پی ایم انڈیا
نئی دہلی۔31 دسمبر ؛ میرے پیارے ہم وطنوں، نمسکار۔ من کی بات کا اس سال کا یہ آخری پروگرام ہے اور اتفاق دیکھیے کہ آج، سال 2017 کا بھی آخری دن ہے۔ اس پورے سال میں بہت ساری باتیں ہم نے اور آپنے شیئر کی۔ من کی بات کے لیے آپ کے بہت سے خطوط، تبصرے ، خیالات کا یہ تبادلۂ خیال ، میرے لیے تو ہمیشہ ایک نئی توانائی لے کر آتا ہے۔ کچھ گھنٹوں بعد، سال بدل جائے گا لیکن ہماری باتوں کا یہ سلسلہ آگے بھی اسی طرح جاری رہے گا۔ آنے والے سال میں ہم ، اور نئی نئی باتیں کریں گے، نئے تجربے شیئر کریں گے۔ آپ سب کو 2018 کی بہت بہت مبارکباد۔ ابھی گزشتہ دنوں 25 دسمبر کو دنیا بھر میں کرسمس کا تہوار دھوم دھام سے منایا گیا۔ ہندوستان میں بھی لوگوں نے کافی جوش سے اس تہوار کو منایا۔ کرسمس کے موقعے پر ہم سب عیسیٰ مسیح کی عظیم تعلیمات کو یاد کرتے ہیں اور عیسیٰ مسیح نے سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا تھا، وہ تھا – ’’خدمت کاجذبہ‘‘۔ خدمت کے جذبے کا خلاصہ ہم بائبل میں بھی دیکھتے ہیں۔
ابن آدم آ گیا ہے، نہ ہی خدمت کی جائے گی،
لیکن خدمت کرنے کے لئے،
اور اپنی زندگی دے
تمام انسانیت کے لئے
یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدمت کا جذبہ کیا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ذات ہوگی، مذہب ہوگا، روایت ہوگی، رنگ ہوں گے لیکن خدمت کا جذبہ، یہ انسانی اقدار کی ایک بیش قیمت شناخت کی شکل میں ہے۔ ہمارے ملک میں غیر جانبدار کارروائی کی بات ہوتی ہے، یعنی ایسی خدمت جس میں کوئی توقع نہیں ہے۔ ہمارے یہاں تو کہا گیا ہے – خدمت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ انسانی خدمت ہی شیو کی خدمت اور گرودیو رام کرشن پرم ہنس تو کہتے تھے – شیو کے جذبے سے انسانی خدمت کریں یعنی پوری دنیا میں یہ سارے عام انسانی اقدار ہیں۔ آیئے، ہم عظیم شخصیات کو یاد کرتے ہوئے، اہبئ اس عظیم اقدر اور روایت کو، نیا شعور عطا فرمائیں، نئی توانائی دیں اور خود بھی اُسے محسوس کرنے کی کوشش کریں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، یہ سال گرو گووند سنگھ جی کا 350واں پرکاش پرو کا بھی سال تھا۔ گرو گووند سنگھ جی کی بہادری اور قربانی سے بھری غیرمعمولی زندگی ہم سبھی کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔ گرو گووند سنگھ جی نے عظیم زندگی کے اقدار کی تبل کی اور انہیں اقدار کی بنیاد پر انہوں نے اپنی زندگی بھی گزاری ۔ ایک گرو، شاعر، فلسفی، عظیم مجاہد، گرو گووند سنگھ جی نے ان سبھی کردار میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا کام کیا۔ انہوں نے ظلم اور ناانصافی کے خلاف لڑائی لڑی۔ لوگوں کو ذات پات اور مذہب کے بندھنوں کو توڑنے کی تعلیم دی۔ ان کوششوں میں انہیں ذاتی طور پر بہت کچھ گنوانا بھی پڑا۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی غصہ کے جذبے کو جگہ نہیں دی۔ زندگی کے ہر لمحہ میں محبت، قربانی اور امن کا پیغام – کتنی عظیم خصوصیات سے بھری ہوئی ان کی شخصیت تھی۔ یہ میرے لیے فخر کی بات رہی کہ میں اس سال کے آغاز میں گرو گووند سنگھ جی کے 350ویں یوم پیدائش کے موقعے پر پٹنہ صاحب میں منعقدہ پرکاش اتسو میں شامل ہوا۔ آیئے، ہم سب عہد کریں اور گرو گووند سنگھ جی کی عظیم تعلیم اور ان کے ترغیب دلانے والی زندگی سے، سبق لیتے ہوئے زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
