پی ایم انڈیا
نئی دہلی،16 مئی/ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے جھارکھنڈ کے دیو گھر میں ایک نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس ) کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اس پروجیکٹ کے لئے 1103 کروڑ روپے کے فنڈ کی منظوری دے دی گئی ہے اور مذکورہ ایمس کا قیام پردھان منتری سواستھ سورکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی ) کے تحت عمل میں آئے گا۔
تفصیلات
دیو گھر کے ایمس میں یہ سہولتیں دستیاب ہوں گی:
اثر:
دیو گھر میں نئے ایمس کے قیام سے دو مقصد حاصل ہوگا۔پہلا یہ کہ یہاں کے لوگوں کو سپر اسپیشلیٹی حفظان صحت میسر ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس خطے میں ڈاکٹروں اور دیگر صحت کارکنان کی ایک بڑی تعداد کو تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی جو کہ قومی صحت مشن (این ایچ ایم )کے تحت تیار کئے جانے والے ابتدائی اور ثانوی درجے کے اداروں کے لئے دستیاب ہوگی۔
پی ایم ایس ایس وائی کے تحت ایمس کا قیام بھونیشور ، بھوپال ، رائے پور ، جودھپور، رشی کیش اور پٹنہ میں عمل میں آیا ہے۔ یوپی کے رائے بریلی ، مہاراشٹر کے ناگپور،مغربی بنگال کے کلیانی گنج اور آندھرا پردیش کے گنٹور کے منگالاگیری میں ایمس کے قیام پر کام چل رہا ہے۔ یوپی کے گورگھپور میں بھی ایمس کے لئے تعمیراتی کام کو منظور ی دے دی گئی ہے۔
مزید برآں، درج ذیل ایمس کے قیام کو بھی منظوری دی گئی ہے۔
**************
( م ن ۔ن ا ۔م ف (
U.No. 2595
The Union Cabinet, Chaired by PM @narendramodi has approved setting up of a new All India Institute of Medical Sciences (AIIMS) in Deoghar, Jharkhand.
— PMO India (@PMOIndia) May 16, 2018
The AIIMS at Deoghar will consist of a hospital with a capacity of 750 beds, trauma centre facilities, a medical college, a nursing college, 20 Speciality/Super Speciality Departments including 15 Operation Theatres.
— PMO India (@PMOIndia) May 16, 2018
It will also include an Ayush Department which will provide treatment facilities in the traditional system of medicine.
— PMO India (@PMOIndia) May 16, 2018
Setting up of AIIMS at Deoghar will serve the dual purpose of providing super speciality health care while also helping create a large pool of doctors and other health workers to be available for primary and secondary-level institutions/facilities being created under the NHM.
— PMO India (@PMOIndia) May 16, 2018