوں۔ ‘من کی بات’ پروگرام عوام کے درمیان ایک بہت ہی پسندیدہ پروگرام ہے۔ آغاز میں لوگوں نے سوچا کہ یہ پروگرام بھی ایک سیاسی پلیٹ فارم بن کر ہی رہ جائے گا اور تنقید کا موضوع بھی بنا۔ تاہم جیسے جیسے یہ پروگرام آگے بڑھا ہم نے دیکھا کہ سیاست کے مقام پر یہ سماجی مسائل اور چیلنجوں پر ہی مرکوز رہا اور اس طرح میرے جیسے کروڑ عام لوگوں سے جڑتا گیا۔ بتدریج تنقید بھی ختم ہوگئی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ آپ اس پروگرام کو کس طرح سیاست سے دور رکھنے میں کامیاب رہے۔ کیا کبھی آپ کو ایسا خیال نہیں آیا کہ آپ اس پروگرام کو سیاست کے لیے استعمال کر سکیں۔ یا پھر اس پلیٹ فارم سے اپنی حکومت کی کامیابیاں گنا سکیں؟ شکریہ’’۔ (فون کال ختم)
آپ کےفون کال کے لیے بہت بہت شکریہ۔ آپ کی تشویش صحیح ہے۔ در اصل نیتا کو مائک مل جائے اور لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں سننے والے ہوں تو پھر کیا چاہئے؟ کچھ نوجوان دوستوں نے ‘من کی بات’ میں آئے سارے موضوع پر ایک اسٹڈی کی۔ انھوں نے سارے ایپیسوڈ کا وضاحتی تجزیہ کیا اور انھوں نے مطالعہ کیا کہ کون سے لفظ کتنی بار بولے گئے؟ کون سے لفظ ہیں جو بار بار بولے گئے؟ ان کی ایک فائنڈنگ یہی ہے کہ یہ پروگرام غیر سیاسی رہا۔ جب من کی بات پروگرام شروع کیا تھا تبھی میں نے طے کیا تھا کہ نہ اس میں سیاست ہو، نہ اس میں سرکار کی واہ واہی ہو، نہ اس میں کہیں مودی ہو اور میرے اس عزم کو نبھانے کے لیے سب سے بڑی حمایت، سب سے بڑی ترغیب ملی آپ سب سے۔ ہر ‘من کی بات’ سے پہلے آئے خطوط آن لائن تبصرہ، فون کال ان میں سامعین کی توقعات واضح ہوتی ہیں۔ مودی آئے گا اور چلا جائے گا، لیکن یہ ملک اٹل رہے گا، ہماری تہذیب امر رہے گی۔ 130 کروڑ ہم وطنوں کی چھوٹی چھوٹی یہ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اس ملک کو نئی ترغیب میں پرجوش طریقے سے نئی بلندیوں پر لیتی جاتی رہیں گی۔ میں بھی کبھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے بھی بہت تعجب ہوتا ہے۔ کبھی کوئی ملک کے کسی گوشے سے خط لکھ کر کہتا ہے ہمیں چھوٹے دوکانداروں اور آٹو رکشا چلانے والوں ، سبزی بیچنے والوں، ایسے لوگوں سے بہت زیادہ مول بھاؤ نہیں کرنا چاہئے۔ میں خط پڑھتا ہوں، ایسا ہی جذبہ کبھی کسی اور خط میں آیا ہو اس کو ساتھ گوندھ لیتا ہوں۔ دوباتیں میں اپنے تجربے کی بھی اس کے ساتھ شامل کرلیتا ہوں۔ آپ سب کے ساتھ بانٹ لیتا ہوں اور پھر نہ جانے کب یہ باتیں گھر پریوار میں پہنچ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر گھومتی ہیں اور ایک تبدیلی کی جانب بڑھتی رہتی ہیں۔ آپ کی بھیجی ہوئی صفائی مہم کی کہانیوں میں عام لوگوں کے ڈھیر سارے مثالوں نے نہ جانے کب گھر گھر میں ایک ننھاصفائی کا سفیر کھڑا کردیا ہے جو گھر والوں کو بھی ٹوکتا ہے اور کبھی کبھی فون کال کرکے وزیر اعظم کو بھی حکم دیتا ہے۔ کب کسی سرکار کی اتنی طاقت ہوگی کہ ‘بیٹی کے ساتھ سیلفی’ کی مہم ہریانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوکر پورے ملک میں ہی نہیں غیر ملکوں میں بھی پھیل جائے۔سماج کا ہر طبقہ ، مشہور شخصیات سب جڑ جائیں اور سماج میں سوچ کی تبدیلی کی ایک نئی جدید زبان میں، جسے آج کی نسل سمجھتی ہو ایسا جذبہ پیدا کردے۔ کبھی کبھی ‘من کی بات’ کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے لیکن میرے من میں ہمیشہ ہی 130 ہم وطن بسے رہتے ہیں۔ ان کا من میرا من ہے۔ ‘من کی بات’ سرکاری بات نہیں ہے۔ یہ سماج کی بات ہے۔ ‘من کی بات’ ایک حوصلہ مند ہندوستان کی بات ہے۔ ہندوستان کی روح سیاست نہیں ہے۔ ہندوستان کی روح ریاستی طاقت بھی نہیں ہے۔ ہندوستان کی روح سماجی پالیسی ہے اور سماجی طاقت ہے۔ سماجی زندگی کے ہزاروں پہلو ہوتے ہیں ان میں سے ایک پہلو سیاست بھی ہے۔ سیاست سب کچھ ہوجائے یہ صحت مند سماج کے لیے ایک اچھا نظام نہیں ہے۔ کبھی کبھی سیاسی واقعات اور سیاسی لوگ اتنے حاوی ہوجاتے ہیں کہ سماج کی دیگر صلاحیتیں اور جرأتمندی دب جاتی ہے۔ ہندوستان جیسے ملک کے روشن مستقبل کے لیے عوامی صلاحیتیں جرأتمندی کو مناسب مقام ملے، یہ ہم سب کا ایک اجتماعی فریضہ ہے اور ‘من کی بات’ اس سمت میں ایک نرم اور چھوٹی سی کوشش ہے۔
فون کال۔2
‘‘نمستے وزیر اعظم صاحب! میں پرومیتا مکھرجی بول رہی ہوں ممبئی سے۔ سر ‘من کی بات’ پروگرام کا ہر ایپیسوڈ گہری بصیرت سے، معلومات سے، مثبت کہانیوں سے اور عام آدمی کے اچھے کارناموں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ تو میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہر پروگرام سے پہلے آپ کتنی تیاری کرتے ہیں؟’’
(فون کال ختم)
فون کرنے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ! آپ کا سوال ایک طرح سے اپنے پن کے جذبے سے پوچھا گیا سوال ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ‘من کے بات’ کی 50 ایپیسوڈ کی سب سے بڑی حصولیابی یہی ہے کہ آپ وزیر اعظم سے نہیں، جیسے اپنے ایک قریبی ساتھی سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ بس یہی تو جمہوریت ہے۔ آپ نے جو سوال پوچھا ہے اگر میں سیدھے طور پر جواب دوں تو کہوں گا کچھ بھی نہیں۔ درحقیقت ‘من کی بات’ میرے لیے بہت ہی آسان کام ہے۔ ہر بار من کی بات سے پہلے لوگوں کے خطوط آتے ہیں۔ مائی گوو اور نریندر مودی ایپ پر لوگ اپنی رائے شیئر کرتے ہیں۔ ایک ٹال فری نمبر بھی ہے 1800117800 وہاں کال کرکے لوگ اپنے پیغام اپنی آواز میں ریکارڈ بھی کراتے ہیں۔ میری کوشش رہتی ہے کہ من کی بات سے پہلے زیادہ سے زیادہ خطوط اور تبصرے خود پڑھوں، میں کافی سارے فون کال بھی سنتا ہوں۔ جیسے جیسے من کی بات کا ایپیسوڈ قریب آتا ہے تو سفر کے دوران آپ کے ذریعہ بھیجے گئے آئیڈیا اور ان پٹ کو میں بہت ہی باریکی سے پڑھتا ہوں۔
ہر لمحہ میرے ہم وطن، میرے ذہن میں رچے بسے ہوتے ہیں اور اس لیے جب بھی کوئی خط پڑھتا ہوں تو خط لکھنے والے کی حالت، اس کے احساسات میرے خیال کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ خط میرے لیے صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہتا ہے اور ویسے ہی میں نے تقریبا 45-40 سال نامساعد حالات میں ایک خانہ بدوش کی زندگی گزاری ہے اور ملک کے زیادہ ضلعوں میں گیا ہوں اور ملک کے دور دراز ضلعوں میں میں نے کافی وقت گزارا ہے اور اس کی وجہ سے جب میں خط پڑھتا ہوں تو میں اس مقام اور پس منظر سے آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑ پاتا ہوں پھر میں کچھ حقیقی چیزوں کو جیسے گاؤں، فرد کے نام، ان چیزوں کو نوٹ کر لیتا ہوں۔ سب پوچھو تو من کی بات میں آواز میری ہے لیکن مثالیں، جذبات اور روح میرے ہم وطنوں کی ہی ہیں۔ میں ‘من کی بات’ میں اپنا حصہ دینے والے ہر شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ایسے لاکھوں لوگ ہیں جن کا نام میں آج تک من کی بات میں نہیں لے پایا لیکن وہ بغیر نا امید ہوئے اپنے خط، اپنے تبصرے بھیجتے ہیں، آپ کے خیالات، آپ کے جذبات میری زندگی میں بہت ہی اہمیت رکھتی ہیں۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ آپ سبھی کی باتیں پہلے سے کئی گنا زیادہ مجھے ملیں گی اور ‘من کی بات’ پروگرام کو مزید دلچسپ اور مؤثر اور مفید بنائے گا۔ یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ جو خط ‘من کی بات’ میں میں شامل نہیں ہوئے ان خطوں اور آراء پر متعلقہ محکمہ بھی دھیان دے۔ میں آکاشوانی، ایف ایم ریڈیو، دور درشن، دیگر ٹی وی چینلوں، سوشل میڈیا کے اپنے ساتھیوں کو بھی مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ ان کی کاوشوں سے من کی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ پاتی ہیں۔ آکاشوانی کی ٹیم ہر ایپیسوڈ کو متعدد زبانوں میں نشر کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ کچھ لوگ بخوبی علاقائی زبانوں میں مودی سے ملتی جلتی آواز میں اور اسی لہجے سے من کی بات سناتے ہیں۔ اس طرح سے وہ اس 30 منٹ کے لیے نریندر مودی ہی بن جاتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو بھی ان کی صلاحیت اور ہنرمندی کے لیے مبارکباد دیتا ہوں، شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آپ سب سے بھی یہ اپیل کروں گا کہ اس پروگرام کو اپنی علاقائی زبانوں میں بھی ضرور سنیں۔ میں میڈیا کے اپنے ان ساتھیوں کو دلی مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو اپنے چینلوں پر من کی بات کو ہر بار باقاعدگی سے نشر کرتے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی شخص میڈیا سے کبھی بھی خوش نہیں ہوتا ہے اسے بہت کم کوریج ملتا ہے یا جو کوریج ملتا ہے وہ منفی ہوتا ہے۔ لیکن من کی بات میں اٹھائے گئے کئی موضوعات کو میڈیا نے اپنا بنا لیا ہے۔ صفائی، سڑک تحفظ، منشیات سے پاک ہندوستان، بیٹیوں کے سیلفی جیسے کئی موضوعات ہیں جنھیں میڈیا نے اختراعی انداز سے ایک مہم کی شکل دے کر آگے بڑھانے کا کام کیا۔ ٹی وی چینلوں نے اس کو سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ریڈیو پروگرام بنا دیا۔ میں میڈیا کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کے تعاون کے بنا من کی بات کا یہ سفر ادھورا ہی رہتا۔
فون کال-3
‘‘نمسے مودی جی! میں ندھی بہوگنا بول رہی ہوں مسوری اتراکھنڈ سے۔ میں دو جوان بچوں کی ماں ہوں میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ اس عمر کے بچے یہ پسند نہیں کرتے کہ انھیں کوئی بتائے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟ چاہے وہ ٹیچر ہوں یا وہ ان کے والدین ہوں لیکن جب آپ کے ‘من کی بات’ ہوتی ہے اور آپ بچوں سے کچھ کہتے ہیں تو وہ دل سے سمجھتے ہیں اور اس بات کو کرتے بھی ہیں تو آپ ہم سے اس راز کو شیئر کریں گے کیا؟ کیا جس طرح سے آپ بولتے ہیں یا جو آپ مسئلہ اٹھاتے ہیں کہ وہ بچے اچھی طرح سمجھ کے نافذ کرتے ہیں۔ شکریہ!’’ (فون کال ختم)
ندھی جی، آپ کے فون کال کے لیے بہت بہت شکریہ۔ در اصل میں کہوں تو میرے پاس تو کوئی راز نہیں ہے جو میں کر رہا ہوں وہ سبھی کنبوں میں بھی ہوتا ہوگا۔ سادہ زبان میں کہوں تو میں اپنے آپ کو اس نوجوان کے اندر ڈھال لینے کی کوشش کرتا ہوں، خود کو اس کی کیفیت میں رکھ کر اس کے خیالات کے ساتھ ایک آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک ویب لینتھ میچ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہماری خود کی زندگی کے وہ پرانے خیالات ہیں جب وہ بیچ میں نہیں آتے ہیں تو کسی کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی ہماری عصبیت کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ میرا تجربہ رہا ہے ایسے میں سامنے والا بھی ہمیں قائل کرنے کے لیے مختلف دلائل پیش کرنے یا دباؤ بنانے کے بجائے ہمارے ویب لینتھ پر آنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے تبادلہ خیال کی خلیج ختم ہوجاتی ہے پھر ایک طرح سے اس خیال کے ساتھ ہم دونوں ہم سفر بن جاتے ہیں۔ دونوں کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ کب اور کیسے ایک نے اپنا خیال چھوڑ کر دوسرے کا خیال قبول کرلیا ہے۔ آج کے نوجوانوں کی یہی خوبی ہے کہ وہ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جس پر خود انھیں اعتماد نہیں ہو اور جب وہ کسی چیز پر ا عتماد کرتے ہیں تو پھر اس کے لیے سب کچھ چھوڑ کر اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اکثر لوگ کنبوں میں بڑوں اور چھوٹوں کے بیچ تبادلہ خیال کے فرق کی بحث کرتے ہیں۔ دراصل زیادہ تر کنبوں میں چھوٹے بچوں سے بات چیت کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے۔ زیادہ تر وقت پڑھائی کی باتیں یا پھر عادتوں اور طرز زندگی کو لے کر ایسا کر، ایسا مت کر، بنا کسی توقع کے کھلے من سے باتیں، دھیرے دھیرے فیملی میں بھی بہت کم ہوتی جارہی ہیں۔ اور یہ بھی تشویش کا موضوع ہے۔
امید کرنے کے بجائے تسلیم کرنے اور مسترد کرنے کے بجائے گفتگو کرنے سے پیغام مؤثر بنے گا۔ الگ الگ پروگراموں یا پھر سوشل میڈیا کے توسط سے نوجوانوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کرنے کی میری کوشش رہتی ہے۔ وہ جو کر رہے ہیں یا کیا سوچ رہے ہیں۔ اس سے سیکھنے کی میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں، ان کے پاس ہمیسہ آئیڈیا کا خزانہ ہوتا ہے وہ بہت ہی تواناں، اختراعی اور مرکوز ہوتے ہیں۔ ‘من کی بات’ کے توسط سے میں نوجوانوں کی کوششوں کو ان کی باتوں کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اکثر شکایت ہوتی ہے کہ نوجوان بہت ہی زیادہ سوال کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اچھا ہے کہ نوجوان سوال کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات اس لیے ہے کیوں کہ اس کا مطلب ہوا کہ وہ سبھی چیزوں کی گہرائی سے چھان بین کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نوجوانوں میں صبر نہیں ہوتا لیکن میرا ماننا ہے کہ نوجوانوں کے پاس برباد کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو آج کے نوجوانوں کو زیادہ جدت پسند بننے میں مدد کرتی ہے، کیونکہ وہ چیزوں کو تیزی سے کرنا چاہتا ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آج کے نوجوان بہت پر عزم ہیں اور بہت بڑی بڑی چیزیں سوچھتے ہیں۔ اچھا ہے بڑے خواب دیکھیں اور بڑی کامیابیوں کو حاصل کریں۔ آخر یہی تو جدید ہندوستان ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نوجوان نسل ایک ہی وقت میں کئی چیزیں کرنا چاہتی ہے۔ میں کہتا ہوں اس میں برائی کیا ہے۔ وہ کثیر جہتی کام کے قابل ہیں اس لیے ایسا کرتے ہیں۔ اگر ہم ارد گرد نظر دوڑائیں تو وہ چاہے سماجی کاروبار ہو ، اسٹارٹ اپس ہو، کھیل کود ہو یا پھر دیگر شعبہ، سماج میں بڑی تبدیلی لانے والے نوجوان ہی ہیں۔ وہ نوجوان جنھوں نے سوال پوچھے اور بڑے خواب دیکھنے کی جرأت کا اظہار کیا۔ اگر ہم نوجوانوں کے خیالات کو زمینی سطح پر اتار دیں اور انھیں اظہار کرنے کے لیے کھلا ماحول دیں تو وہ ملک میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ وہ ایسا کر بھی رہے ہیں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، گروگرام سے ونیتا جی نے مائی گوو پر لکھا ہے کہ ‘من کی بات’ میں مجھے کل یعنی 26 نومبر کو ہونے والے ‘یوم آئین’ کے بارے میں بات کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے، یہ دن خاص ہے کیونکہ ہم آئین کو اپنانے کے 70ویں سال میں داخل ہونے والے ہیں۔
ونیتا جی، آپ کی رائے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ!
