پی ایم انڈیا
مغربی بنگال کے گورنر جناب آر این روی جی، یہاں کے پُر جوش وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری جی، چیف آف نیول اسٹاف جناب کرشنا سوامی ناتھن جی، معزز خواتین و حضرات!
آج کا دن کئی اعتبار سے خاص ہے۔ آج پوری دنیا بین الاقوامی یوم یوگا منا رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اسی موقع پر مجھے بنگال کی اس عظیم سرزمین پر آنے کا موقع ملا۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے ہندوستان کے افکار کو نئی سمت دی ہے۔ جس نے ہندوستان کی نشاۃ ثانیہ کو رفتار بخشی ہے اور جس نے صدیوں تک ہندوستان کو سمندری راستوں کے ذریعے دنیا سے جوڑے رکھا ہے۔ آج اسی دھرتی پر آتم نربھر بھارت، محفوظ بھارت اور وکست بھارت سے متعلق ایک اہم پروگرام منعقد ہو رہا ہے۔ کچھ دیر پہلے آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا ہے۔ ویسے آج 21 جون کو ”ورلڈ ہائیڈروگرافی ڈے“ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اور یہ ایک نہایت حیرت انگیز اتفاق ہے کہ آج ہی کے دن ہم نے بھارت کے سب سے جدید ہائیڈروگرافی جہاز ”آئی این ایس سنشودھک“ کو کمیشن کیا ہے۔ میں بھارتی بحریہ کو، ان منصوبوں سے وابستہ تمام سائنس دانوں، انجینئروں، مزدوروں اور میرے پیارے ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
دنیا گواہ ہے کہ بحری صلاحیت کے بغیر کوئی بھی ملک بڑی طاقت نہیں بن سکتا۔ سمندر سے ترقی وابستہ ہے، سلامتی وابستہ ہے، خوشحالی وابستہ ہے۔ آج دنیا کی زیادہ تر تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کو جوڑنے والے ڈیٹا کے وسیع نیٹ ورک سمندر کے نیچے سے گزرتے ہیں۔ آنے والے وقت میں اہم معدنیات، گہرے سمندر کے وسائل اور توانائی کے نئے ذرائع بھی سمندر سے ہی وابستہ ہوں گے۔ اس لیے جس ملک کی بحری طاقت مضبوط ہوگی، اس کا اقتصادی اور تزویراتی اثر بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اور بھارت اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ بھارت اس کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اور آج کا یہ دن اس بات کا گواہ ہے کہ ہماری صلاحیت کیا ہے، ہماری مہارت کیا ہے۔
ساتھیو،
کچھ سال پہلے جب ہم نے آئی این ایس وکرانت کو ملک کے نام وقف کیا تھا، تب بھارت نے اپنی بحری طاقت کے ایک نئے باب کا اعلان کیا تھا، یہ دنیا کے سامنے ہماری قوت کا اعلان تھا۔ آئی این ایس وکرانت سے لے کر آج تک کا سفر صرف نئے جنگی جہازوں کا سفر نہیں ہے۔ یہ بھارت کی بڑھتی ہوئی خود انحصاری کا سفر بھی ہے۔ آج آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک اسی سفر کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔ یہ تینوں جہاز بھارت کے تین اہم عزموں کی علامت بھی ہیں۔ ان کی تعمیر بھارت میں ہوئی ہے۔ ان کا ڈیزائن بھارت میں تیار کیا گیا ہے۔ ان کی تعمیر میں بھارتی صنعتوں کی صلاحیت شامل ہے۔ بھارتی انجینئروں کی مہارت شامل ہے۔ بھارتی مزدوروں کی محنت شامل ہے۔ اور یہی نئے بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ساتھیو،
آج بھارت دفاعی شعبے میں صرف خریدار بن کر نہیں رہنا چاہتا۔ ہماری فوجی طاقت دنیا کے لیے محض بازار نہیں بن سکتی۔ میری طاقت کی پہچان دنیا کے بازار بننے میں نہیں، بلکہ میری خود انحصاری میں ہے۔ بھارت ایک صنعت کار اور سازندہ بننا چاہتا ہے۔ اور جس دن ہم سازندہ بن جائیں گے، اس دن ہم فیصلہ کن قوت بھی بن جائیں گے۔ اور بھارت اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں 40 سے زیادہ ”میڈ ان انڈیا“ جنگی جہاز اور آبدوزیں بحریہ میں شامل ہوئی ہیں۔ یعنی تقریباً ہر چند ہفتوں میں بھارتی بحریہ کو ایک نئی طاقت ملی ہے۔ اس وقت بھی 45 بڑے بحری پلیٹ فارم زیر تعمیر ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ بھارت کی صنعتی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ یہ بھارت کے مستقبل کا اشارہ ہیں۔
ساتھیو،
