Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

انڈیا موبائل کانگریس کے 10ویں ایڈیشن کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم کی تقریر کا متن

انڈیا موبائل کانگریس کے 10ویں ایڈیشن کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم کی تقریر کا متن


مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب جیوتی رادتیہ سندھیا جی، وزیر مملکت جناب چندر شیکھر پیمّاسانی جی، مختلف ریاستی حکومتوں کے وزرا، جی ایس ایم اے بورڈ کے تمام اراکین، دنیا بھر سے آئے ہوئے ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندگان، صنعت کے سرکردہ افراد، ماہرین، ملک کے مختلف کالجوں اور اسٹارٹ اپس سے آئے میرے نوجوان ساتھیو، خواتین و حضرات!

آج 8 اکتوبر ہے، ہندوستان کے لیے یہ ایک خاص دن ہے۔ آج کا دن ہم یومِ فضائیہ کے طور پر مناتے ہیں۔ میں اپنے تمام جانبازوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور ملک کے عوام کو یومِ فضائیہ کی مبارک باد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

جیسا کہ ابھی سندھیا جی بتا رہے تھے، کل ہی مجھے ’حکومت کے سربراہ)ہیڈ آف دی گورنمنٹ)‘ کی حیثیت سے ملک کی خدمت کرتے ہوئے 25 سال مکمل ہوئے ہیں۔ میرے لیے یہ خدمت کا ایک فطری اور مسلسل سفر رہا ہے۔ میں ہر ہم وطن اور دنیا بھر میں ہندوستان کے ہر دوست کا نیک خواہشات کے لیے دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیو،

یہ بھی ایک حسنِ اتفاق ہے کہ اسی موقع پر ’انڈیا موبائل کانگریس‘ کانفرنس کے بھی 10 سال مکمل ہوئے ہیں۔ اس سال جی ایس ایم اے بورڈ کے اجلاس کے لیے ہندوستان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ میں دنیا بھر سے آئے ٹیلی کام آپریٹرز، صنعت کے سرکردہ افراد، ماہرین، علمی و تحقیقی شعبے اور اسٹارٹ اپس کے آپ سبھی نمائندگان کا ہندوستان میں خیرمقدم اور استقبال کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آج صبح ہی یہ خبر آئی کہ معروف اداکار نانا پاٹیکر جی اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ ایک بہترین فنکار تھے، جنہوں نے مختلف کرداروں کے ذریعے ناظرین کے دل جیتے۔ نانا پاٹیکر جی کی زندگی ترنگے کی آن، بان اور شان کے لیے وقف رہی۔ وہ کسی بندھن میں نہیں رہے بلکہ پرندے کی طرح فلموں کے آسمان میں پرواز کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے معاشرے میں پھیلی بدعنوانیوں اور بے ترتیبی پر بھرپور ضرب لگائی۔ وہ ایسے کرانتی ویر تھے، جنہوں نے برائیوں کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کی آواز جتنی پُراثر تھی، ان کی خاموشی بھی اتنی ہی معنی خیز تھی۔ وہ ملک دشمن عناصر پر مسلسل لگام کسنے کے حامی تھے۔ میں نانا پاٹیکر جی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

ساتھیو،

مجھے ’انڈیا موبائل کانگریس‘ کے کئی اجلاسوں میں آپ سب کے درمیان آنے کا موقع ملا ہے۔ ٹیلی کام شعبے اور ڈیجیٹل رابطے میں کس طرح تبدیلی آئی ہے، یہ پلیٹ فارم اس کا گواہ رہا ہے۔ 2022 میں اسی پلیٹ فارم سے ہم نے ملک میں 5جی کی شروعات کی تھی، پھر 2023 میں میں نے بتایا تھا کہ ہندوستان کس طرح 5جی کی رسائی کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ اور آج ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے ہر ضلع تک 5جی رابطہ پہنچ چکا ہے۔ آج ہندوستان میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ بیس اسٹیشن موجود ہیں، جہاں سے 5جی نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اور موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 2022 کے مقابلے میں 10 گنا بڑھ گئی ہے۔

ساتھیو،

انڈیا موبائل کانگریس کے اسی پلیٹ فارم پر 2024 میں ہم نے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین، آئی ٹی یو کی موجودگی دیکھی ۔ اس وقت ہم نے ڈیجیٹل دنیا کے لیے عالمی معیارات کی ضرورت پر بات کی تھی۔ اور گزشتہ سال سرمایہ کاری، اختراع اور میک ان انڈیا پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ آج ہندوستان ٹیلی کام شعبے میں جہاں پہنچا ہے، اس میں انڈیا موبائل کانگریس کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم ہندوستان کی ترقی اور ہندوستان کے خوابوں کا پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔ اسی لیے میں آپ سب کا خصوصی طور پر خیرمقدم اور استقبال کرتا ہوں۔

دوستو،

اس سال آپ سب نے اس سربراہی اجلاس میں اپنے غوروفکر کے لیے جو موضوع طے کیا ہے، وہ ہے ’اسکیل وِد آؤٹ باؤنڈریز‘ یعنی ہر حد سے آگے بڑھ کر وسعت پیدا کرنا۔ میں آپ کو ہندوستان کے تجربات کی روشنی میں بتانا چاہوں گا کہ ہم نے ’اسکیل وِد آؤٹ باؤنڈریز‘ کے خواب کو کس طرح حقیقت میں ڈھال کر دکھایا ہے۔

ساتھیو،

جب ہم ٹیلی کام کی بات کرتے ہیں تو اکثر نیٹ ورک کی بات ہوتی ہے، اسپیکٹرم پر بحث ہوتی ہے، ٹاورز، رسائی اور رفتار کا ذکر ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان کے لوگوں کے لیے ٹیلی کام کے معنی اور بھی  زیادہ رہے ہیں۔ گزشتہ 10-12 برسوں میں موبائل فون جدید مواصلات کے ذریعے کے ساتھ ساتھ بہتر گورننس کے ایک اہم وسیلے کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔ اور یہ ہمارے ڈیجیٹل انڈیا کے وژن کے بنیادی مرکز میں رہا ہے۔

 

ساتھیو،

آج ہم سنتے ہیں کہ ہندوستان میں ڈیٹا سستا ہے، موبائل فون سستے ہیں، موبائل فون صارفین کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ درست ہے، لیکن یہ سب کچھ ہوا کیسے؟ اور یہ سب کیوں کیا گیا؟ جب ہم یہ سمجھیں گے تو سب کے لیے ہندوستان کی توجہ اور ترجیحی شعبہ بالکل واضح ہو جائے گا۔

ساتھیو،

ایک دہائی قبل  تک ہندوستان میں ڈیجیٹل تقسیم ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔ جدید ٹیکنالوجی بتدریج ایک مراعات یافتہ طبقے تک محدود ہوتی جا رہی تھی۔ یعنی جس کے پاس وسائل تھے، وہی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ ہندوستان میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی بنتی جا رہی تھی۔ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ مہم کے ذریعے ہم نے اس صورت حال کو بدلنے کا عزم کیا اور موبائل فون کو اس مہم کا مرکز بنایا۔ یہ ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی سمت ایک بہت بڑی کوشش تھی۔ اس مقصد کے لیے ٹیلی مواصلات کے شعبے میں تمام ضروری اصلاحات کی گئیں، بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی گئی۔ ہم نے اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ موبائل فون اور دیگر ٹیلی مواصلاتی آلات ہندوستان میں ہی تیار کیے جائیں۔

ساتھیو،

ایسی تمام کوششوں سے ہندوستان کے عام شہریوں کے لیے موبائل فون اور ڈیٹا تک رسائی مزید آسان اور سہل ہوگئی۔ اور آج یہ ہندوستان کے لوگوں کی زندگی کو مزید آسان بنا رہا ہے۔ کووڈ کے دوران بھی ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح سب کچھ رک گیا تھا۔ لیکن ہندوستان میں دفاتر کا کام جاری رہا، بینکوں کی خدمات جاری رہیں اور تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ یہ ہندوستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی وجہ سے ممکن ہوا۔ موبائل اور انٹرنیٹ کی رابطے کی سہولت نے تعلیم، صحت، ادائیگیوں اور سرکاری خدمات کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھا۔ آج دور دراز علاقوں اور غریب خاندانوں کے بچے بھی معیاری معلومات اور علم تک رسائی حاصل کر پا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل لرننگ سب کی پہنچ میں آ رہی ہے۔