ہاں کل ‘یوم آئین’ ہے۔ ان عظیم ہستیوں کو یاد کرنے کا دن جنھوں نے ہمارا آئین تشکیل دیا۔26 نومبر 1949 کو ہمارے آئین کو تسلیم کیا گیا تھا۔ آئین کا مسودہ تیار کرنے کے اس تاریخی کام کو پورا کرنے میں آئینی کمیٹی کو دو سال 11 مہینے اور 17 دن لگے۔ تصور کیجئے تین سال کے اندر ہی ان عظیم ہستیوں نے ہمیں اتنا وسیع اور جامع آئین دیا۔ انھوں نے جس غیر معمولی رفتار سے آئین کی تشکیل دی وہ آج بھی ٹائم مینجمنٹ اور پیداواریت کی ایک مثال ہے۔ یہ ہمیں بھی اپنے فرائض کو ریکارڈ وقت میں پورا کرنے کے لیے حوصلہ دیتی ہے۔ آئینی کمیٹی ملک کی عظیم ہستیوں کا سنگم تھی۔ ان میں سے ہر کوئی اپنے ملک کو ایک ایسا آئین دینے کا پابند عہد تھا جس سے ہندوستان کے لوگ طاقت ور ہوں۔ غریب سے غریب شخص بھی اہل بنے۔
ہمارے آئین میں خاص بات یہی ہے کہ حقوق اور فرائض ، اس کے بارے میں تفصیل سے تشریح کی گئی ہے۔ شہریوں کی زندگی میں انہی دونوں کا تال میل ملک کو آگے لے جائے گا۔ اگر ہم دوسروں کے حقوق کا احترام کریں گے تو ہمارے حقوق کی حفاظت اپنے آپ ہوجائے گی اور اسی طرح اگر ہم آئین میں مذکور اپنے فرائض پر عملدرآمد کریں گے تو بھی ہمارے حقوق کی حفاظت اپنے آپ ہوجائے گی۔ مجھے ابھی بھی یاد ہے۔ 2010 میں جب ہندوستان کی جمہوریت کو 60 سال ہوئے تھے تب گجرات میں ہم نے ہاتھی پر رکھ کر آئین کی شوبھا یاترا نکالی تھی۔ نوجوانوں میں آئین کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے اور انھیں آئین کے پہلوؤں سے جوڑنے کے لیے یہ ایک یادگار موقع تھا۔ سال 2020 میں ایک جمہوریت کی شکل میں ہم 70 سال پورے کریں گے اور 2022 میں ہماری آزادی کے 75 سال مکمل ہوجائیں گے۔
آیئے، ہم سبھی اپنے آئین کی قدروں کو آگے بڑھائیں اور اپنے ملک میں امن، ترقی، خوشحالی کو یقینی بنائیں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، آئینی کمیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس عظیم شخص کی خدمات کو کبھی بلایا نہیں جاسکتا جو آئینی کمیٹی کے مرکز میں رہے۔ یہ عظیم شخص تھے قابل پرستش ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر۔ 6 دسمبر کو ان کا یوم وفات ہے۔ میں سبھی ہم وطنوں کی جانب سے بابا صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنھوں نے کروڑوں ہندوستانیوں کو عزت سے جینے کا حق دیا۔ جمہوریت بابا صاحب کی فطرت میں رچی بسی تھی اور وہ کہتے تھے کہ ہندوستان کی جمہوری اقدار کہیں باہر سے نہیں آئی ہیں۔ جمہوریت کیا ہوتا ہے اور پارلیمانی نظام کیا ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آئینی کمیٹی میں انھوں نے ایک بہت ہی جذباتی اپیل کی تھی کہ اتنی جدوجہد کے بعد ملی آزادی کی حفاظت ہمیں اپنے خون کی آخری بوند تک کرنی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم ہندوستانی بھلے ہی الگ الگ پس منظر کے ہوں لیکن ہمیں سبھی چیزوں سے قطع نظر ملک کے مفاد کو اوپر رکھنا ہوگا۔ انڈیا فرسٹ۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا یہی مقصد تھا۔ ایک بار پھر قابل پرستش بابا صاحب کو خراج عقیدت۔
میرے پیارے ہم وطنوں، دو دن پہلے 23 نومبر کو ہم سب نے جناب گرونانک دیو جی کی جینتی منائی ہے اور اگلے سال یعنی 2019 میں ہم ان کا 550واں پرکاش پرو منانے جارہے ہیں۔ گرونانک دیو جی نے ہمیشہ ہی پوری انسانیت کی صلاح کے لیے سوچا۔ انھوں نے سماج کو ہمیشہ صداقت، عمل، خدمت، شفقت اور ہمدردی کی راہ دکھائی۔ ملک اگلے سال گرونانک دیو جی کی 550ویں جینتی تقریب کو عالی شان طریقے سے منائے گا۔ اس کا رنگ ملک ہی نہیں دنیا بھر میں بکھرے گا۔ سبھی ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں سے بھی اس موقع کو دھوم دھام سے منانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اسی طرح سے گرونانک دیو جی کا 550واں پرکاش پرو دنیا کے سبھی ملکوں میں بھی منایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی گرونانک جی سے وابستہ مقدس مقامات کے راستوں پر ایک ٹرین بھی چلائی جائے گی۔ ابھی حال ہی میں جب میں اس سے منسلک میٹنگ کر رہا تھا تو اسی وقت مجھے لکھپت صاحب گرودوارہ کی یاد آئی۔ گجرات کے 2001 کے زلزلے کے دوران اس گرودوارہ کو بھاری نقصان پہنچا تھا لیکن جس طرح سے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ریاستی حکومت نے اس کی تجدید نو کرائی وہ آج بھی ایک مثال ہے۔
حکومت ہند نے ایک بڑا اہم فیصلہ لیا ہے کہ کرتارپور راہداری بنانے کا، تاکہ ہمارے ملک کے زائرین آسانی سے پاکستان میں کرتارپور میں گرونانک دیو جی کے اس مقدس مقام پر حاضری دے سکیں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، 50 ایپیسوڈ کے بعد ہم پھر ایک بار ملیں گے اگلے ‘من کی بات’ میں اور مجھے بھروسہ ہے کہ آج ‘من کی بات’ کے اس پروگرام کے پس پردہ احساسات کو مجھے پہلی بار آپ کے سامنے اظہار کرنے کا موقع ملا کیونکہ آپ لوگوں نے ایسے ہی سوال پوچھے لیکن ہمارا سفر جاری رہے گا۔ آپ کا ساتھ جتنا زیادہ ہوگا، اتنا ہمارا سفرمزید گہرا ہوگا اور ہر کسی کو مطمئن کرنے والا ملے گا۔ کبھی کبھی لوگوں کے من میں سوال اٹھتا ہے کہ من کی بات سے مجھے کیا ملا؟ میں آج کہنا چاہوں گا کہ ‘من کی بات’ کے جو رد عمل آتے ہیں، اس میں ایک بات جو میرے من کو بہت چھو جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے یہ کہا کہ جب ہم خاندان کے سبھی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ‘من کی بات’ سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے خاندان کا مکھیا ہمارے بیچ میں بیٹھ کر ہماری اپنی ہی باتوں کو ہمارے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ جب یہ بات میں نے وسیع پیمانے پر سنی تو بہت اطمینان ہوا کہ میں آپ کا ہوں، آپ میں سے ہی ہوں، آپ کے بیچ ہوں، آپ نے ہی مجھے بڑا بنایا ہے اور ایک طرح سے میں بھی آپ کے خاندان کے رکن کی شکل میں ہی ‘من کی بات’ کے توسط سے بار بار آتا رہوں گا، آپ سے جڑتا رہوں گا۔ آپ کی خوشی اور غم، میری خوشی ۔ آپ کی خواہش، میری خواہش۔ آپ کا عزم، میرا عزم۔
آیئے اس سفر کو ہم مزید آگے بڑھائیں۔
بہت بہت شکریہ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
U. No. 5908
Spreading positivity all over India. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/CjtMeJHSag
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
An interesting survey on 'Mann Ki Baat.' #MannKiBaat50 pic.twitter.com/vqmGllWNrk
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
जब ‘मन की बात’ शुरू किया था तभी मैंने तय किया था कि न इसमें politics हो, न इसमें सरकार की वाह-वाही हो, न इसमें कहीं मोदी हो और मेरे इस संकल्प को निभाने के लिये सबसे बड़ा संबल, सबसे बड़ी प्रेरणा मिली आप सबसे : PM @narendramodi #MannKiBaat50
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
मोदी आएगा और चला जाएगा, लेकिन यह देश अटल रहेगा, हमारी संस्कृति अमर रहेगी | 130 करोड़ देशवासियों की छोटी-छोटी यह कहानियाँ हमेशा जीवित रहेंगी | इस देश को नयी प्रेरणा में उत्साह से नयी ऊंचाइयों पर लेती जाती रहेंगी : PM @narendramodi #MannKiBaat50
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
'Mann Ki Baat' - about people and not politics. pic.twitter.com/UOq2zwzv8i
