پی ایم انڈیا
تقریب میں موجود بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی بھوپیندر یادو جی، بھارت کے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی جی، نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو جی، یہاں ہال میں موجود تمام معزز مہمانان، خواتین اور حضرات!
فطرت اور ماحولیات کے موضوع پر صدیوں تک ایک طرح سے بھارت نے دنیا کی رہنمائی کی ہے۔ اپنے اس نظریاتی عزم کو لے کر اور اپنے ثقافتی تجربات کو بنیاد بنا کر بھارت اب جدید موسمیاتی چیلنجوں کے حل بھی پیش کر رہا ہے اور ساتھ ہی بھارت انسانیت کی اجتماعی کوششوں کے لیے آواز بھی اٹھا رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ این جی ٹی کی یہ کانفرنس اسی مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس تقریب کے لیے میں این جی ٹی کے تمام عہدیداروں اور اس سے وابستہ تمام معززین کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
ساتھیو،
ہم سب جانتے ہیں کہ اکثر کاربن کے اخراج کی ذمہ داری غلط طریقے سے ترقی پذیر ممالک پر ڈالی جاتی رہی ہے۔ یہاں گلوبل ساؤتھ کے میرے کئی ساتھی بیٹھے ہیں۔ جبکہ تاریخی سچائی یہ ہے کہ آج بھی فی کس کاربن کے اخراج میں بھارت کا حصہ عالمی اوسط کے نصف سے بھی کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھارت کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ فی کس کاربن کا اخراج ہو رہا ہے۔ چھ گنا زیادہ! بھارت اس حقیقت کو عالمی فورموں پر مضبوطی کے ساتھ رکھتا ہے اور میں ہر بھارتی سے کہوں گا کہ آپ بھی دم دکھائیں۔ ہم نے اپنی روایتوں اور ان کی طاقت کو بھی دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ انہی موضوعات کو لے کر پیرس میں کوپ 21 کے دوران ہم نے ایک کتاب “Convenient Action – Continuity for Change” کا بھی اجرا کیا تھا ۔ ہم دنیا کو ساتھ لے کر ماحولیاتی تحفظ کے نئے معیار قائم کر رہے ہیں۔ خواہ، وَن سَن، ون ورلڈ، ون گرڈ کی سوچ ہو یا انٹرنیشنل سولر الائنس، سی ڈی آر آئی، گلوبل بائیو فیول الائنس، انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس، مشن لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ ، ایسا ہر ایک پلیٹ فارم موسمیات اور ماحولیات پر بھارت کے مخلصانہ عزائم کا پلیٹ فارم بن رہا ہے۔
ساتھیو،
آج کا بھارت ماحولیاتی تحفظ کے اپنے قدیم نظریات کو جدید وژن میں پروتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں ماحولیات سے متعلق ہر شعبے اور ہر سیکٹر میں بھارت نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ہمارا بڑا فوکس قابلِ تجدید توانائی پر رہا ہے اور اس نے ماحولیاتی تحفظ میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت جی20 ممالک میں واحد ایسا ملک ہے۔ جی 20 کے بڑے بڑے رہنماؤں کے سامنے میں یہ بتا رہا ہوں جی! بھارت واحد ایسا ملک ہے جس نے پیرس میں کوپ 21 سربراہی کانفرنس میں جو بھی وعدے کیے تھے، ان تمام وعدوں کو وقت سے پہلے پورا کر کے دکھایا ہے۔ یہ میں ہندوستان کی طاقت کی بات کر رہا ہوں۔ غیر فوسل ایندھن ، شمسی توانائی کی صلاحیت، کاربن اخراج پر روک تھام؛ ہر معیار پر بھارت کی کارکردگی آج دنیا میں مثبت بحث کا موضوع ہے۔ آپ اعداد و شمار کو دیکھیں، 12 سال پہلے بھارت کی سولر انرجی کی صلاحیت تقریباً 2 گیگا واٹ تھی۔ 12 سال پہلے صرف 2 گیگا واٹ۔ اگر یہاں وکلاء بیٹھے ہیں تو ذرا دھیان رکھیں، یہ اعداد و شمار کبھی کام آئیں گے۔ آج یہ 160 گیگا واٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ 12 سال میں 2 گیگا واٹ سے 160 گیگا واٹ! ہم نے پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت گھروں کو ہی سولر پاور جنریشن کا مرکز بنانے کا مشن شروع کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 50 لاکھ سے زیادہ گھروں میں چھتوں پر سولر پینل لگ چکے ہیں۔ یہ دنیا کے کئی ممالک کے کل گھروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے لیے حکومت نے ہر خاندان کو تقریباً 80,000 روپے تک کی مالی امداد دی ہے۔ کُسم یوجنا کے تحت حکومت نے 30 لاکھ کسانوں کے کھیتوں میں سولر پمپ لگانے کا کام کیا ہے۔ ہم نے ’ون نیشن ون گرڈ‘ کا پرعزم منصوبہ بھی پورا کر لیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، گھروں میں ایل ای ڈی بلب، جو بجلی بچانے میں انتہائی کامیاب ثابت ہوئے ہیں، کروڑوں کی تعداد میں گھر گھر پہنچائے گئے ہیں اور ان کوششوں کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ صرف سولر انرجی کی بدولت ہی بھارت میں تقریباً، یہ اعداد وشمار بھی وکلاء کے لیے ہیں ، بھارت میں تقریباً 20 کروڑ ٹن کاربن کے اخراج کو روکنے میں کامیابی ملی ہے۔
ساتھیو،
سولر انرجی کے ساتھ ساتھ کلین انرجی کے دوسرے شعبوں میں بھی بھارت نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ 12 سال میں ملک کی ونڈ انرجی کی صلاحیت تین گنا بڑھی ہے۔ ہائیڈرو انرجی کی صلاحیت میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ اور اب ملک نیوکلیئر انرجی جنریشن پر تیزی سے کام کر رہا ہے اور جو لوگ ماحولیات پر لمبی لمبی تقریریں کرتے رہتے ہیں، یہ جب میں نیوکلیئر انرجی کا کام آگے بڑھاؤں گا، تب عدالتوں میں جا کر کھڑے ہو جائیں گے اسے روکنے کے لیے۔ اس سیکٹر میں پرائیویٹ پلیئرز کو بھی لانے کا راستہ بنایا گیا ہے۔ ان کوششوں کی وجہ سے آج بھارت کی نان فوسل انرجی کی صلاحیت تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ بھارت کوئلے کے مزید صاف ستھرے استعمال کے لیے کول گیسی فکیشن جیسی ٹیکنالوجی کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
ساتھیو،
بھارت آج کلین موبلٹی اور گرین ہائیڈروجن جیسے شعبوں میں تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے بھارت کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین چلی ہے اور یہ دنیا کی سب سے لمبی ہائیڈروجن ٹرین ہے۔ یہ کلین موبلٹی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
ساتھیو،
12 برسوں میں ہمارے ملک میں برقی گاڑیوں کی تعداد میں تقریباً 950 گنا اضافہ ہوا ہے۔ 950 گنا! 2014 سے قبل کے برسوں میں بھارت میں 3000 سے بھی کم ای وی فروخت ہوئی تھیں، صرف 3000۔ وہیں گزشتہ سال تقریباً 25 لاکھ ای وی بھارت میں فروخت ہوئی ہیں۔ یعنی ای وی ریولیوشن کے اس موقع کو بھارت پوری طاقت سے اپنا رہا ہے اور اس سے ماحولیات کو بھی مدد مل رہی ہے۔ ہمارے ہائی ویز اور ایکسپریس ویز پر فاسٹیگ کے جدید نظام سے بھی ٹول بوتھ پر انتظار کا وقت کم ہوا ہے۔ اس سے ٹول بوتھ پر جو ایندھن برباد ہوتا تھا، وہ اب بند ہو گیا ہے۔
