Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

گجرات میں مائیکرون سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کی سہولت کے افتتاح کے موقع پر وزیرِ اعظم کے خطاب کا متن


گجرات کے مقبول وزیرِ اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل، مرکز میں میرے معزز رفیق اشونی ویشنو، مائیکرون ٹیکنالوجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سنجے مہروترا، بھارت میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور، نائب وزیرِ اعلیٰ ہرش سنگھوی، اور دیگر معزز شخصیات، خواتین و حضرات!

دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سمٹ کے بعد، ہم آج یہاں ایک اور تاریخی سنگ میل کے شاہد بن رہے ہیں۔ جہاں اے آئی سمٹ نےپوری  دنیا کو ہندوستان کی مصنوعی ذہانت  کی  صلاحیتوں سےروشناس کرایا، وہیں آج  کا یہ موقع ٹیکنالوجی کی قیادت کےلیے ہندوستان کے عزم اور وابستگی کا ایک اور ثبوت پیش کر رہا ہے۔

دوستو

یہ زیادہ پرانی بات نہیں، کوئی دس گیارہ برس پہلے تک ہندوستان میں ڈیٹا اور چِپس کے موضوع پر گفتگو نہایت محدود حلقوں تک سمٹی ہوئی تھی۔ جب ٹیکنالوجی کی بات ہوتی تھی تو ہماری ساری توجہ عموماً آئی ٹی خدمات کے گرد گھومتی تھی۔ مگر آج وہی ہندوستان، جو کبھی صرف سافٹ ویئر کے لیے پہچانا جاتا تھا، ہارڈ ویئر کے میدان میں بھی اپنی مضبوط موجودگی درج کرا رہا ہے۔ آج سانند میں ہم ایک نئے مستقبل کی سحر کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مائیکرون کی اے ٹی ایم پی سہولت میں تجارتی پیداوار کا آغاز عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین میں ہندوستان کے کردار کو مزید مستحکم کرے گا۔

دوستو!

آج ہندوستان تیزی کے ساتھ عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ میں پوری مائیکرون ٹیم، بھوپیندر بھائی کی قیادت میں کام کرنے والی حکومتِ گجرات، اور تمام انجینئروں، تکنیکی ماہرین اور کارکنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

دوستو!

مائیکرون کی یہ سہولت ہندوستان کی نئی روح اور نئے اعتماد کی روشن مثال ہے۔ پالیسی سے پیداوار تک آج کا ہندوستان جس رفتار اور وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، وہ یہاں صاف دکھائی دیتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جون 2023 میں اس منصوبے کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط ہوئے، ستمبر 2023 میں سانند میں سنگِ بنیاد رکھا گیا، فروری 2024 میں پائلٹ سہولت پر مشینوں کی تنصیب شروع ہوئی، اور آج فروری 2026 میں یہاں تجارتی پیداوار کا آغاز ہو چکا ہے۔

دوستو!

جو لوگ اس شعبے کو قریب سے جانتے اور سمجھتے ہیں، وہ اس رفتار کی غیر معمولی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پیشگی قیمتوں کے معاہدوں جیسے ٹیکس معاہدوں میں تین سے پانچ سال لگ جاتے ہیں، کیونکہ یہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ لیکن بھارت نے اسے چند ہی مہینوں میں مکمل کر لیا۔ جب نیت صاف ہو اور عزم ملک کی تیز رفتار ترقی ہو تو پالیسیاں واضح ہو جاتی ہیں اور فیصلے برق رفتاری سے ہوتے ہیں۔

دوستو!