آنے والے برسوں میں بھارت کا بحری شعبہ لاکھوں نئے روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بحری شعبے کو صرف ایک علیحدہ شعبہ نہیں سمجھتے۔ ہم اسے وکست بھارت کے روزگار کے انجن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک جدید جہاز میں سیکڑوں ٹن اسٹیل، الیکٹرانکس، مشینری اور ہزاروں پرزے استعمال ہوتے ہیں۔ اور ان سب کے پیچھے ہزاروں کمپنیاں کام کرتی ہیں، یعنی ہزاروں نوجوانوں کو روزگار بھی حاصل ہوتا ہے۔ آج جن تین جہازوں کی کمیشننگ ہوئی ہے، ان کی تعمیر میں 200 سے زیادہ ایم ایس ایم ایی نے تعاون دیا ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان 200 چھوٹی صنعتوں میں کتنی بڑی تعداد میں روزگار پیدا ہوا ہوگا۔
ساتھیو،
اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت بحری طاقت کے اگلے مرحلے میں داخل ہو۔ اسی لیے بھارت نے شپ بلڈنگ کے شعبے کے لیے ایک نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد پالیسی اصلاحات کی گئی ہیں۔ گھریلو تعمیراتی صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اور شپ بلڈنگ، شپ ریپیئر، شپ ری سائیکلنگ اور ایم آر او کو ایک بڑے قومی مشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ساتھیو،
شپنگ سیکٹر کے لیے 70 ہزار کروڑ روپے کے جس ترغیبی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے، وہ صرف ایک اقتصادی فیصلہ نہیں ہے۔ وہ بھارت کے بحری مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ وہ بھارت کے صنعتی فروغ میں سرمایہ کاری ہے۔
ساتھیو،
بھارت آج اپنے پورے بحری ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اسی لیے آج بھارت اپنی بندرگاہوں کو جدید بنا رہا ہے۔ نئی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔ نئی رابطہ کاری قائم کر رہا ہے۔ دریائی آبی گزرگاہوں کو وسعت دے رہا ہے۔ ملٹی موڈل لاجسٹکس نیٹ ورک تیار کر رہا ہے۔ ساگر مالا جیسے منصوبے اسی وسیع سوچ کا حصہ ہیں۔ اس سے تجارت کی لاگت کم ہو رہی ہے۔ صنعتوں کو نئی رفتار مل رہی ہے اور ساحلی علاقوں میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ساتھیو،
ایک وقت تھا جب بھارت کی شناخت دنیا کے سب سے بڑے دفاعی درآمد کنندگان میں ہوتی تھی۔ اس انحصار کی وجہ سے ہمیں تزویراتی اور سلامتی دونوں طرح کے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ 2014 میں حکومت بننے کے بعد ہم نے اس صورت حال کو بدلنے کا عزم کیا۔ اس کے لیے پالیسی کی سطح پر بڑے اصلاحی اقدامات کیے گئے اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو ترجیح دی گئی۔ ان کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج دفاعی شعبے میں ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے نئی امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ 2014 تک ملک کی کل دفاعی پیداوار تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تھی۔ آج یہ بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اور ساتھیو،
ایک طرف ملک میں دفاعی پیداوار تیزی سے بڑھی ہے، تو دوسری طرف ہماری دفاعی برآمدات بھی غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ 2014 تک بھارت تقریباً 700 کروڑ روپے کے دفاعی ساز و سامان برآمد کرتا تھا، صرف سات سو کروڑ روپے۔ آج یہ اعداد و شمار بڑھ کر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ رہے ہیں۔ بھارت میں تیار کردہ دفاعی آلات اب دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔
ساتھیو،
خود انحصاری کے اس سفر میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میرے حساب سے تو یہ ابھی صرف شروعات ہے، لیکن گزشتہ 12 برسوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے، وہ یہ بتاتی ہے کہ جب پالیسی واضح ہو، سمت درست ہو اور سب مل کر کام کریں، تو ملک میں کتنی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
ساتھیو،
جب بحری ورثے کی بات ہوتی ہے تو بنگال کا نام فطری طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ بھارت کے سمندری روابط کی بھی ایک اہم سر زمین رہی ہے۔ ہگلی کی لہروں نے تاریخ کو بدلتے دیکھا ہے۔ تجارت کے نئے ابواب دیکھے ہیں۔ ترقی کے نئے سفر دیکھے ہیں۔ اور دیکھیے یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ یہ بندرگاہ بنگال کے ہی سپوت، ملک کے پہلے وزیر صنعت ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نام پر ہے۔
