پی ایم انڈیا
کھلومبائی کوکراجھار!
میرے عزیز ساتھیو!
خراب موسم کی وجہ سے میں کوکراجھار نہیں آ سکا۔ اس کے لیے میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں۔ یہاں گوہاٹی سے ہی آپ سے رابطہ ممکن ہو سکا ہے۔ میں آپ سے ملنے کے لیے دہلی سے روانہ ہوا تھا، لیکن مجھے گوہاٹی ہی میں اترنا پڑا۔ اب میں یہیں سے آپ کو دیکھ بھی رہا ہوں اور آپ سے گفتگو بھی کر رہا ہوں۔
اس پروگرام سے وابستہ آسام کے وزیرِ اعلیٰ بھائی ہمنتا بسوا سرما جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی سربانند سونووال جی، بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل کے چیف ایگزیکٹو ممبر ہاگراما موہیلاری جی، ہمارے ساتھ موجود آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ جی، آسام حکومت کے معزز وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی، بی ٹی سی کے تمام نمائندگان، معاشرے کے معزز بزرگوں اور میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
سب سے پہلے میں بودوفا اوپیندرناتھ برہما جی، روپناتھ برہما جی اور اس سرزمین کی دیگر عظیم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جہاں تک میری نظر جا رہی ہے، لوگوں کا ایک سمندر نظر آ رہا ہے۔ بڑی تعداد میں ہماری مائیں اور بہنیں بھی اپنی دعائیں اور آشیرواد دینے کے لیے آئی ہوئی ہیں۔ آپ اتنی بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوئے ہیں۔
آپ کا یہ پیار میرے لیے ایک قرض کی طرح ہے۔ اور میں ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہوں کہ اس قرض کو آپ کی خدمت کر کے ادا کروں، اس خطے کی ترقی کے لیے کام کر کے ادا کروں۔
ساتھیو!
چند ہفتے پہلے میں گوہاٹی میں تھا۔ وہاں مجھے باگورومبا دہو کے شاندار جشن میں شرکت کرنے اور بوڈو ثقافت کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت فخر محسوس ہوتا ہے کہ بوڈو سماج نے اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی روایات کو بڑی محبت اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھال کر رکھا ہے۔
چاہے باتھوؤ کی روحانی روایت ہو یا بیساغو کا تہوار—یہ سب چیزیں بھارت کی ثقافتی طاقت کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
ساتھیو!
بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے کی ڈبل انجن حکومت بھی آسام کی تہذیبی وراثت کے تحفظ اور آسام کی تیز رفتار ترقی، دونوں کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ آج اسی پروگرام میں اس علاقے کی ترقی کے لیے ساڑھے چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے اور کئی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا گیا ہے۔ ان میں سے گیارہ سو کروڑ روپے سے زائد رقم صرف بوڈولینڈ کی سڑکوں کی تعمیر اور بہتری پر خرچ کی جائے گی۔
آسام مالا مہم کے تیسرے مرحلے سے آسام کی سڑکوں کا رابطہ نظام مزید مضبوط ہوگا۔
ساتھیو!
کچھ دیر پہلے مجھے کاماکھیا–چارلاپلّی امرت بھارت ایکسپریس اور گوہاٹی–نیو جلپائی گوڑی ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھانے کا بھی موقع ملا ہے۔ ان تمام منصوبوں سے نہ صرف آپ کو سہولتیں ملیں گی بلکہ تجارت اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ اس سے کسانوں کی پیداوار بڑی منڈیوں تک آسانی سے پہنچ سکے گی۔ میں آپ سب کو ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
کوکراجھار سمیت اس پورے علاقے نے گزشتہ دہائیوں میں بہت کچھ برداشت کیا ہے اور بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ ہم نے وہ مشکل دور بھی دیکھا ہے جب ان پہاڑیوں میں صرف بموں اور بندوقوں کی آوازیں گونجتی تھیں۔ لیکن آج منظر بدل رہا ہے۔ آج یہی پہاڑیاں کھام کی تھاپ اور سیفونگ کی مدھر دھنوں سے گونج رہی ہیں۔ آج بوڈولینڈ امن اور ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکا ہے۔ آج آسام امن اور ترقی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔
ساتھیو!
آج یہاں بی ٹی آر (بوڈولینڈ ٹیریٹوریل ریجن) کے تحت چھ اہم سڑک منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس علاقے کی ریلوے رابطہ سہولت کو مضبوط بنانے کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہاں قائم ہونے والی ریلوے ورکشاپ اس علاقے کو لاجسٹکس کا ایک بڑا مرکز بنانے والی ہے۔ بھوٹان کو جوڑنے والی ریلوے لائن پر بھی کام جاری ہے اور کئی ریلوے اسٹیشنوں کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ اب وندے بھارت اور راجدھانی ایکسپریس جیسی ٹرینیں بھی کوکراجھار میں رکتی ہیں، جو بوڈولینڈ کے بہتر رابطہ نظام کا ثبوت ہے۔ ایسے منصوبوں کی بدولت کوکراجھار تجارت کا ایک بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔
ساتھیو!
میں ہاگراما موہیلاری جی کی ٹیم اور ہمنتا جی کی پوری ٹیم کو ترقیاتی کاموں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
کئی دہائیوں تک بوڈولینڈ کا یہ علاقہ کانگریس کی بے وفائی اور وعدہ خلافی کا گواہ رہا ہے۔ بوڈولینڈ کی کئی نسلوں کو کانگریس نے جھوٹے خوابوں میں الجھائے رکھا۔ دہلی میں بیٹھی کانگریس کی حکومتوں نے صرف دکھاوے کے لیے کاغذی معاہدے کیے۔
ساتھیو!