یکم جنوری ، 2018 یعنی کل، میری نگاہ میں کل کا دن ایک خاص دن ہے۔ آپ کو بھی حیرت ہوتی ہوگی ، نیا سال آتا رہتا ہے،یکم جنوری بھی ہر سال آتا ہے، لیکن جب، خاص کی بات کرتا ہوں تو واقعی میں میں کہتا ہوں کہ اسپیشل ہے۔ جو لوگ سال 2000 یا اس کے بعد پیدا ہوئے ہیں یعنی 21ویں صدی میں جو پیدا ہوئے ہیں وہ یکم جنوری، 2018 سے ایلیجیبل ووٹرس بننا شروع ہو جائیں گے۔ ہندوستانی جمہوریت، 21ویں صدی کے ووٹرس کا، نیو انڈیا ووٹرس کا خیرمقدم کرتی ہے۔ میں اپنے ان نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سبھی سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ خود کو ووٹر کے طور پر رجسٹر کرائیں۔ پورا ہندوستان آپ کو 21ویں صدی کے ووٹر کے طور پر استقبال کرنے کے لیے منتظر ہے۔ 21ویں صدی کے ووٹر کے ناطے آپ بھی فخر محسوس کرتے ہوں گے۔ آپ کا ووٹ نیو انڈیا کی بنیاد بنے کا۔ ووٹ کی طاقت ، جمہوریت میں سب سے بڑی قوت ہے۔ لاکھوں لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ووٹ سب سے اثردار ذریعہ ہے۔ آپ صرف ووٹ دینے کے مستحق نہیں بن رہے ہیں۔ آپ 21ویں صدی کا ہندوستان کیسا ہو؟ 21 ویں صدی کے ہندوستان کے آپ کے خواب کیا ہوں؟ آپ بھی تو ہندوستان کی 21ویں صدی کے سازگار بن سکتے ہیں اور اس کی شروعات یکم جنوری سے خاص طور پر ہو رہی ہے۔ اور آج اپنی اس من کی بات میں، میں 18 سے 25 سال کی توانائی اورعزم سے لبریز اپنےنوجوانوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں انہیں نیو انڈیا یوتھ مانتا ہوں۔ نیو انڈیا یوتھ کا مطلب ہوتا ہے – جوش و خروش اور توانائی۔ میرا یقین ہے کہ ہمارے ان توانائی سے لبریز نوجوانوں کے ہنر اور قوت سے ہی ہمارے نیو انڈیا کا خواب سچ ہوگا۔ جب ہم نئے ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو، نیا ہندوستان جو یہ نسل پرستی، فرقہ پرستی، دہشت گردی ، بدعنوانی کے زہر سے آزاد ہو۔ گندگی اور غریبی سے آزاد ہو۔ نیو انڈیا – جہاں سبھی کے لیے یکساں مواقع ہوں، جہاں سبھی کی خواہشات پوری ہوں۔ نیا ہندوستان، جہاں امن، اتحاد اور نیک خواہشات ہی ہمایا گائڈنگ فورس ہو۔ میرے یہ نیو انڈیا یوتھ آگےآئیں اور غور و فکر کریں کہ کیسے بنے گا نیو انڈیا۔ وہ اپنے لیے بھی ایک راستہ طے کریں، جن سے وہ جڑے ہوئے ہیں ان کو بھی جوڑیں اور کارواں بڑھتا چلے۔ آپ بھی آگے بڑھیں، ملک بھی آگے بڑھے۔ ابھی جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں تو مجھے ایک خیال آیا کہ کیا ہم ہندوستان کے ہر ضلع میں ایک مصنوعی پارلیمان منعقد کر سکتے ہیں؟ جہاں یہ 18 سے 25 سال کے نوجوان، مل بیٹھ کر کے نیو انڈیا پر غور و فکر کریں، راستے تلاش کریں، منصوبہ بنائیں؟ کیسے ہم اپنے عزم کو 2022 سے پہلے ثابت کریں گے؟ کیسے ہم ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کر سکتے ہیں جس کا خواب ہماری آزادی کے رہنماؤں نے دیکھا تھا؟ مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک کو عوامی تحریک بنا دیا تھا۔ ترقی کی عوامی تحریک۔ ترقی کی عوامی تحریک۔ ارتقائ-طاقتور ہندوستان کا عوامی تحریک۔ میں چاہتا ہوں کہ 15 اگست کے قریب دلی میں ایک مصنوی پارلیمنٹ منعقد ہو جہاں سبھی ضلع سے منتخب کیے گئے ایک نوجوان، اس موضوع پر بحث کرے کہ کیسے اگلے پانچ سالوں میں ایک نیو انڈیا کی تعمیر کی جا سکتی ہے؟ عہد سے عمل آوری کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟ آج نوجوانوں کے لیے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اسکل ڈیولپمنٹ سے لے کر اختراع اور انٹرپرینیورشپ میں ہمارے نوجوان آگے آ رہے ہیں اور کامیاب ہو رہے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ ان سارے موقعوں کے منصوبوں کی جانکاری اس نیو انڈیا یوتھ کو ایک جگہ کیسے ملے اور اس سے متعلق کوئی ایک ایسی تنظیم کھڑی کی جائے تاکہ 18 سال کے ہوتے ہی، اُسے اس دنیا کے بارے میں، ان ساری چیزوں کے بارے میں آسانی سے معلومات حاصل ہو اور وہ ضروری فائدہ بھی حاصل کر سکے۔
میرے پیارے ہم وطنوں، گزشتہ من کی بات میں میں نے آپ سے پازیٹیویٹی کی اہمیت کے بارے میں بات کی تھی۔ مجھے سنسکرت کا ایک شلوک یاد آرہا ہے –
اُتساہو بلواناریہ، ناستیوتساہات پرم بلم۔
سوتساہسیہ چ لوکیشو ن کنچدپی درلبھم۔
اس کا مطلب ہوتا ہے، جوش سے بھرا ایک فرد بہت طاقتور ہوتا ہے کیونکہ جوش سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ پازیٹیویٹی اور جوش سے بھرے افراد کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ انگریزی میں بھی لوگ کہتے ہیں – پیسزم لیڈس ٹو وکنیس، آپٹیمزم ٹو پاور۔ میں نے گزشتہ من کی بات میں ہم وطنوں سے درخواست کی تھی کہ سال 2017 کے اپنے پازیٹیو موومنٹس، شیئر کریں اور 2018 کا خیرمقدم ایک پازیٹیو ماحول میں کریں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کافی تعداد میں لوگوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، مائی گوو اور نریندر مودی ایپپ پر بہت ہی مثبت رد عمل ظاہر کیا، اپنے تجربے شیئر کیے۔ پازیٹیو انڈیا ہیش ٹیگ (#) کے ساتھ لاکھوں ٹویٹس کیے گئے جس کی پہنچ تقریباً ڈیڑھ سو کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں تک پہنچی ۔ ایک طرح سے پازیٹیو یٹی کا جو سنچار، ہندوستان سے شروع ہوا وہ دنیا بھر میں پھیلا۔ جو ٹوئیٹس اور رسپانس آئے وہ صحیح معنی میں تحریک دینے والے تھے۔ ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ کچھ ہم وطنوں نے اس سال کے ان واقعات کو شریک کیا جن کا ان کے من پر خاص اثر پڑا، مثبت اثر پڑا۔ کچھ لوگوں نے اپنی ذاتی کامیابی کو بھی شیئر کیا۔
ساؤنڈ بائٹ #
# میرا نام منو باٹیا ہے۔ میں میور وہار ، پاکیٹ ون، فیز ون، دلی میں رہتی ہوں۔ میری بیٹی ایم بی اے کرنا چاہتی تھی۔ جس کے لیے مجھے بینک سے لون چاہیے تھا۔ جو مجھے بڑی آسانی سے مل گیا اور میری بیٹی کی تعلیم جاری ہے۔
# میرا نام جیوتی راجندر واڈے ہے۔ میں بوڈل سے بات کر رہی ہوں۔ ہم نے ایک روپیہ مہینے کا کٹتا وہ بیمہ تھا ، یہ میرے شوہر نے کروایا ہوا تھا۔ اور ان کی ایک حادثے میں موت ہو گئی ہے۔ اس وقت ہماری کیا حالت ہوئی، ہم کو ہی معلوم۔ حکومت کی اس مدد سے ہم کو بہت فائدہ ہوا اور میں اس سے تھوڑی سنبھلی۔
# میرا نام سنتوش جادھو ہے۔ ہمارے گاؤں سے، بھنّر گاؤں سے 2017 سے قومی شاہراہ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری سڑکیں بہت بہتر ہو گئے اور بزنس بھی بڑھنے والا ہے۔
# میرا نام دیپانشو آہوجہ ، محلہ سعادت گنج، ضلع سہارنپور ، اترپردیش کا رہنے والا ہوں۔ دو واقعات ہیں جو ہمارے ہندوستانی فوجوں کے ذریعے – ایک تو پاکستان میں ان کے زریعہ کی گئی سرجیکل اسٹرائک جس سے کہ دہشت گرد کے لانچنگ پیڈس تھے، ان کو تباہ کر دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے ہندوستانی افواج کا ڈوکلام میں جو بہادری دیکھنے کو ملا وہ ناگزیر ہے۔
# میرا نام ستیش بیوانی ہے۔ ہمارے علاقے میں پانی کا مسئلہ تھا جو گزشتہ 40 سال سے ہم آرمی کے پائپ لائن پر منحصر ہوا کرتے تھے۔ اب الگ سے یہ پائپ لائن ہوئی ہے انڈپینڈینٹ ۔ تو یہ سب بڑی کامیابی ہے ہماری 2017 میں ۔
ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اپنے سطح پر ایسے کام کر رہے ہی جن سے کئی لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ حقیقت میں، یہی تو نیو انڈیا ہے جس کا ہم سب مل کر تعمیر کر رہے ہیں۔ آیئے، انہیں چھوٹی-چھوٹی خوشیوں کے ساتھ ہم نئے سال میں داخل ہوں، نئے سال کی شروعات کریں اور پازیٹیو انڈیا سے پروگریسیو انڈیا کی سمت میں مضبوط قدم بڑھائیں۔ تب ہم سب پازیٹیویٹی کی بات کرتے ہیں تو مجھے بھی ایک بات شیئر کرنے کا من کرتا ہے۔ حال ہی میں مجھے کشمیر کے انتظامی خدمات کے ٹاپر انجم بشیر خان کھٹک کی تحریک آمیز کہانی معلوم ہوئی۔ انہوں نے دہشت گرد ی اور نفرت سے باہر نکل کر کشمیر کے انتظامی خدمات کے امتحان میں ٹاپ کیا ہے۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ 1990 میں دہشت گردوں نے ان کے آبائی گھر کو جلا دیا تھا۔ وہاں دہشت گرد اور تشدد اتنی زیادہ تھی کہ ان کے خاندان کو اپنی آبائی زمین کو چھوڑ کر باہر نکلنا پڑا۔ ایک چھوٹے بچے کے لیے اس کے چاروں جانب اس قدر تشدد کا ماحول، دل میں اندھیرا اور کڑواہٹ پیدا کرنے کے لیے کافی تھا – لیکن انجم نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کبھی امید نہیں چھوڑی۔ انہوں نے اپنے لیے ایک الگ راستہ اختیار کیا – عوامی خدمت کا راستہ۔ وہ مخالف حالات سے باہر آ ئے اور کامیابی کی اپنی کہانی خود لکھی۔ آج وہ صرف جموں و کشمیر کے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کے لیے تحریک بن گئے ہیں۔ انجم نے ثابت کر دیا ہے کہ حالات کتنے خراب کیوں نہ ہوں، مثبت کاموں کے ذریعے نا امیدی کے بادل کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
ابھی گزشتہ ہفتہ ہی میں مجھے جموں و کشمیر کی کچھ بیٹیوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ان میں جو جذبہ تھا، جو جوش تھا، جو خواب تھے اور جب میں ان سے سن رہا تھا، وہ زندگی میں کیسے کیسے شعبے میں ترقی کرنا چاہتی ہیں۔ اور وہ کتنی امید سے لبریز زندگی والے لوگ تھے۔ ان سے میں نے باتیں کی، کہیں نا امیدی کا نام و نشان نہیں تھا – جوش، جذبہ تھا، توانائی تھی، خواب تھے، عزم تھے۔ ان بیٹیوں کے ساتھ، جتنا وقت میں نے بتایا، مجھے بھی تحریک ملی اور یہی تو ملک کی طاقت ہے، یہی تو میرے نوجوان ہیں، یہی تو میرے ملک کا مستقبل ہیں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، ہمارے ملک کے ہی نہیں، جب بھی کبھی ملک کے مشہور مذہبی مقامات کا ذکر ہوتا ہے تو کیرالہ کے سبری مالا مندر کی بات ہونی بہت فطری ہے۔ پوری دنیا میں مشہور اس مندر میں، بھگوان ایپّا سوامی کا آشرواد لینے کے لیے ہر سال کروڑوں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں، جس مقام کی اتنی بڑی اہمیت ہو، وہاں سوچھتا بنائے رکھنا کتنا بڑا چیلنج ہو سکتا ہے؟ اور خاص کر اس جگہ پر، جو پہاڑیوں اور جنگلوں کے دمیان واقع ہو۔ لیکن اس مسئلہ کو بھی کیسے بدلا جا سکتا ہے، مسئلہ سے نمٹنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے اور عوامی حصہ داری میں ایسی کیا قوت ہوتی ہے – یہ اپنے آپ میں سبری مالا مندر ایک مثال کے طور پر ہے۔ پی وجین نام کے ایک پولیس افسر نے پونیم پونکوانم ، ایک پروگرام شروع کیا اور اس پروگرام کے تحت، سووچھتا کے لیے بیداری کا ایک خودمختار مہم کا آغاز کیا۔ اور ایک ایسی روایت بنا دی کہ جو بھی مسافر آتے ہیں، ان کا سفراس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ وہ صفائی کے پروگرام میں کوئی نہ کوئی جسمانی محنت نہ کرتے ہوں۔ اس مہم میں نہ کوئی بڑا ہوتا ہے، نہ کوئی چھوٹا ہوتا ہے۔ ہر مسافر، بھگوان کی پوجا کا ہی حصہ سمجھ کر کے کچھ نہ کچھ وقت صفائی کے لیے کرتا ہے، کام کرتا ہے، گندگی ہٹانے کے لیے کام کرتا ہے۔ ہر صبح یہاں صفائی کا منظر بڑا ہی حیرت انگریز ہوتا ہےا ور سارے عازمین اس میں شریک ہوتے ہیں۔ کتنا بھی بڑا سیلیبریٹی کیوں نہ ہو، کتنا ہی امیر آدمی کیوں ہو، کتنا ہی بڑا افسر کیوں نہ ہو، ہر کوئی ایک عام مسافر کی طرح اس پونیم پونکوانم پروگرام کا حصہ بن جاتے ہیں، صفائی کر نے کے بعد ہی آگے بڑھتے ہیں۔ ہم وطنوں کے لے ایسے کئی مثالیں ہیں۔ سبری مالا میں اتنی آگے بڑھی ہوئی یہ صفائی مہم اور اس میں پونیم پونکوانم ، یہ ہر مسافر کے سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہاں سخت –ورت کے ساتھ صفائی کا مشکل ترین عزم بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔
میرے پیارے ہم وطنوں، 2 اکتوبر 2014 قابل احترام باپو کی یوم پیدائش پر ہم سب نے عہد کیا ہے کہ قابل احترام باپو کا جو ادھورا کام ہے یعنی کہ سوچھ بھارت، گندگی سے پاک بھارت۔ عظیم باپو زندگی بھر اس کام کے لیے کوشاں رہے، کوشش بھی کرتے رہے۔ اور ہم سب نے طے کیا کہ جب قابل احترام باپو کی 150ویں یوم پیدائش ہو تو انہیں ہم ان کے خوابوں کا ہندوستان، صاف ہندوستان، دینے کی سمت میں کچھ نہ کچھ کریں۔ صفائی کی سمت میں ملک بھر میں وسیع طور پر کوشش ہو رہی ہے۔ دیہی و شہری حلقوں میں وسیع طور پر عوامی شرکت داری سے بھی تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ شہری علاقوں میں صفائی کی سطح کی حصولیابیوں کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ 4 جنوری سے 10 مارچ 2018 کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا سروے، صفائی سروے 2018 کیا جائے گا۔ یہ سروے ، چار ہزار سے بھی زیادہ شہروں میں تقریباً چالیس کروڑ آبادی میں کیا جائے گا۔ اس سروے میں جن موضوعات کا جائزہ لیا جائے گا ان میں ہیں – شہروں میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہونا، کوڑے کا جمع کرنا، کوڑے کو اٹھا کر لے جانے کے لیے گاڑیوں کا انتظام، سائنسی طریقے سے کوڑے کی پروسیسنگ، ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کی جا رہی کوشش، کیپیسیٹی بلڈنگ اور صفائی کے لیے کی گئی اختراعی کوشش اور اس کام کے لیے عوامی حصہ داری۔ اس سروے کے دوران ، الگ الگ گروپ جا کر شہروں کا جائزہ لیں گے۔ شہریوں سے بات کر کے ان کی تجویز لیں گے۔ صفائی ایپ کے استعمال کا مختلف طرح کے خدمات – مقامات میں سدھار کا جائزہ لیں گے۔ اس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا ایسے سارے انتظامات شہروں کے ذریعے بنائی گئی ہیں جن سے شہر کی صفائی عوام کے ہر فرد کا مزاج بنے، شہر کا مزاج بن جائے۔ صفائی، صرف حکومت کرے ایسا نہیں۔ ہر شہری و شہری تنظیموں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اور میری ہر شہری سے درخواست ہے کہ وہ ، آنے والے دنوں میں صفائی سروے ہونے والا ہے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اور آپ کا شہر پیچھے نہ رہ جائے، آپ کا گلی محلہ پیچھے نہ رہ جائے – اس کی ذمہ داری اٹھائیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ گھر سے سوکھا کوڑا اور گیلا کوڑا، الگ الگ کر کے نیلے اور ہرے کوڑے دان کا استعمال کریں، اب تو آپ کی عادت بن ہی گئی ہوگی۔ کوڑے کے لیے ریڈیوس، ری یوز، اور ری سائکل کا فارمولہ بہت کارگر ہوتا ہے۔ جب شہروں کی رینکنگ اس سروے کی بنیاد پر کی جائے گی – اگر آپ کا شہر ایک لاکھ سے زیادہ آبادی کا ہے تو پورے ملک کی رینکنگ میں، اور ایک لاکھ سے کم آبادی کا ہے تو حلقے کی رینکنگ میں اونچے سے اونچا مقام حاصل کرے، یہ آپ کا خواب ہونا چاہیے، آپ کی کوشش ہونی چاہیے۔ 4 جنوری سے 10 مارچ 2018، کے درمیان ہونے والے صفائی سروے میں ، صفائی کے اس صحت مند مقابلے میں آپ کہیں پچھڑ نہ جائیں – یہ ہر نگر میں ایک عوامی بحث کا موضوع ہونا چاہے اور آپ سب کا خواب ہونا چاہیے، ہمارا شہر – ہماری کوشش، ہماری ترقی – ملک کی ترقی۔ آیئے، اس عہد کے ساتھ ہم سب پھر سے ایک بار پھر عظیم باپو کو یاد کرتے ہوئے صاف ہندوستان کا عہد لیتے ہوئے انسانیت کے مقصد کے لیے کوشش کریں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو دیکھنے میں بہت چھوٹی لگتی ہیں لیکن ایک سماج کے طور پر ہماری پہچان پر دور دور تک اثر ڈالتی رہتی ہیں۔ آج من کی بات کے اس پروگرام کے ذریعے سے میں آپ کے ساتھ ایسی ہی ایک بات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ ہماری جانکاری میں ایک بات آئی کہ اگر کوئی مسلم خاتون، حج کے لیے جانا چاہتی ہے تو وہ محرم یااپنے مرد گارجین کے بغیر نہیں جا سکتی ہیں۔ جب میں نے اس کے بارے میں پہلی بار سنا تو میں نے سوچا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسے قانون کس نے بنائیں ہوں گے؟ یہ امتیاز کیوں؟ اور میں جب اس کی گہرائی میں گیا تو میں حیران ہو گیا – آزادی کے ستر سال کے بعد بھی یہ پابندی لگانے والے ہم ہی لوگ تھے۔ دہائیوں سے مسلم خواتین کے ساتھ ظلم ہو رہا تھا لیکن کوئی بحث ہی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ کوئی اسلامک ممالک میں بھی یہ قانون نہیں ہے۔ لیکن ہندوستان میں مسلم خواتین کو یہ حق حاصل نہیں تھا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ ہماری حکومت نے اس پر توجہ دیا۔ ہماری اقلیتی امور کی وزارت نے ضروری قدم بھی اٹھائے اور یہ ستر سال سے چلی آرہی روایت کو ختم کر کے اس پابندی کو ہم نے ہٹا دیا۔ آج مسلم خواتین، محرم کے بغیر حج کے لیے جا سکتی ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ اس بار تقریباً 13 سو مسلم خواتین بغیر محرم کے حج پر جانے کے لیے درخواست دے چکی ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سے کیرالہ سے لے کر شمالی ہندوستان تک خواتین نے بڑھ چڑھ کر حج پر جانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اقلیتی امور کی وزارت کو میں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایسی سبھی خواتین کو حج پر جانے کی منظوری ملے جو اکیلے درخواست دے رہی ہیں۔ عام طور پر حج کے لیے لاٹری سسٹم ہے لیکن میں چاہوں گا کہ اکیلی خواتین کو اس لاٹری سسٹم سے باہر رکھا جائے اور ان کو اسپیشل کیٹیگری میں موقع دیا جائے۔ میں پوری دنیا سے کہتا ہوں اور یہ میری پکی سوچ ہے کہ ہندوستان کی ترقی کا سفر ، ہماری خواتین کی قوت کے طور پر ، ان کی قابلیت کے بھروسے سے آگے بڑھی ہے اور آگے بڑھتی رہے گی۔ ہماری مسلسل کوشش ہو نی چاہیے کہ ہماری خواتین کو بھی مردوں کے برابر حق ملے، برابر مواقع ملے تاکہ وہ بھی ترقی کے راستے پر ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
میرے پیارے ہم وطنوں، 26 جنوری ہمارے لیے ایک تاریخی تہوار ہے۔ لیکن اس سال 26 جنوری 2018 کا دن ، خاص طور سے یاد رکھا جائے گا۔ اس سال یوم جمہوریہ پروگرام کے لیے سبھی دس آسیان ممالک کے لیڈرمہمان خصوصی کے طور پر ہندوستان آئیں گے۔ یوم جمہوریہ پر اس بار ایک نہیں بلکہ دس مہمان خصوصی ہوں گے۔ ایسا ہندوستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ 2017، آسیان کے ملک اور ہندوستان ، دونوں کے لیے خاص رہا ہے۔ آسیان نے 2017 میں اپنے 50 سال پورے کیے اور 2017 میں ہی آسیان کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری کے 25 سال بھی پورے ہوئے ہیں۔ 26 جنوری کو دنیا کے 10 ممالک کے ان عظیم لیڈروں کا ایک ساتھ شریک ہونا ہم سبھی ہندوستانیوں کےلیے فخر کی بات ہے۔
پیارے ہم وطنوں، یہ تہواروں کا موسم ہے۔ ویسے تو ہمارا ملک ایک طرح سے تہواروں کا ملک ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہوگا جس کے نام کوئی تہوار نہ لکھا گیا ہو۔ ابھی ہم سبھی نے کرسمس منایا ہے اور آگے نیا سال آنے والا ہے۔ آنے والا نیا سال آپ سبھی کے لیے بہت سی خوشیاں، خوشحالی اور ترقی لے کر آئے۔ ہم سب نئے جوش، نئے حوصلے، اور نئے عہد کےساتھ آگے بڑھیں، ملک کو بھی آگے بڑھائیں۔ جنوری کا مہینہ سورج کے اترایان ہونے کا وقت ہے اور اسی مہینے میں مکر سنکرانتی منائی جاتی ہے۔ یہ قدرت سے جڑا تہوار ہے۔ ویسے تو ہمارا ہر تہوار کسی نہ کسی شکل میں فطرت سے منسلک ہے لیکن ہمہ جہت سے پُر ہماری ثقافت میں، ماحولیات کے اس حیرت انگیز واقعہ میں مختلف شکل میں منانے کا رواج بھی ہے۔ پنجاب اور شمالی ہندوستان میں لوہڑی کا مزہ ہوتا ہے تو یو پی ، بہار میں کھچڑی اور تل سنکرانتی کا انتظار رہتا ہے۔ راجستھان میں سنکرانت کہیں، آسام میں ماگھ – بہو یا تمل ناڈو میں پونگل – یہ سبھی تہوار اپنے آپ میں خاص ہیں اور ان کی اپنی اپنی خصوصیت ہے۔ یہ سبھی تہوار عام طور سے 13 سے 17 جنوری کے درمیان منائے جاتے ہیں۔ سبھی تہواروں کے نام الگ الگ، لیکن ان کا اصل موضوع ایک ہی ہے – فطرت اور زراعت سے جڑاؤ۔
سبھی ہم وطنوں کو ان تہواروں کی بہت بہت مبارکباد۔ ایک بار پھر سے آپ سبھی کو نئے سال 2018 کی بہت بہت مبارکباد۔
بہت بہت شکریہ پیارے ہم وطنوں۔ اب 2018 میں پھر سے بات کریں گے۔
شکریہ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن ۔ رض۔ م ج۔ ت ح
U-6578,
PM @narendramodi conveys Christmas greetings, talks about the commitment of Lord Christ to service. #MannKiBaat pic.twitter.com/lo4HRy5QEx
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
Service is a part of India's culture. #MannKiBaat pic.twitter.com/FiIO8goQr5