ساتھیو،
بھارت آج جس نئے بحری دور کی طرف بڑھ رہا ہے، اُس میں مغربی بنگال کا کردار نہایت اہم ہونے والا ہے۔ یہاں بندرگاہوں کی صلاحیت ہے، یہاں صنعتوں کی طاقت ہے، یہاں ہنر ہے، یہاں مہارت ہے، یہاں بحری معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں مغربی بنگال، بھارت کی بلیو اکانومی، میری ٹائم مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور ساحلی ترقی کا ایک اہم مرکز بنے گا۔
ساتھیو،
بھارت نے ہمیشہ سمندر کو تعاون کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا ہے۔ لیکن بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ امن کے تحفظ کے لیے طاقت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ خوشحالی کے تحفظ کے لیے سلامتی ضروری ہے۔ اور مستقبل کی تعمیر کے لیے خود انحصاری ناگزیر ہے۔ آج آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک اسی جذبے کی علامت بن کر بھارتی بحریہ میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ اس بھارت کی علامت ہیں جو 21ویں صدی میں اپنی طاقت کو پہچان رہا ہے، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کر رہا ہے اور جو دنیا کے سامنے نئے اعتماد، تیز رفتار پیش رفت اور توانائی سے بھرپور عزم کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
ساتھیو،
اس مبارک موقع پر، میں بحریہ کے تمام ساتھیوں کو، ملک کے تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے بے شمار نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ میں ایک بار پھر بھارتی بحریہ، تمام سائنس دانوں، انجینئروں، مزدوروں اور تمام اہل وطن کو دل سے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ شکریہ۔
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 8972
A milestone for India’s maritime security! Speaking at the Tri Commissioning ceremony of INS Agray, INS Dunagiri and INS Sanshodhak in Kolkata. @indiannavy https://t.co/obmbDiY4T0
— Narendra Modi (@narendramodi) June 21, 2026
INS अग्रय, INS दूनागिरी और INS संशोधक को भारतीय नौसेना में शामिल किया गया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 21, 2026
आज 21 जून को World Hydrography Day के रूप में भी मनाया जाता है।
— PMO India (@PMOIndia) June 21, 2026
और यह बहुत ही अद्भुत संयोग है कि आज के दिन हमने भारत का सबसे advanced hydrography जहाज़ “INS संशोधक” कमीशन किया है: PM @narendramodi
जिस देश का समुद्री सामर्थ्य मजबूत होगा... उसका आर्थिक और रणनीतिक प्रभाव भी उतना ही मजबूत होगा।
— PMO India (@PMOIndia) June 21, 2026
और भारत इस वास्तविकता को अच्छी तरह से समझता है।
भारत इसके लिए स्वयं को तैयार कर रहा है: PM @narendramodi
INS विक्रांत से लेकर आज तक की यात्रा केवल नए युद्धपोतों की यात्रा नहीं है।
— PMO India (@PMOIndia) June 21, 2026
यह भारत की बढ़ती आत्मनिर्भरता की यात्रा है।
आज INS अग्रय, INS दूनागिरी और INS संशोधक उसी यात्रा को नई गति दे रहे हैं: PM @narendramodi
भारत ने शिपबिल्डिंग क्षेत्र के लिए एक नई दृष्टि के साथ आगे बढ़ना शुरू किया है।
— PMO India (@PMOIndia) June 21, 2026
हाल के वर्षों में अनेक पॉलिसी रिफॉर्म्स किए गए हैं।
घरेलू निर्माण क्षमता बढ़ाने के लिए विशेष कदम उठाए गए हैं।
शिपबिल्डिंग, शिप रिपेयर तथा MRO को एक बड़े राष्ट्रीय मिशन के रूप में देखा जा रहा है: PM
भारत ने हमेशा से समुद्र को सहयोग का माध्यम माना है।
— PMO India (@PMOIndia) June 21, 2026
लेकिन भारत ये भी जानता है कि शांति की रक्षा के लिए सामर्थ्य आवश्यक है।
समृद्धि की रक्षा के लिए सुरक्षा आवश्यक है।
और भविष्य के निर्माण के लिए आत्मनिर्भरता अनिवार्य है।
आज INS अग्रय, INS दूनागिरी और INS संशोधक इसी भावना के…