Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے 3.15 لاکھ کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ پی ایم-کسان اسکیم کو 27-2026سے 31-2030  تک جاری رکھنے کی منظوری دی


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) اسکیم کو 27-2026 سے 31-2030  تک جاری رکھنے کی منظوری دی ہے ۔  اس مدت کے دوران اسکیم کے لیے کل 3.15 لاکھ کروڑ روپے کے مالی اخراجات کو منظوری دی گئی ہے ۔

یہ منظوری حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ کسانوں کی خوشحالی ملک کی خوشحالی کی بنیاد بنتی ہے ۔  پی ایم-کسان اسکیم کے ذریعے ، براہ راست فائدے کی  منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام کے ذریعے اہل کسان خاندانوں کو بروقت اور شفاف آمدنی کی مدد فراہم کی جا رہی ہے ، جس سے کسان زرعی سرمایہ کاری میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اپنی روزی روٹی کو  مستحکم کر سکتے ہیں ۔

پی ایم-کسان: شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی کسانوں کی فلاح و بہبود کا ایک کامیاب ماڈل

پی ایم – کسان اسکیم فروری 2019 میں شروع کی گئی تھی ۔  اس اسکیم کے تحت اہل کسان خاندانوں کو ہر سال  6,000  روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے ، جو براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں تین مساوی قسطوں میں منتقل کی جاتی ہے ۔  آدھار کی تصدیق ، ڈیجیٹل تصدیق اور ایک مستحکم  ڈی بی ٹی نظام کے ذریعے اس اسکیم نے شفافیت ، کارکردگی اور جواب دہی کی ایک موثر مثال قائم کی ہے ۔

پی ایم-کسان اسکیم کی اہم کامیابیاں:

  • اس اسکیم کے تحت 23 قسطوں کے ذریعے 4.47 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے ہیں ۔
  • 23 ویں قسط کے تحت ، 9.49 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ پہنچا ، 18,984 کروڑ  روپے  سے زیادہ جاری کیے گئے ۔
  • کووڈ-19 وبا کے دوران کسانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لئے 1.71 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی گئی ۔
  • خواتین کسانوں کو پی ایم-کسان کے تحت  1.06 لاکھ کروڑ  روپے  سے زیادہ موصول ہوئے ہیں ، اور ہر چار مستفیدین میں سے تقریبا ایک خاتون کسان ہے ۔

زرعی سرمایہ کاری اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم بنانے میں نمایاں رول:

پی ایم-کسان کے تحت فراہم کردہ مالی مدد نے کسانوں کو بیجوں ، کھادوں ، آبپاشی ، زرعی مشینری اور دیگر زرعی ضروریات میں بروقت سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنایا ہے ۔  اس سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے ، غیر رسمی قرض پر ان کا انحصار کم ہوا ہے اور دیہی گھرانوں کے مالی استحکام کو تقویت ملی ہے ۔

آزادانہ تشخیص کے ذریعے مثبت اثرات کی تصدیق:

پی ایم – کسان اسکیم کے اثرات کا اندازہ مختلف آزاد اداروں نے کیا ہے ۔  نیتی آیوگ کے ترقیاتی نگرانی اور تشخیص سے متعلق دفتر (ڈی ایم ای او) کے ذریعے کی گئی تشخیص کے مطابق:

  • 92 فیصد  سے زیادہ مستفیدین نے بتایا کہ انہوں نے امدادی رقم کو زرعی سرگرمیوں اور زرعی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا ۔
  • تقریبا 85 فیصد  مستفیدین نے زرعی آمدنی میں بہتری اور غیر رسمی قرض پر انحصار میں کمی کی تصدیق کی ۔

سال 21-2020 سے26-2025 کی مدت کے دوران غذائی اجناس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔  اس مدت کے دوران ، کاشت کے تحت رقبے میں تقریبا 9.65 فیصد ، پیداواریت میں تقریبا 10.53 فیصد اور غذائی اجناس کی کل پیداوار میں تقریبا 21.18 فیصد کا اضافہ ہوا ، جو پی ایم – کسان کے تحت کسانوں کو فراہم کی جانے والی جامع مدد اور زرعی شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے ۔

ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعے کسانوں کو براہ راست فوائد

پی ایم-کسان اسکیم ڈیجیٹل انڈیا کے موثر استعمال کی ایک بہترین مثال ہے ۔  آدھار پر مبنی تصدیق ، ڈیجیٹل مستفید کی تصدیق اور ڈی بی ٹی نظام کے ذریعے مالی امداد براہ راست کسانوں کو منتقل کی جا رہی ہے ۔  یہ اسکیم صرف مالی امداد فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کسانوں کے اعتماد ، خود انحصاری اور زراعت میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو بھی مزید بہتر بنا رہی ہے ۔

آتم نربھر بھارت اور خوشحال کسانوں کی  جانب ایک اہم قدم:

پی ایم-کسان اسکیم کی مسلسل توسیع سے کسانوں کی زراعت میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا ، پیداواری صلاحیت میں بہتری آئے گی ، زرعی خطرات کو کم کرنے اور دیہی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی ۔

پی ایم- کسان اسکیم حکومت کی کسانوں پر مرکوز پالیسیوں کا ایک اہم ستون ہے ۔  اس اسکیم کا مقصد ملک کے کروڑوں خوراک  پیدا کرنے والوں کو بااختیار بنانا ہے ، اس طرح وکست بھارت کی طرف ہندوستان کے سفر میں ان کے رول کو مستحکم کرنا ہے ۔

………………………………………………………………………………………….

) ش ح –ش ب-ق ر)

U.No. 1041