ساتھیو،
2014 تک ہمارے ملک کے پانچ شہروں میں تقریباً 250 کلومیٹر کا میٹرو نیٹ ورک تھا۔ یہ بھی میرے وکیل دوست یاد رکھیں۔ 2014 سے پہلے صرف پانچ شہروں میں 250 کلومیٹر سے کم، آج ملک کے 20 سے زیادہ شہروں میں میٹرو چل رہی ہے اور بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس 1000 کلومیٹر سے زیادہ کا میٹرو نیٹ ورک ہے۔
ساتھیو،
ریلوے کی تقریباً صد فیصد برق کاری ہونے سے بھی کروڑوں کروڑ لیٹر ڈیزل جلنے سے بچا ہے۔ اس سے ماحولیات کا تحفظ ہوا ہے۔ اسی مہینے کچھ دن پہلے تقریباً 3000 کلومیٹر طویل ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس پر چلنے والی ہر ٹرین ایک ہی بار میں سینکڑوں ٹرکوں کا لوڈ لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ رہی ہے۔ ڈبل اسٹیک کنٹینر مال گاڑی کا آپریشن اپنے آپ میں تاریخی ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس سے کتنے بڑے پیمانے پر ماحولیات کو بھی مدد ملتی ہے۔
ساتھیو،
ملک میں آج تقریباً 5000 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہوں پر ٹرانسپورٹیشن ہونے لگا ہے، جو کہ سب سے زیادہ ماحول دوست نقل و حمل ہے۔ ان پر چلنے والا ایک اسٹینڈرڈ ان لینڈ ویسل ، ایک ہی سفر میں درجنوں ٹرکوں کے برابر لوڈ لے جاتا ہے۔ اس سے بھی ماحولیاتی تحفظ میں بڑی مدد مل رہی ہے۔
ساتھیو،
صرف موبلٹی سیکٹر میں یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ ہماری ترقی تیز رفتار بھی ہے اور پائیدار بھی۔
ساتھیو،
آج کروڑوں لوگوں کی شراکت داری سے بھارت میں پانی کے تحفظ پر بھی بے مثال کام ہو رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ملک میں 70,000 سے زیادہ امرت سروور تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ ’کیچ دی رین‘ مہم کے تحت ملک میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ واٹر ہارویسٹنگ اسٹرکچرز (بارش کا پانی جمع کرنے کے ڈھانچے) بنائے گئے ہیں، جن میں بارش کا پانی محفوظ کیا جا رہا ہے۔ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے ذریعے آج 2 کروڑ سے زیادہ کسان آبپاشی کی جدید سہولیات سے جڑے ہیں۔ ’فی قطرہ، زیادہ فصل‘ جیسے اقدامات سے بھی پانی کی بچت ہو رہی ہے۔ ’شری انّ ‘ یعنی ملیٹس ، یہ بھی ایک بہت بڑی کامیاب مثال ہے۔ بھارت ملیٹس یعنی شری انّ کی پیداوار کو فروغ دے رہا ہے، جو پانی کی کھپت کو کم کرتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ملک میں ملیٹس کی پیداوار بھی بڑھی ہے اور اس کی برآمدات بھی بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ لاکھ ٹن ہو گئی ہے۔ اس سے کسانوں کے لیے نئے مواقع تو پیدا ہی ہو رہے ہیں، پانی کی بھی بچت ہو رہی ہے اور اسی ماڈل کی وجہ سے دنیا بھی ہمارے ساتھ جڑ رہی ہے۔ بھارت کی کوششوں کی بدولت ہی سال 2023 کو ’انٹرنیشنل ایئر آف ملیٹس‘ کے طور پر منایا گیا ہے۔
ساتھیو،
نیشنل مشن آن نیچورل فارمنگ کے تحت آج ملک میں تقریباً ساڑھے بارہ لاکھ ہیکٹر میں نیچورل فارمنگ کے 24,000 کلسٹرز بن چکے ہیں۔ یہی نہیں، ملک میں کلائمیٹ ریزیلیئنٹ کراپس کی بھی تقریباً 3000 اقسام تیار کی جا چکی ہیں۔ ایگرو فاریسٹری کو فروغ دے کر بھی ہم کاربن فٹ پرنٹس کو کم کر رہے ہیں۔