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
‘मन की बात’ सरकारी बात नहीं है - यह समाज की बात है | #MannKiBaat50 pic.twitter.com/SQw6ZSa9f7
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
भारत का मूल-प्राण राजनीति नहीं है, भारत का मूल-प्राण राजशक्ति भी नहीं है |
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
भारत का मूल-प्राण समाजनीति है और समाज-शक्ति है | #MannKiBaat50 pic.twitter.com/DESpgDy9tM
PM @narendramodi is asked, how much do you prepare before every 'Mann Ki Baat' - here is what he is saying. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/u4U85FzQKI
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Understanding the joys and aspirations of every Indian. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/wFYe5dKAAa
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
This is a 'Mann Ki Baat' of 130 crore Indians. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/KS9uV579ip
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Gratitude to the various people who help during 'Mann Ki Baat.' #MannKiBaat50 pic.twitter.com/eOxbkV7mCj
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Thank you to friends in the media. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/XsrxHYVlC9
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
When it comes to youngsters- accept rather than expect. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/Aturec0GE4
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
It is a good thing our youth are asking questions. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/jFPRxMImzA
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Our youth is all set to scale new heights of glory. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/FdDfKwYvHP
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Youngsters from India are excelling in various fields. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/aNYioINfWN
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Tributes to the makers of the Constitution.
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
The working of the Constituent Assembly gives us lessons in time management and productivity. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/FxvNgD4KRc
Our Constitution talks about both rights and duties. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/YFM6BaQXIw
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Let is reiterate our commitment to preserving the values of our Constitution. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/BiS6OkRQ7T
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Tributes to Dr. Babasaheb Ambedkar. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/zioCdWhQlZ
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
Remembering the rich thoughts of Dr. Ambedkar. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/wESapsrbSa
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018
We bow to Shri Guru Nanak Dev Ji. #MannKiBaat50 pic.twitter.com/2jE3cOEkNb
— PMO India (@PMOIndia) November 25, 2018