میں مائیکرون کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اپنے دوست سنجے کو جتنی مبارکباد دوں کم ہے۔ آج انہوں نے مجھے حیران کر دیا، کیونکہ عموماً ملاقاتوں میں وہ کم گو ہوتے ہیں، مگر آج ان کی تقریر نے ایک نئے سنجے سے میرا تعارف کرایا۔ انہوں نے ہمیشہ ہندوستان پر اعتماد کیا اور ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کے بارے میں غیر معمولی جوش و خروش دکھایا۔ آج ان کی قیادت اور ہندوستان پر ان کا بھروسا نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

سفیر گور نے بھی گجرات کا دورہ کیا ہے، غالباً ہندوستان میں اپنی تقرری کے بعد پہلی مرتبہ۔ باضابطہ طور پر سفیر بننے کے بعد آج میری ان سے پہلی ملاقات ہے اور وہ بھی میری اپنی سرزمین پر۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہماری مہمان نوازی سے بھرپور لطف اندوز ہوں گے۔

دوستو!

مائیکرون کی یہ سہولت اور آج کا یہ موقع ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعاون اور شراکت داری کا مظہر بھی ہے۔ خاص طور پر اے آئی اور چِپ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں دونوں ملکوں کی شراکت داری نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ آج پوری دنیا ان دونوں ٹیکنالوجیز کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ یہ انسانیت کے بہتر مستقبل سے وابستہ ہیں۔ دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں ، بھارت اور امریکہ ، اس مقصد کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔ اے آئی سمٹ کے دوران پیکس سلیکا پر ہونے والا معاہدہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ہماری مشترکہ کوششیں اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چین کو بھی زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنائیں گی۔

دوستو!

بیسویں صدی تک دنیا نے صنعتی انقلاب کا دور دیکھا۔ اُس زمانے میں وہی ممالک تیزی سے ترقی کرتے تھے جو کارخانوں، مشینوں اور بڑے پیمانے کی پیداوار میں آگے تھے۔ مگر اکیسویں صدی مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی صدی ہے۔ سیمی کنڈکٹر اس عظیم تبدیلی کا بنیادی پل ہیں۔ ایک ننھی سی چِپ صنعتی انقلاب اور اے آئی انقلاب کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اگر پچھلی صدی میں تیل معیشت کی رفتار متعین کرتا تھا تو اس صدی میں مائیکرو چِپ وہ کردار ادا کرے گی۔

دوستو!

اسی وژن کو سامنے رکھتے ہوئے ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یاد کیجیے، جب پوری دنیا کووِڈ کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما تھی، اُس وقت ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر مشن کا اعلان کیا۔ اُس مشکل دور میں یہاں موجود بہت سے دوست مختلف ٹیموں کے ساتھ مسلسل میٹنگیں کر رہے تھے۔ وبا کے دنوں میں سب کچھ بکھرتا ہوا محسوس ہوتا تھا، مگر ہم نے یقین کے ساتھ جو بیج بوئے تھے وہ آج تناور درخت بن کر پھل دے رہے ہیں۔

دوستو!

سیمیکان انڈیا پروگرام کے تحت اب تک دس منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ مائیکرون کے علاوہ تین اور منصوبے بھی بہت جلد پیداوار شروع کرنے والے ہیں۔ اور جو سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم ہم تشکیل دے رہے ہیں وہ کسی ایک خطے(علاقے) تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک پر محیط ہے۔ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے نئے ٹیکنالوجی ہَب ملک کے ہر کونے میں قائم ہو رہے ہیں۔ سانند کے ساتھ ساتھ دھولیرا میں بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔ حال ہی میں اتر پردیش کے نوئیڈا میں ایک نئی سہولت پر کام شروع ہوا ہے، جبکہ آسام، اڈیشہ اور پنجاب میں بھی سیمی کنڈکٹر یونٹس سرگرمِ عمل ہیں۔

دوستو!

آج ہندوستان کے پاس دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے صرف ایک پیغام ہے:
ہندوستان تیار ہے، ہندوستان قابلِ اعتماد ہے، اور ہندوستان اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔

دوستو!