ساتھیو،

میں آپ کو ایک ایسا اعداد و شمار بتاتا ہوں، جس سے ڈیجیٹل انڈیا کے اثرات کا مزید اندازہ ہوتا ہے۔ آن لائن تعلیم کے لیے ہمارا ’دکشا‘ پلیٹ فارم ہے۔ کووڈ کے دوران، جولائی 2022 تک اس پلیٹ فارم پر 500 کروڑ سے زیادہ تعلیمی نشستیں(لرننگ سیشن) اور تقریباً 6 ہزار کروڑ تعلیمی منٹ ریکارڈ کیے گئے۔ اب ہماری کوشش ہے کہ ڈیجیٹل اور آن لائن تعلیم کے ہمارے تمام ذرائع سے تقریباً 25 کروڑ طلبہ کو جوڑا جا سکے۔

یعنی ساتھیو،

ٹیلی کام کے شعبے میں آنے والے انقلاب کا ہندوستان کے شہریوں کو براہِ راست فائدہ ہوا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان زبان اور جغرافیہ، ہر لحاظ سے ایک متنوع ملک ہے، جو مختلف النوع خصوصیات سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں بہت سی دشواریاں بھی پیش آتی ہیں۔ موبائل رابطے نے اس تنوع کو بھی سہولت سے جوڑ دیا ہے۔ پہلے زیادہ تر بینک صرف شہروں میں ہوتے تھے، اسپتال شہروں میں ہوتے تھے، سرکاری دفاتر بلاک یا ضلع کی سطح پر ہوتے تھے۔ یعنی کوئی بھی کام ہو، سرکاری خدمات حاصل کرنی ہوں، تو لوگوں کا پیسہ اور وقت دونوں خرچ ہوتے تھے۔ ڈیجیٹل حکمرانی نے ان حالات کو بدل دیا ہے۔ آج حکومت کی سیکڑوں خدمات موبائل فون پر دستیاب ہیں۔ سرکاری امداد اب براہِ راست مستحقین کے کھاتوں میں پہنچتی ہے۔ براہِ راست فائدہ منتقلی کے ذریعے تقریباً 50 لاکھ کروڑ روپے، 50 لاکھ کروڑ روپے براہِ راست مستحقین کے موبائل فون تک پہنچائے گئے، ان کے بینک کھاتوں میں پہنچے۔ اور اس کے نتیجے میں تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپے، یہ کوئی چھوٹا اعداد و شمار نہیں ہے، 5 لاکھ کروڑ روپے غلط ہاتھوں میں جانے سے بچائے گئے ہیں۔ اب مجھے بتائیے، جن لوگوں کی یہ مفت کی کمائی بند ہوگئی ہے، وہ کیا مودی سے محبت کریں گے؟ میں نے صحیح کیا یا نہیں کیا؟ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے ؟ ان تمام غلط کاموں کو بند کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے؟ وہ چاہے کتنا ہی شور مچائیں، چیختے چلّاتے رہیں، میں نے یہ عزم کرلیا ہے، اسے کرکے  رہوں گا۔

ساتھیو،

اگر پرانا نظام برقرار رہتا تو حکومت کے 5 لاکھ کروڑ روپے رِساؤ (لیکیج )میں چلے جاتے اور ایسے لوگوں کی جیبیں بھر دیتے، مودی نے اسے روکا ہے۔ اور اب یہی رقم صحیح مستحقین تک پہنچ رہی ہے اور بچنے والی رقم کو صحیح کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ہم اب تک 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کرچکے ہیں۔ یہ رقم ہر چار ماہ بعد بھیجی جاتی ہے اور کسان کو اس کی اطلاع موبائل فون پر ہی پیغام کے ذریعے مل جاتی ہے۔ یہ رقم ان کروڑوں چھوٹے کسانوں تک پہنچی ہے، جن تک کبھی سرکاری اسکیموں کا فائدہ پہنچ ہی نہیں پاتا تھا۔