جب آپ نے ملک اور آسام دونوں جگہوں سے کانگریس کو ہٹا کر بی جے پی اور این ڈی اے کو موقع دیا تو ہم نے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ کوششیں شروع کیں۔ جہاں کانگریس اپنی مفاد پرستانہ سیاست کے لیے مختلف برادریوں میں تفرقہ پیدا کرتی تھی، وہیں بی جے پی نے مستقل امن کے قیام کے لیے کام کیا۔ اسی سوچ کے تحت بوڈو امن معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے میں پہلی بار تمام بڑے تنظیموں اور گروہوں کو ایک ساتھ لایا گیا۔
ساتھیو!
کانگریس کی ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ جھوٹے وعدوں کی دکان ہے۔ وہ ایک وعدہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ چار بڑے جھوٹ مفت میں پیش کر دیتی ہے، کیونکہ ان وعدوں کو پورا کرنے کا اس کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس آپ کے سامنے بی جے پی اور این ڈی اے کا ماڈل ہے۔ ہماری ڈبل انجن حکومت نے جو بھی کہا اسے پورا کرنے کی دیانت دارانہ کوشش کی ہے۔ اور یہ صرف آج کی بات نہیں ہے۔
سن 2003 میں جب دہلی میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپئی جی اس کی قیادت کر رہے تھے، تب بھی ہم نے پوری ایمانداری سے کام کیا۔ اسی دور میں سکسٹھ شیڈول کے تحت بی ٹی سی (بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل) کی تشکیل ہوئی، جس سے بوڈولینڈ کی ترقی کو نئی طاقت ملی۔ یہاں بوڈولینڈ یونیورسٹی قائم ہوئی، سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بنا، انجینئرنگ کالج قائم ہوا اور اس طرح کے کئی اہم منصوبے اس علاقے میں آئے۔
ساتھیو!
سن 2020 کے معاہدے کے تحت ہم نے جو وعدے کیے تھے، وہ ایک ایک کر کے تیزی سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ بوڈو زبان کو معاون سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ بوڈولینڈ کے لیے 1500 کروڑ روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج دیا گیا۔ آج کوکراجھار میں میڈیکل کالج کام کر رہا ہے اور تمول پور میں ایک نیا میڈیکل کالج تعمیر ہو رہا ہے۔ یہاں کئی نئے پل بن رہے ہیں۔
آج وہ تقریباً دس ہزار نوجوان جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، انہیں قومی دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وہ مائیں آج ہمیں دعائیں دے رہی ہیں جن کے بیٹے اب گھر واپس آ گئے ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
ساتھیو!
ہماری حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ بوڈو سماج کے عقیدے اور روایات کو قومی سطح پر مناسب احترام حاصل ہو۔ بوڈو سماج کے روایتی مذہبی عقیدے باتھوؤ کو بھی خصوصی عزت دی گئی ہے اور عبادت گاہوں کی ترقی کے لیے خصوصی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ساتھیو!
کانگریس کا ایک اور بڑا گناہ ہے جس نے ملک اور آسام کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس نے روٹی، بیٹی اور مٹی—تینوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کانگریس کا ہاتھ ہمیشہ سے دراندازوں کے ساتھ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ کانگریس نے کئی دہائیوں تک یہاں کے مقامی باشندوں کو زمین کے قانونی کاغذات تک نہیں دیے۔ اس نے قبائلیوں کی بڑی مقدار میں زمین دراندازوں کے حوالے کر دی۔
دھوبری اور گولپارا جیسے اضلاع میں تو حالات انتہائی سنگین ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے بوڈولینڈ میں آبادی کا توازن بگڑنے لگا تھا اور سماجی مسائل پیدا ہونے لگے تھے۔ مجھے اطمینان ہے کہ ہمنتا جی کی قیادت میں آسام میں دراندازوں کے قبضے سے زمین واپس لینے کی ایک بڑی مہم جاری ہے۔ یہاں بی جے پی–این ڈی اے حکومت نے آسام کے اصل باشندوں کو زمین کے قانونی دستاویزات بھی فراہم کیے ہیں۔
میں قبائلی برادری کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ آج میں آپ سے اپیل کرنے آیا ہوں کہ آنے والے انتخابات میں کانگریس کو سخت سے سخت سزا دیں اور ایک واضح پیغام دیں کہ اب دراندازوں کے لیے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ آسام سے اٹھنے والا پیغام پورے ملک کی آواز بن جائے گا۔
ساتھیو!
ہمیں آسام کی ترقی کی رفتار کو مسلسل تیز کرتے رہنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آسام کے عوام کی دعاؤں اور حمایت سے ترقی یافتہ آسام کا عزم ضرور پورا ہوگا۔ اسی یقین کے ساتھ میں آپ سب کو ایک بار پھر ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
نمستے۔
*******
ش ح۔ ش ت۔ ج
Uno-4031
Kokrajhar is closely associated with the glorious Bodo culture. Addressing a programme via video conferencing during the launch of development projects aimed at boosting the region’s growth.
— Narendra Modi (@narendramodi) March 13, 2026
https://t.co/bPn06JBhwj
आज बोडोलैंड शांति और विकास की राह पर चल पड़ा है... आज असम शांति और विकास का नया अध्याय लिख रहा है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 13, 2026
हमारी सरकार ने यह भी सुनिश्चित किया है कि बोडो समाज की आस्था और परंपराओं को राष्ट्रीय स्तर पर सम्मान मिले।
— PMO India (@PMOIndia) March 13, 2026
बोडो समाज की पारंपरिक आस्था, बाथोऊ को भी बड़ा सम्मान दिया गया है: PM @narendramodi