Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 10ویں انڈیا موبائل کانگریس کا افتتاح کیا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 10ویں انڈیا موبائل کانگریس کا افتتاح کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے یشوبھومی میں انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی) کے 10ویں ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ ایک انتہائی اہم قومی موقع کی مناسبت سے وزیر اعظم نے 8 اکتوبر کو منائے جانے والے یومِ فضائیہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی افتتاحی گفتگو کا آغاز ملک کے بہادر فضائی محافظوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے آسمانوں کی حفاظت کرنے والے جانباز اہلکاروں کو سلام پیش کیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘میں اپنے تمام بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور یومِ فضائیہ کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔’’

اپنی عوامی زندگی کے ایک اہم سنگِ میل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے حکومت کے سربراہ کے طور مسلسل 25 سال کی خدمت مکمل کی ہے۔ انہوں نے اس طویل عوامی خدمت کے سفر کے دوران تعاون کرنے والے ہر شہری اور دنیا بھر میں ہندوستان کے ہر دوست کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘میں ہر ہم وطن اور دنیا بھر میں ہندوستان کے ہر دوست کی نیک خواہشات کے لیے ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔’’

وزیر اعظم نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی دو اہم کامیابیوں کے حسین امتزاج کا ذکر کرتے ہوئے انڈیا موبائل کانگریس کی 10ویں سالگرہ منائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ملک میں جی ایس ایم اے بورڈ کے اجلاس کی میزبانی کو بھی ایک منفرد اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے یہاں موجود دنیا بھر کے ٹیلی مواصلاتی آپریٹروں، صنعت کے رہنماؤں، ماہرینِ تعلیم اور اسٹارٹ اپس پر مشتمل پورے عالمی ماحولیاتی نظام  کاپرتپاک خیرمقدم کیا۔

گہرے رنج و غم کے ساتھ وزیر اعظم نے صبح موصول ہونے والی معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کی افسوس ناک خبر کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس عظیم فن کار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پردۂ سیمیں پر مختلف النوع کرداروں کو زندہ جاویداں کرکے ہمیشہ ناظرین کے دل جیتے۔ جناب مودی نے کہا،‘‘وہ ایک بہترین فن کار تھے، جنہوں نے مختلف کرداروں کے ذریعے ناظرین کے دل جیت لیے۔’’

آنجہانی اداکار کے گہرے قومی جذبے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نانا پاٹیکر کو ایک بے باک اور آزاد خیال شخصیت قرار دیا، جن کی زندگی ترنگے کی عزت اور سربلندی کے لیے پوری طرح وقف رہی۔ انہوں نے آنجہانی اداکار کو سنیما کا ایک انقلابی فن کار قرار دیا، جن کے سحر انگیز مکالموں اور مؤثر خاموشی نے سماجی برائیوں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف مسلسل آواز بلند کی۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘میں نانا پاٹیکر جی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے اہل خانہ اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔’’

انڈیا موبائل کانگریس کے سفر کے ذریعے ڈیجیٹل رابطے کے شاندار ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ انہوں نے 2022 میں اسی اسٹیج سے 5جی خدمات کا آغاز کیا تھا اور 2023 میں اس کے بڑے پیمانے پر توسیع کی پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ اب 5جی نیٹ ورک 5.5 لاکھ سے زیادہ بیس اسٹیشنوں سے کام کر رہے ہیں اور ملک کے ہر ضلع تک کامیابی کے ساتھ پہنچ چکے ہیں، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار دس گنا بڑھ گئی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘آج ہم سب5جی رابطے کاملک کے ہر ضلع تک پہنچنے کا مشاہدہ کررہےہیں۔’’

