پی ایم انڈیا
اس خاص موقع پر آپ نے مجھے اپنے جذبات کے اظہار کا جو موقع فراہم کیا ہے، اس کے لیے میں آپ کا تہہِ دل سے بے حد شکر گزار ہوں۔
محترم چیئرمین!
ایوان کے اندر مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے اور ہر ایک کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔ اس دوران کچھ خوشگوار اور کچھ تلخ تجربات بھی سامنے آتے ہیں۔ لیکن جب ایسا موقع آتا ہے تو فطری طور پر ہم سب جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ جذبے کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہمارے ساتھی کسی نئے اور خاص فریضے کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں۔جو اراکین یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں، ان میں سے کچھ دوبارہ واپس آنے کی امید کے ساتھ جا رہے ہیں، جبکہ کچھ یہاں کے تجربات کو ساتھ لے کر سماجی زندگی میں کوئی نمایاں خدمت انجام دینے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ جو ساتھی جا رہے ہیں اور شاید واپس نہ آئیں، ان سے بھی میں کہنا چاہوں گا کہ سیاست میں کبھی مکمل وقفہ (فل اسٹاپ) نہیں ہوتا۔ مستقبل آپ کا منتظر ہے اور آپ کا تجربہ اور خدمات ہمیشہ قومی زندگی کا حصہ رہیں گی۔
محترم چیئرمین!
اس ایوان سے رخصت ہونے والے تمام معزز اراکینِ پارلیمان نے نہایت قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ کچھ اراکین ایسے بھی ہیں جن کی رخصتی اس وقت ہوگی جب ایوان کا اجلاس نہیں چل رہا ہوگا، جبکہ کچھ کو ایوان کے دوران ہی الوداع کہا جا رہا ہے۔میں خاص طور پر معزز دیوگوڑا جی، معزز کھڑگے جی اور معزز شرد پوار جی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ وہ بزرگ اور سینئر شخصیات ہیں جن کی زندگی کا نصف سے بھی زیادہ حصہ پارلیمانی نظام میں گزرا ہے۔ اتنے طویل تجربے کے باوجود ان کا ایوان میں آنے کا جذبہ، ان کی سنجیدگی اور اپنی ذمہ داریوں کے تئیں مکمل وابستگی ہم سب، خاص طور پر نئے اراکین کے لیے سیکھنے کا باعث ہے۔ معاشرے کی جانب سے جو ذمہ داری انہیں سونپی گئی اسے انہوں نے پوری دیانت اور لگن کے ساتھ نبھایا۔ میں ان کی خدمات کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں، کیونکہ اتنا طویل عرصہ معمولی بات نہیں بلکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اسی طرح ہمارے ڈپٹی چیئرمین ، جناب ہری ونش جی بھی رخصت ہو رہے ہیں۔ انہیں اس ایوان میں طویل عرصے تک اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا موقع ملا۔ وہ نہایت نرم گفتار ہیں اور ایوان کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے سب کا اعتماد حاصل کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ مشکل وقت میں اکثر یہ ذمہ داری ڈپٹی چیئرمین کے کندھوں پر آ جاتی ہے کہ وہ حالات کو سنبھالیں۔ اس دوران انہیں ایک طویل تجربہ حاصل ہوتا ہے اور وہ سب کو اچھی طرح سمجھنے لگتے ہیں،ان کی خدمات بھی قابلِ قدر ہیں۔ مزید یہ کہ میں نے دیکھا ہے کہ جب ایوان کا اجلاس نہیں ہوتا، تب بھی وہ ملک کے مختلف حصوں میں جا کر نوجوانوں سے ملاقات کرتے ہیں، انہیں ملک کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں اور ان میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک مسلسل خدمت ہے۔ وہ قلم کے ماہر تو ہیں ہی، لیکن عمل کے میدان میں بھی انہوں نے پورے ہندوستان میں جا کر اپنا کام کیا ہے۔
محترم چیئرمین !
ہم سنا کرتے تھے کہ ایوان میں مزاح، ظرافت اور طنز و مزاح کے کبھی خوب مواقع ملا کرتے تھے۔ لیکن آج کل شاید یہ روایت آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ 24 گھنٹے چلنے والے میڈیا کے اس دور میں ہر شخص کچھ نہ کچھ محتاط رہتا ہے۔ تاہم ہمارے اَٹھاولے جی ہمیشہ کی طرح شگفتگی کا رنگ قائم رکھتے ہیں۔ وہ رخصت ہو رہے ہیں، لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ یہاں کسی کو ان کی کمی محسوس نہیں ہوگی، کیونکہ وہ اپنی برجستہ ظرافت اور مزاح سے ماحول کو ہمیشہ خوشگوار بناتے رہیں گے۔
محترم چیئرمین !
ایوان سے ہر دو سال بعد ایک بڑا گروہ رخصت ہوتا ہے، لیکن یہ ایک ایسا نظام ہے کہ جب نیا گروہ آتا ہے تو جو اراکین پہلے سے یہاں موجود ہوتے ہیں، ان کے تجربے سے نئے آنے والوں کو فوراً سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی جو روایت اور وراثت ہے، وہ ایک مسلسل عمل کے طور پر جاری رہتی ہے اور یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جو اراکین اس بار رخصت نہیں ہو رہے، وہ نئے آنے والے معزز اراکین کو اپنے تجربے سے مستفید کریں گے اور ان کا تعاون بھی ایوان کو مزید مضبوط اور ثروت مند بنائے گا۔
محترم چیئرمین !
ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی میں، خاص طور پر عوامی زندگی میں، جب بھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو عموماً گھر کے افراد مل بیٹھ کر ایک رائے قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اکثر کہا جاتا ہے کہ کسی اور سے بھی مشورہ کر لیا جائے، یعنی ایک ’’دوسری رائے‘‘ (سیکنڈ اوپینین) لے لی جائے، کسی بزرگ یا تجربہ کار شخص سے۔ گھر میں بزرگ کہتے ہیں کہ محلے میں کوئی صاحبِ تجربہ موجود ہیں، ان سے بھی پوچھ لو کہ ان کی کیا رائے ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی بیمار ہو تو بھی کہا جاتا ہے کہ کسی دوسرے ڈاکٹر سے بھی مشورہ کر لو، کیونکہ دوسری رائے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔میرا ماننا ہے کہ ہمارے پارلیمانی نظام میں یہ ’’دوسری رائے‘‘ ایک بہت بڑی قوت کے طور پر موجود ہے۔ ایک ایوان میں کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے ایوان میں جاتا ہے تاکہ اس پر دوسری رائے حاصل کی جا سکے۔ اگر یہ فیصلہ اس ایوان میں ہوتا ہے تو دوسرے ایوان میں بھیجا جاتا ہے، اور اگر وہاں ہوتا ہے تو یہاں آتا ہے۔ یہ دوسری رائے پوری بحث اور فیصلہ سازی کے عمل کو ایک نیا زاویہ دیتی ہے اور میرے خیال میں یہ ہماری فیصلہ سازی کو مزید مضبوط اور مؤثر بناتی ہے۔ اسی لیے ایوان کے معزز اراکین کے لیے ایک کشادگی موجود رہتی ہے کہ اگر ایک ایوان میں کوئی پہلو رہ جائے تو دوسرے ایوان میں ایک نئی رائے سامنے آ سکتی ہے۔ یوں یہ ’’دوسری رائے‘‘ ہمارے جمہوری نظام میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی وراثت ہے جسے ہمیں سنبھال کر رکھنا ہے۔ اس میں ہمارے جو معزز اراکین آج رخصت ہو رہے ہیں، ان کا بھی اہم حصہ رہا ہے اور اس کے لیے میں ان سب کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
محترم چیئرمین !
جو ہمارے معزز اراکینِ پارلیمان آج رخصت ہو رہے ہیں، ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسا موقع دوبارہ میسر نہ آئے۔ یہ وہ خوش نصیب اراکین ہیں جنہیں پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی بیٹھنے کا موقع ملا اور نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہیں دونوں عمارتوں میں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور ان کی مدت کار میں ہی انہیں نئے ایوان کی تعمیر کے عمل اور اس کے تحت ہونے والی فیصلہ سازی میں بھی شریک ہونے کا موقع نصیب ہوا۔ یہ ان کی زندگی کی ایک خاص اور یادگار بات رہے گی، ایک نئی اور اہم یاد کے طور پر ہمیشہ ان کے ساتھ جڑی رہے گی۔
محترم چیئرمین !
میں تمام معزز اراکینِ پارلیمان کو یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ ایوان اپنے آپ میں ایک عظیم اوپن یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قوم کی زندگی کے بے شمار باریک پہلوؤں کو سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک لحاظ سے یہاں ہمیں تعلیم بھی ملتی ہے اور تربیت بھی۔ یہ چھ سال جو یہاں گزارنے کا موقع ملتا ہے، وہ نہ صرف قومی زندگی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے قیمتی ہے،کیونکہ ہم فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں،بلکہ یہ خود اپنی شخصیت کو سنوارنے اور نکھارنے کا بھی ایک بے مثال موقع ہوتا ہے۔اسی لیے جب کوئی رکن یہاں آتا ہے تو اس کی جو سوچ، سمجھ اور صلاحیت ہوتی ہے، واپسی کے وقت وہ کئی گنا بڑھ چکی ہوتی ہے، اس میں وسعت آ چکی ہوتی ہے، اور تجربے کی ایک مضبوط بنیاد اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایوان سے رخصت ہونے کے بعد بھی وہ قومی زندگی میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ کسی باقاعدہ نظام کے تحت ہو یا اس کے بغیر، ان کی قیمتی خدمات جاری رہتی ہیں اور ان کا تجربہ ہمیشہ قوم کی تعمیر میں مفید ثابت ہوتا ہے۔
میری تمام معزز اراکین کے لیے نیک تمنائیں ہیں کہ وہ آگے بھی اسی طرح ملک و قوم کی خدمت کرتے رہیں۔میں ایک بار پھر تمام معزز اراکین کے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
*********
ش ح۔م م۔ ع ر
U NO: 4312
Speaking in the Rajya Sabha. https://t.co/TV2X34E4D1
— Narendra Modi (@narendramodi) March 18, 2026