Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انڈمان اور نکوبار جزائر میں پراکرم دیوس  پروگرام سے خطاب کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج انڈمان اور نکوبار جزائر میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پراکرم دیوس پروگرام سے خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ 23 جنوری نیتا جی سبھاش چندر بوس کی سال گرہ کی شاندار تاریخ ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیتاجی کی بہادری اور جرات ہمیں متاثر کرتی ہے اور ان کے لیے احترام سے بھر دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پراکرم دیوس قوم کی روح کا ایک لازمی تہوار بن چکا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ یہ خوشگوار اتفاق ہے کہ 23 جنوری پراکرم دیوس ہے، 25 جنوری قومی ووٹرز ڈے، 26 جنوری یوم جمہوریہ، 29 جنوری کو بیٹنگ ریٹریٹ، اور 30 جنوری کو  باپو کی برسی ہے، جس سے جمہوریہ کے عظیم تہوار کی ایک نئی روایت قائم ہوئی۔ انھوں نے پراکرم دیوس پر تمام شہریوں کو تہنیت پیش کی۔

یہ بتاتے ہوئے کہ 2026 میں پراکرم دیوس  کی مرکزی تقریب انڈمان اور نیکوبار میں منعقد ہو رہی ہے، جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ انڈمان اور نکوبار کی تاریخ، جو بہادری، قربانی اور حوصلے سے بھرپور ہے، سیلولر جیل میں ویر ساورکر جیسے محب وطن افراد کی کہانیاں، اور نیتا جی سبھاش چندر بوس سے اس کا تعلق اس جشن کو اور بھی خاص بناتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انڈمان کی سرزمین اس عقیدے کی علامت ہے کہ آزادی کا تصور کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں بہت سے انقلابیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بہت سے جنگجوؤں نے اپنی جانیں نچھاور کیں، لیکن بجھنے کے بجائے آزادی کی جدوجہد کی چنگاری مزید روشن ہو گئی۔ جناب مودی نے کہا کہ اس کے نتیجے میں انڈمان اور نیکوبار کی سرزمین آزاد بھارت کے پہلے طلوع آفتاب کی گواہ بنی۔ انھوں نے یاد کیا کہ 1947 سے بھی پہلے، 30 دسمبر 1943 کو، یہاں تین رنگوں کا پرچم لہرایا گیا تھا جس کی گواہی سمندر کی لہریں تھیں۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 2018 میں، جب اس عظیم تقریب کی 75ویں جینتی منائی گئی، انھیں 30 دسمبر کو اسی جگہ ترنگا لہرانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جناب مودی نے کہا کہ جب قومی ترانہ سمندر کے کنارے بج رہا تھا، تیز ہواؤں میں لہراتا ہوا تین رنگا اس کی نشاندہی کرتا تھا کہ آزادی کے متجاہدین کے بے شمار خواب پورے ہو گئے ہیں۔

جناب مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد انڈمان اور نکوبار جزائر کی شاندار تاریخ کو محفوظ رکھا جانا چاہیے تھا، لیکن اس وقت اقتدار میں آنے والوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ آزادی کا کریڈٹ صرف ایک خاندان تک محدود کرنا چاہتے تھے، اور اس سیاسی مفاد میں قوم کی تاریخ کو نظر انداز کیا گیا۔ جناب مودی نے کہا کہ انڈمان اور نکوبار بھی نوآبادیاتی حکمرانی کی شناخت سے جڑے ہوئے ہیں، اور اس کے جزیرے آزادی کے ستر سال بعد بھی برطانوی افسران کے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس تاریخی ناانصافی کا خاتمہ کر دیا ہے، اور اس لیے پورٹ بلیئر اب ’جناب وجے پورم‘ بن چکا ہے، جو ہمیں نیتاجی کی فتح کی یاد دلاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسی طرح دیگر جزیروں کے نام بدل کر سواراج دیپ، شہید دویپ، اور سبھاش دویپ رکھ دیے گئے۔ جناب مودی نے یاد کیا کہ 2023 میں انڈمان کے 21 جزیروں کے نام 21 پرم ویر چکر ایوارڈ یافتگان کے نام پر رکھے گئے تھے۔ انھوں نے زور دیا کہ آج غلامی سے منسلک نام انڈمان اور نیکوبار میں مٹائے جا رہے ہیں، اور آزاد بھارت کے نئے نام اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس نہ صرف آزادی کی جدوجہد کے عظیم ہیرو تھے بلکہ آزاد بھارت کے وژنری بھی تھے۔ انھوں نے ایک ایسی قوم کا تصور کیا جو شکل میں جدید ہو لیکن بھارت کے قدیم شعور  سے وابستہ ہو۔ جناب مودی نے کہا کہ آج کی نسل کو نیتا جی کے وژن سے روشناس کرانا ہماری ذمہ داری ہے، اور خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اس ذمہ داری کو پورا کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی کے ریڈ فورٹ میں نیتاجی کے نام سے ایک میوزیم تعمیر کیا گیا ہے، انڈیا گیٹ کے قریب نیتا جی کا عظیم مجسمہ نصب کیا گیا ہے، اور آئی این اے کی خدمات کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں یاد رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سبھاش چندر بوس ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایوارڈز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف نیتا جی سبھاش چندر بوس کے لیے احترام کی علامت ہیں بلکہ ہمارے نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے لازوال تحریک کے ذرائع بھی ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ان نظریات کا احترام کرنا اور ان سے تحریک لینا ہمارے عزم کو ایک وکست بھارت کے لیے توانائی اور اعتماد سے بھر دیتا ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ کمزور قوم کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے نیتا جی سبھاش نے ہمیشہ ایک مضبوط قوم کا خواب دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھارت بھی خود کو ایک طاقتور اور پرعزم قوم کے طور پر منوا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران، بھارت نے ان لوگوں کے گھر میں گھس کر جواب دیا  اور انھیں تباہ کیاجنہوں نے ملک کو  چوٹ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ جناب مودی نے زور دیا کہ آج بھارت جانتا ہے کہ طاقت کیسے بنانی ہے، اسے کیسے منظم کرنا ہے اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیتاجی سبھاش کے مضبوط بھارت کے وژن کی پیروی کرتے ہوئے، ملک دفاعی شعبے کو خود کفیل بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ پہلے بھارت صرف بیرون ملک سے ہتھیاروں کی درآمد پر منحصر تھا، لیکن آج بھارت کی دفاعی برآمدات 23,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مقامی طور پر تیار کردہ برہموس اور دیگر میزائل عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ بھارت اپنی مسلح افواج کو خود کفیلی کی طاقت کے ساتھ جدید بنا رہا ہے۔

یہ بتاتے  ہوئے کہ آج 1.4 ارب شہری ایک وکست بھارت کے عزم کے لیے متحد ہیں، جو آتم نربھر بھارت مہم سے مضبوط ہوا ہے اور سودیشی کے منتر سے تقویت پاتا ہے، وزیر اعظم نے اختتام پر اعتماد کے ساتھ کہا کہ پراکرم دیوس  کی تحریک اس وکست بھارت کے سفر کو مزید تقویت دیتی رہے گی۔

انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر، ایڈمرل ڈی۔ کے۔ جوشی (ریٹائرڈ)، نیتاجی سبھاش چندر بوس آئی این اے ٹرسٹ کے چیئرمین، بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) آر۔ ایس۔ چکارا، اور بھارت کی آزادی کی تحریک کے شریک اور آئی این اے شخصیت لیفٹیننٹ آر۔ مادھون بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 1003