اس پلیٹ فارم کے بڑھتے ہوئے عالمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 2024 کے ایڈیشن میں عالمی معیارات پر تبادلۂ خیال کے لیے بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین کی میزبانی کی گئی تھی، جبکہ اس سے قبل کے برسوں میں ملکی اختراعات اور مینوفیکچرنگ پر خاص توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ انہوں نے انڈیا موبائل کانگریس کو ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ٹیلی مواصلاتی کامیابی اور اس کے عظیم ترین خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں ایک اہم محرک بننے کا سہرا دیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘گزشتہ برسوں میں یہ پلیٹ فارم ہندوستان کی ترقی اور ہندوستان کے خوابوں کا پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔’’

اجلاس کے حوصلہ مند موضوع کو اپناتے ہوئے وزیر اعظم نے شرکا کو چیلنج دیا کہ وہ ملک کے اپنے تبدیلی کے سفر کو ایسی ترقی کی سب سے بڑی مثال کے طور پر دیکھیں جس کی کوئی حد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بتائیں گے کہ ملک نے لامحدود وسعت کے اسی وژن کو کس طرح عملی طور پر اپنایا اور ثابت کرکے دکھایا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘میں ہندوستان کے تجربات کے پاداش میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے ’لامحدود وسعت‘ کے خواب کو کس طرح عملی جامہ پہنایا اور اسے ثابت کرکے دکھایا ہے۔’’

رابطے کے بنیادی مقصد کو نئے مفہوم کے ساتھ بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر ٹیلی مواصلات سے متعلق مباحث میں عموماً اسپیکٹرم، ٹاورز اور نیٹ ورک کی رفتار پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن ملک کے عوام کے لیے موبائل فون اس سے کہیں زیادہ اہم اور گہرا کردار اختیار کر چکا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں موبائل فون اچھی حکمرانی کا ایک اہم وسیلہ بن کر ابھرا ہے اور یہ ڈیجیٹل انڈیا کے وژن کا بنیادی محور ہے۔’’

ٹیلی مواصلاتی شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کے بنیادی محرکات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے ڈیٹا، کفایتی آلات اور صارفین کی بڑی تعداد نے دنیا کو حیرت میں مبتلا کیا ہے، تاہم انہوں نے سامعین پر زور دیا کہ وہ ان کامیابیوں کے پیچھے موجود ‘‘کیوں ’’ اور ‘‘کیسے’’ گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس بنیادی مقصد کو سمجھنے سے ملک کی پیش رفت کے اصل محرک اور توجہ کے مرکز کو واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ جناب مودی نے کہا،‘‘جب ہم اسے سمجھیں گے تو ہر شخص کے لیے ہندوستان کی توجہ کا مرکز بالکل واضح ہو جائے گا۔’’

ڈیجیٹل محرومی کے خلاف بھرپور جدوجہد کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ صرف ایک دہائی قبل جدید ٹیکنالوجی تیزی سے ایک مراعات یافتہ طبقے کی سہولت بنتی جا رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ مہم کے ذریعے دانستہ طورپرموبائل فون کو مرکز میں رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی گئی، ٹیلی مواصلات کے شعبے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ کی گئیں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر وسعت دی گئی تاکہ آلات کی تیاری ملک میں ہی یقینی بنائی جا سکے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یہ ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی سمت ایک بہت بڑی کوشش تھی۔’’

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ موبائل فون اور ڈیٹا تک وسیع رسائی نے عام شہریوں کے لیے زندگی کو آسان بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا اور عالمی وبا کے دوران عائد پابندیوں کے وقت بھی دفاتر، بینکوں اور اسکولوں کے کام کو بلاتعطل جاری رکھنے میں مدد دی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اب دور دراز دیہات میں رہنے والے غریب ترین بچوں کو بھی معیاری ڈیجیٹل تعلیم تک باآسانی رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘ڈیجیٹل تعلیم اب ہر شخص کی پہنچ میں آ رہی ہے۔’’