آپ جانتے ہیں کہ سیمی کنڈکٹر کا ایکو سسٹم صرف ایک فیکٹری کا نام نہیں ہوتا۔ اس میں مشین بنانے والے، ڈیزائن انجینئر، تحقیقی ادارے، لاجسٹکس نیٹ ورک اور ہنر مند تکنیکی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ ان سب کے باہمی ربط سے ایک چِپ تیار ہوتی ہے۔ ہندوستان اس پوری ویلیو چین پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسی سال کے بجٹ میں ہم نے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کا اعلان کیا، جس کا مقصد یہی ہے۔ جیسے جیسے پیداوار بڑھے گی، ملک کے اندر مواد، پرزہ جات اور خدمات کی طلب میں اضافہ ہوگا ، اور یہی سب سے بڑا موقع ہے۔

دوستو!

ہندوستان کی ایک اور بڑی طاقت اس کے مینوفیکچرنگ عزائم ہیں۔ یہاں ایک بڑی آبادی پہلی بار گیجٹس استعمال کرنے والی بن رہی ہے۔ چاہے الیکٹرانکس ہو، آٹوموبائل یا دیگر ٹیکنالوجیز ، ہر شعبے میں مانگ(طلب) مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ “میک اِن انڈیا” پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پچھلے گیارہ برسوں میں الیکٹرانکس کی پیداوار اور برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ آج ہندوستان پرزہ جات سے لے کر تیار شدہ مصنوعات تک سب کچھ ملک کے اندر بنا رہا ہے۔ جیسے جیسے الیکٹرانکس کے اجزاء کی تیاری بڑھے گی، سیمی کنڈکٹرز کی گھریلو طلب بھی بڑھے گی ، یعنی سرمایہ کاروں کے لیے یہاں داخلی مارکیٹ بھی ہے اور عالمی مواقع بھی۔

دوستو!

مجھے سانند کی اس سرزمین سے خاص لگاؤ ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جو مٹی کو بھی سونا بنا دیتی ہے ، اور یہ میں اپنے تجربے سے کہہ رہا ہوں۔ ایک وقت تھا جب میں یہاں بس سے آیا کرتا تھا اور سائیکل پر سڑکوں پر گھوما کرتا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، اور میں یہیں سے سائیکل چلا کر آگے بڑھتا تھا۔ ایک طرح سے یہ علاقہ طویل عرصے تک میرے کام کا مرکز رہا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سانند کو بدلتے دیکھا ہے ، ایک چھوٹے سے شہر سے ایک بڑے صنعتی مرکز میں تبدیل ہوتے ہوئے۔

اور یہ سب کہاں سے شروع ہوا؟
ایک روپے کے ایس ایم ایس سے!

میں نے رتن ٹاٹا کو ایک پیغام بھیجا تھا: سواگتم!”
سوچیے، ایک روپے کے اس پیغام نے کتنی بڑی سرمایہ کاری کی بنیاد رکھ دی۔ یہی اس دھرتی کی طاقت ہے، یہی گجرات کی صلاحیت ہے۔

دوستو!

میں نے سانند کو ایک ہی کار فیکٹری سے ترقی کرتے ہوئے ملک کے ایک بڑے آٹوموبائل مرکز میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ایک بڑی آٹوموبائل کمپنی یہاں آئی تو اس کے ساتھ پورا ایکو سسٹم بھی وجود میں آیا۔ ایک کمپنی کی آمد کے ساتھ ہی متعدد ذیلی یونٹس قائم ہوئے، سپلائر نیٹ ورک بنا، مقامی صنعت کو تقویت ملی اور روزگار و سرمایہ کاری دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اور مجھے، ان تمام دوستوں کے ساتھ جو ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے یہاں کام کرنے آتے ہیں، اس بات پر بے حد فخر ہے کہ اس چھوٹے سے شہر نے عالمی نقشے پر اپنی نمایاں جگہ بنالی ہے۔ ممکن ہے آج بھی آپ کے ذہن میں یہ خیال آتا ہو کہ “اگر یہ سہولت ہوتی تو بہتر ہوتا، اگر وہ نظام ہوتا تو اور اچھا ہوتا”۔

میں آپ کو یقین دلاتا ہوں دوستو!