یعنی ساتھیو،

موبائل فون اب صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے کم سفر، کم انتظار، کم خرچ اور زیادہ سہولت، یہ سب کچھ یقینی بنایا ہے۔ اور یہی ٹیکنالوجی سے شہریوں کو ملنے والا سب سے بڑا فائدہ ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان کے ٹیلی کام بنیادی ڈھانچے میں مسلسل توسیع ہوئی ہے۔ دور دراز علاقوں میں ٹاور نصب کیے گئے، آپٹیکل فائبر کا بے مثال پیمانے پر پھیلاؤ ہوا اور ڈیٹا بھی سستا ہوا۔ اس سے معیشت کے نئے شعبے بھی وجود میں آئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تفریح اور تعلیم کے شعبوں میں نئے صارفین پیدا ہوئے اور تخلیق کاروں کی ایک نئی نسل بھی تیار ہوئی ہے۔آپ گیمنگ کے شعبے ہی کو دیکھ لیجیے۔ ایک اندازے کے مطابق آج ہندوستان میں 50 کروڑ سے زیادہ لوگ کسی نہ کسی طرح گیمنگ ایکو سسٹم سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں ہندوستان کے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ٹائر-2  اور ٹائر 3 شہروں کے نوجوان بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب وہ کھیلوں سے جڑنے کے ساتھ ساتھ ای اسپورٹس میں مقابلہ کر رہے ہیں، گیمنگ کا مواد تیار کر رہے ہیں اور گیمنگ کے نئے کاروبار قائم کر رہے ہیں۔ یعنی ہندوستان میں موبائل فون آج گیمنگ کنسول بھی ہے اور تخلیق کا اسٹوڈیو بھی بن چکا ہے۔

ساتھیو،

ہندوستان میں آنے والے ٹیلی کام انقلاب نے مواد کی دنیا میں بھی یہی تبدیلی پیدا کی ہے۔ بہتر، تیز رفتار رابطے اور سستے ڈیٹا نے متعدد ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارموں، سوشل میڈیا اور علاقائی او ٹی ٹی پلیٹ فارموں کو گاؤں اور قصبوں تک پہنچا دیا ہے۔ اس سے زبان سے متعلق جو مسائل اور بندشیں تھیں، وہ بھی دور ہوگئی ہیں۔ یعنی صرف مواد تیار کرنے (کنٹینٹ کریشن )سے وابستہ صنعت ہی آج ہندوستان میں ہزاروں کروڑ روپے کی ہوچکی ہے، جس سے لاکھوں لوگوں کی آمدنی ہورہی ہے۔ یعنی موبائل فون نے ہندوستان میں مواد کی تخلیق کو بھی عام لوگوں کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔

ساتھیو،

آج جب ٹیلی کام اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اتنی اہمیت رکھتے ہیں، تو اس سے متعلق حفاظتی نظام کو بھی مضبوط اور مستعد بنانا بہت ضروری ہے۔ فون کا تحفظ اور نیٹ ورک کا تحفظ، یہ ہم سب کی ترجیح ہے۔ ایک عام شہری کسی ضابطے یا آرکیٹیکچر کی زبان میں نہیں سوچتا، اس کے لیے اعتماد بہت اہم ہے۔ جب اس کے فون پر کال آئے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کال کون کر رہا ہے۔ جب کوئی پیغام آئے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اصلی ہے یا جعلی۔ جب ادائیگی ہو تو اسے یقین ہونا چاہیے کہ اس کی رقم محفوظ ہے۔ جب وہ کسی بھی صورت میں اپنا ڈیٹا فراہم کرے تو اسے یقین ہونا چاہیے کہ اس کا ڈیٹا محفوظ ہے۔