ساتھیو،
ہماری یہ کوششیں کتنی وسیع اور ہمہ گیر ہیں۔ اس کی ایک مثال بھارت کا فارسٹ کوریج (جنگلاتی رقبہ) بھی ہے۔ یہ بھی میں اپنے وکیل دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں۔ گزشتہ 12 برسوں میں ہمارا ویری ڈینس فارسٹ کور 22 فیصد سے زیادہ بڑھا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی حصولیابی ہے۔ ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت بھی ملک میں کروڑوں درخت لگائے گئے ہیں اور یہ مہم مسلسل جاری ہے۔
ساتھیو،
ماحولیات کے سامنے ایک بڑا چیلنج پلاسٹک کے کچرے کا بھی رہا ہے اور اسی لیے بھارت نے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی لگائی ہے۔ ہم نے ریڈیوس ، ری یوز اور ری سائیکل کے منتر کے ساتھ سرکلر اکانومی کو فروغ دیا ہے۔ آج بھارت میں ہر روز ہزاروں ٹن کچرے کو ری سائیکل کیا جا رہا ہے۔ ‘گوبردھن یوجنا’ کے ذریعے گاؤں میں گوبر اور دوسرے آرگینک ویسٹ کو بھی مفید وسائل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ ویسٹ کو مسئلہ نہ مان کر، اسے ویسٹ ٹو ویلتھ ماڈل پر ایک ریسورس میں تبدیل کیا جائے۔
ساتھیو،
یہ تمام کے تمام اعداد و شمار صرف بھارت کی ترقی کے اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ انسانیت کے مستقبل کے لیے بھارت کے تعاون کے اعداد و شمار ہیں۔
ساتھیو،
ہمارا ثقافتی نظریہ ہے ’’ ماتا بھومی:، پترو اہم پرتھویا: ‘‘ یعنی یہ دھرتی ہماری ماں ہے اور ہم اس کی اولاد ہیں۔ اسی سوچ کے ساتھ بھارت بھی ایک ذمہ دار اور پائیدار مستقبل بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس کانفرنس میں ہونے والے مباحثے، اس سے جو نئے خیالات اور نئے حل سامنے آئیں گے، وہ آنے والی نسل کے لیے ایک بہت بڑا سہارا بن کر ابھریں گے۔ ایک بار پھر اس کانفرنس کے لیے آپ سبھی کو میری طرف سے بہت بہت مبارکباد۔ بہت بہت شکریہ۔
****
(ش ح– ن ا)
U.N:3778
India is showing how development and environmental sustainability can go hand in hand. Speaking at the International Conference on "The Future of Environment and Climate Dynamics." https://t.co/QTmc4v8yeT
— Narendra Modi (@narendramodi) September 19, 2026
अक्सर carbon emission की ज़िम्मेदारी गलत तरीके से विकासशील देशों पर डाली जाती रही है।
— PMO India (@PMOIndia) September 19, 2026
जबकि ऐतिहासिक सच्चाई ये है... आज भी प्रति व्यक्ति carbon emission में भारत का योगदान global average के आधे से भी कम है: PM @narendramodi
बीते 12 वर्षों में पर्यावरण से जुड़े हर क्षेत्र में, हर sector में... भारत ने असाधारण प्रगति की है।
— PMO India (@PMOIndia) September 19, 2026
हमारा बड़ा focus renewable energy पर रहा है और इसने पर्यावरण सुरक्षा में बड़ी भूमिका निभाई है: PM @narendramodi
भारत, G-20 में इकलौता ऐसा देश है जिसने पेरिस में COP-21 Summit में किए commitments को समय से पहले पूरा करके दिखाया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 19, 2026
हमारा development... Speedy भी है और Sustainable भी है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 19, 2026