گجرات آپ کو وہ معیارِ زندگی دے گا جس کی آپ خواہش رکھتے ہیں، وہ سماجی ماحول فراہم کرے گا جس کی آپ کو ضرورت ہے، اور زندگی گزارنے کا وہ انداز دے گا جس کا آپ خواب دیکھتے ہیں۔ ہم آپ کو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گے۔ اسی طرح مائیکرون کی یہ بنیادی سہولت ایک نئے صنعتی ماحولیاتی نظام کو وسعت دینے والی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آنے والے وقت میں سانند سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں کامیابی کا ایک نیا باب رقم کرے گا۔

دوستو!

مائیکرون کے ڈی-رام(ڈی ۔ آر اے ایم )  اور نینڈ( این اے این ڈی ) سلوشنز دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز، اے آئی ایپلی کیشنز، موبائل ڈیوائسز اور جدید کمپیوٹنگ سسٹمز کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ اب یہ سب اسی سنند کی سرزمین پر تیار کیے جائیں گے۔ یہاں جدید ویفرز کو اعلیٰ معیار کی میموری اور اسٹوریج مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہ پلانٹ اس وقت سینکڑوں افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے اور مستقبل میں اس کی مزید توسیع کی توقع ہے۔

دوستو!

آپ یہاں جو کلین روم تیار کر رہے ہیں وہ دنیا کے سب سے بڑے اے ٹی ایم پی کلین رومز میں سے ایک ہوگا۔ یہ منصوبہ ترقی اور ماحول کے درمیان ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔ پانی کے استعمال کو کم سے کم رکھنے کے لیے کیے گئے انتظامات قابلِ ستائش ہیں۔

دوستو!

میں حکومتِ گجرات کی پالیسیوں کی بھی بھرپور ستائش کرنا چاہوں گا۔ سیمی کنڈکٹر سیکٹر کے لیے مرتب کی گئی پالیسیوں کے نتائج آج زمین پر صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ بھوپیندر بھائی کی قیادت میں حکومت کے فعال اور دور اندیش نقطۂ نظر نے گجرات کو ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔ منظوری کے مراحل ہوں، زمین کی الاٹمنٹ ہو یا بنیادی سہولیات کی فراہمی ، ہر عمل کو آسان بنایا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔ دھولیرا اور سانند آج مغربی ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کلسٹر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے درکار معاون شعبے ، جیسے کیمیکل اور پیٹروکیمیکل صنعتیں، ہنرمندی کے مراکز اور تربیتی اقدامات ، بھی گجرات میں بیک وقت ترقی کر رہے ہیں۔

دوستو!

یہ پیش رفت ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ آج ہم نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے۔ جیسے ہی ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صنعت کے دسوں منصوبے پیداوار کے مرحلے میں داخل ہوں گے، اس کا ضربی اثر ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اَپس اور الیکٹرانکس صنعت کی پوری ویلیو چین تک پہنچے گا۔ دنیا تک یہ واضح پیغام پہنچ چکا ہے کہ ہندوستان باصلاحیت ہے، ہندوستان مسابقتی ہے اور ہندوستان پُرعزم ہے۔ میں ہندوستان کے تمام شراکت داروں اور عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلاتا ہوں کہ چاہے مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ، ہم سب آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

دوستو!

جب آنے والی نسلیں اس دہائی پر نظر ڈالیں گی تو فخر سے کہیں گی کہ یہی وہ دور تھا جب ہندوستان نے غیر معمولی چھلانگ لگائی۔ یہ دہائی ہندوستان کے ٹیکنالوجی کے مستقبل میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ ایک بار پھر میں مائیکرون کی پوری ٹیم، حکومتِ گجرات اور آپ سب کو  بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔شکریہ!

 

***

UR-3211

(ش ح۔اس ک  )