ساتھیو،

ٹیکنالوجی کو وسعت اسی وقت حاصل ہوتی ہے، جب وہ اعتماد حاصل کرتی ہے۔ اور آپ سب جانتے ہیں کہ سائبر فراڈ اور سائبر جرائم بھی کسی سرحد کو نہیں مانتے، وہ پہلے ہی سرحدوں سے باہر جاچکے ہیں۔ ایک ملک میں بیٹھا شخص کسی دوسرے ملک کی مدد سے تیسرے ملک میں جرم کرسکتا ہے۔ ڈیپ فیک آج کتنے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے لیے ایک عالمی نظامِ کار (میکانزم )تشکیل دینے پر کام کریں۔ حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، ٹیلی کام آپریٹروں اور مالیاتی اداروں، سبھی کو اس نظامِ کار سے جڑنا ہوگا۔ میں جی ایس ایم اے اور دنیا بھر کے ٹیلی کام آپریٹروں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ آئیے، ایسا عالمی میکانزم وضع کریں جو اس طرح کے فراڈ کو لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک سکے۔ ہندوستان نے اس سمت میں اپنے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہندوستان اپنے تجربات دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

ساتھیو،

اس دہائی میں اب صرف چار سال باقی ہیں۔ انڈیا موبائل کانگریس کے اس اجلاس میں اب آپ جو تبادلۂ خیال کریں گے، وہ اگلی دہائی کے لائحۂ عمل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اور یہ لائحۂ عمل ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی موبائل مارکیٹ کو بھی سمت فراہم کرے گا۔گزشتہ برسوں میں ہندوستان نے صارف سے تخلیق کار بننے کا سفر طے کیا ہے۔ اب ہندوستان اس مقصد کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں مصنوعات اور ڈیزائن بھی ہندوستان میں تیار ہوں گے، ان کی ٹیکنالوجی اور دانشورانہ ملکیت بھی ہندوستان کی ہوگی۔ اس کے لیے تمام ضروری ترغیبات دی جارہی ہیں اور تمام ضروری اصلاحات کی جارہی ہیں۔ یعنی ٹیلی کام شعبے میں بھی اصلاحات کی رفتار تیز ہورہی ہے۔ہم کئی دہائیوں پرانے قوانین کو جدید بنا رہے ہیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کے ذریعے ہم نے ایک جدید ضابطہ جاتی نظام تشکیل دیا ہے۔ اے جی آر اور بینک گارنٹی جیسی ساختی رکاوٹوں کو معقول بنانے، یعنی بوجھ کو مواقع میں تبدیل کرنے کا کام بھی ہماری جانب سے کیا جارہا ہے۔ اور ’گتی شکتی سنچار پورٹل‘ نے راستہ استعمال کرنے کی منظوریوں کو ڈیجیٹل ذرائع سے مزید تیز رفتار بنا دیا ہے۔

ساتھیو،

ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم )بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اب تک پانچ مقامات پر تجارتی پیداوار بھی شروع ہوچکی ہے۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے اگلے مرحلے میں ہماری توجہ پوری سپلائی چین پر ہے۔ یعنی ہندوستان ٹیلی کام شعبے سے وابستہ ہر شعبے میں بڑے قدم اٹھا رہا ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ برسوں کے دوران انڈیا موبائل کانگریس کے ذریعے ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے، لیکن ترقی کا یہ سفر ہر روز نئی منزلیں طے کرنے کا سفر ہے۔ ہمارے سامنے وکست بھارت کا ایک عظیم عزم ہے، اس کے لیے ہمیں اپنی کوششوں کا دائرہ مسلسل وسیع کرتے رہنا ہوگا۔یہاں جن ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی ہے، ان کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن آئی ایم سی کو ان شراکت داریوں کے لیے یاد کیا جائے جو یہاں بنی ہیں ، ان تحقیقی پروجیکٹوں  کے لیے یاد کیا جائے جو یہاں شروع ہوئے، ان مصنوعات کے لیے یاد کیا جائے جو یہاں سے دنیا تک پہنچیں، اور ان اختراعات کے لیے یاد کیا جائے جنہوں نے ہندوستان سے نکل کر پوری انسانیت کی خدمت کی۔ہمیں آئی ایم سی کو ایسا پلیٹ فارم بنانا ہے جو ٹیکنالوجی، تحقیق، صنعت، سرمایہ کاری اور خیالات کا ایک سنگم بن سکے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سب اس مقصد کے لیے پوری جانفشانی سے کوششیں جاری رکھیں گے۔ اسی توقع کے ساتھ ایک بار پھر آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔

بہت بہت شکریہ۔

……………..

) ش ح –    ش آ-   ن ع)

U.No. 4830