پی ایم انڈیا
جناب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کی ایک میٹنگ کی صدارت کی تاکہ جاری مغربی ایشیائی تنازع کے تناظر میں صورت حال اور مختلف وزارتوں اور محکموں کے ذریعے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ اس مسئلے پر چوتھی خصوصی سی سی ایس میٹنگ تھی۔
کابینہ سکریٹری نے سی سی ایس کو موجودہ جغرافیائی سیاسی صورت حال کے بارے میں تفصیل فراہم کی۔ انھوں نے پیٹرولیم مصنوعات، بشمول ایل این جی/ایل پی جی اور کھادوں کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ایل پی جی کی خریداری کے ذرائع کو پہلے ہی متنوع بنایا جا چکا ہے اور بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی ذخیرہ اور فراہمی کی صورت حال مناسب ہے۔ مناسب خام تیل کی دستیابی نے مرکزی پبلک سیکٹر انٹرپرائز (سی پی ایس ای) ریفائنریوں کو 100% سے زیادہ استعمال کی سطح پر کام کرنے کے قابل بنایا ہے، جس سے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل پیداوار یقینی بنی ہے۔ پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کنکشنز کو وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں پی این جی کنکشنز میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ بھارت سرکار نیشنل گیس گرڈ کی توسیع، ایل این جی درآمد اور ریگیسیفیکیشن انفراسٹرکچر میں اضافہ، سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی توسیع، اور پائپ لائن انفراسٹرکچر آرڈر، 2026 کے تحت وقت کے پابند پائپ لائن اور آخری میل کنیکٹیویٹی کی منظوریوں کے ذریعے ایل پی جی کے صنعتی متبادل کو بھی سہولت فراہم کر رہی ہے۔
میٹنگ کے دوران، آنے والے ربیع سیزن کے لیے کھادوں کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا اور کھادوں کے متبادل ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کھادوں کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔
تنازعات والے علاقوں میں ملکی اور غیر ملکی پرچم والے جہازوں پر خدمات انجام دینے والے ملاحوں کی صورت حال پر بھی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ملاحوں اور ان کے اہل خانہ کو بروقت معلومات، ہنگامی امداد اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات سے شہریوں کے ساتھ ساتھ بھارتی تارکین وطن کو بھی محفوظ رکھنے کے لیے تمام کوششیں کی جانی چاہئیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ توانائی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے، شمسی توانائی اور دیگر غیر فوسل ایندھن پر مبنی ذرائع سمیت قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع پر زور دیا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کا ایک کلی نقطہ نظر اپنایا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک متحد مربوط طریقہ کار قائم کیا جائے۔
***
(ش ح – ع ا)
U.No. 990
Earlier today, chaired a meeting of the CCS to review the situation in the wake of the ongoing happenings in West Asia. Discussed various issues pertaining to the welfare of people and ensuring uninterrupted supply of key items.https://t.co/pNn7Ar6NXg
— Narendra Modi (@narendramodi) July 30, 2026