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
PM @narendramodi pays tributes to Guru Gobind Singh Ji. #MannKiBaat https://t.co/Y1Thhl6aLy pic.twitter.com/psqV1w1KIh
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
Tomorrow, 1st January is special. We welcome those born in the 21st century to the democratic system as they will become eligible voters. #MannKiBaat pic.twitter.com/zNGozfpaTT
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
A vote is the biggest power in a democracy. It can transform our nation. #MannKiBaat pic.twitter.com/EF6xuo1gAG
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
PM @narendramodi addresses the 'New India Youth' during today's #MannKiBaat pic.twitter.com/lbUtT6c6d8
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
The New India Youth will transform our nation. #MannKiBaat pic.twitter.com/KScr1V5dRL
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
We can have mock Parliaments in our districts, where we discuss how to make development a mass movement and transform India. The New India Youth must take a lead in this. #MannKiBaat pic.twitter.com/b7ysbh4XYT
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
There are several opportunities for our youth today. #MannKiBaat pic.twitter.com/9XAiCXKqzm
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
During #MannKiBaat last month, I had spoken about #PositiveIndia. I am happy that so many people shared their Positive India moments through social media: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
Let us enter 2018 with a spirit of positivity. #MannKiBaat pic.twitter.com/2LYZs4k8Yt
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
While talking about positivity, I want to talk about Anjum Bashir Khan Khattak, who excelled in the KAS exam. He overcame adversities and distinguished himself: PM @narendramodi during #MannKiBaat
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
PM @narendramodi appreciates the Punyam Poonkavanam initiative at the Sabarimala Temple in Kerala. #MannKiBaat
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
Towards a Swachh Bharat. #MannKiBaat pic.twitter.com/rYGmIwxjyX
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
Swachh Survekshan begins in January. We will once again have a look at the strides we are making in cleanliness and areas in which we can improve: PM @narendramodi #MannKiBaat
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
A step that will benefit Muslim women. #MannKiBaat pic.twitter.com/tkjfILvB7o
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017
India looks forward to welcoming ASEAN leaders for Republic Day 2018 celebrations. This is the first time so many leaders will grace the celebrations as the Chief Guests. #MannKiBaat pic.twitter.com/EF91d1oGMl
— PMO India (@PMOIndia) December 31, 2017