تعلیمی انقلاب کی اس پیش رفت کو اعداد و شمار سے ثابت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قومی آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم ‘دیکشا’ سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی وبا کے عروج کے دوران جولائی 2022 تک اس پلیٹ فارم کے ذریعے 5 ارب سے زیادہ تعلیمی نشستوں کا انعقاد ہوا اور 60 بلین منٹ سے زیادہ وقت تعلیمی سرگرمیوں میں صرف کیا گیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘اب ہماری کوشش ہے کہ تقریباً 25 کروڑ طلبہ کو اپنے تمام ڈیجیٹل اور آن لائن تعلیمی ذرائع سے جوڑا جائے۔’’

ٹیکنالوجی نے ایک انتہائی متنوع ملک کو کس طرح متحد کیا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موبائل رابطے نے بتدریج ان وسیع جغرافیائی اور لسانی رکاوٹوں کو دور کیا جو پہلے روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سبب بنتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل تبدیلی سے پہلے شہریوں کو صرف بنیادی بینکاری، صحت اور سرکاری خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے شہری مراکز کا سفر کرنا پڑتا تھا، جس میں ان کا بہت سا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا تھا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘موبائل رابطے نے اس تنوع کو سہولت کے ساتھ بھی جوڑ دیا ہے۔’’

ڈیجیٹل حکمرانی کے ذریعے مالی شفافیت کی ایک بڑی کامیابی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فخر کے ساتھ بتایا کہ موبائل ذرائع کے ذریعے 50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم براہ راست مستحقین تک منتقل کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بدعنوان عناصر کے ہاتھوں میں جانے سے بچائی گئی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پی ایم کسان سمان ندھی کا ذکر کیا، جس کے تحت 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم براہِ راست چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے کھاتوں میں محفوظ طریقے سے منتقل کی جا چکی ہے، جنہیں پہلے کبھی سرکاری فوائد حاصل نہیں ہوتے تھے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘اب یہی رقم حقیقی مستحقین تک پہنچ رہی ہے۔’’

ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانے کے بنیادی فلسفے کو سمیٹتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موبائل فون اب محض بات چیت کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ انہوں نے کم سفر، کم انتظار، کم خرچ اور کہیں زیادہ سہولت کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے عام آدمی کے لیے ہونے والی اس ہمہ گیر تبدیلی کو ٹیکنالوجی میں کی گئی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ثمر ہ قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں کو ملنے والا سب سے بڑا فائدہ ہے۔’’

متحرک بنیادی ڈھانچے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں موبائل ٹاورز کی تنصیب، آپٹیکل فائبر کے وسیع نیٹ ورک کی توسیع اور سستے ڈیٹا نے معیشت میں کئی نئے شعبوں کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بنیادی ڈھانچے کی توسیع نے ٹیکنالوجی، تفریح اور تعلیم کے شعبوں میں نئے صارفین اور تخلیق کاروں کی ایک بڑی تعداد پیدا کی ہے۔ جناب مودی نے کہا،‘‘اس کے نتیجے میں معیشت میں نئے شعبے بھی وجود میں آئے ہیں۔’’

لوگوں کی شرکت پر مبنی تفریحی شعبے کی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ 50 کروڑ سے زیادہ افراد، جن میں بڑی تعداد دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے نوجوانوں کی ہے، اب کھیلوں کے ڈیجیٹل نظام سے سرگرمی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی سے مانوس ان نوجوانوں کی تعریف کی، جو محض کھیلنے والوں تک محدود نہیں رہے بلکہ مسابقتی برقی کھیلوں کے کھلاڑی، مواد تخلیق کرنے والے اورپرعزم کاروباری افراد بن کر ابھر رہے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یعنی ہندوستان میں موبائل فون آج ایک کھیلنے کے مرکز کے طور پر بھی کام کر رہا ہے اور تخلیق کا اسٹوڈیو بھی بن چکا ہے۔’’

تخلیق کاروں کی معیشت کو عام لوگوں تک پہنچانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ تیز رفتار رابطے اور سستے ڈیٹا نے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارموں اور علاقائی او ٹی ٹی خدمات کو کامیابی کے ساتھ دیہی قصبوں تک پہنچا دیا ہے، جس سے زبان کی وہ رکاوٹیں بھی دور ہوئی ہیں جو طویل عرصے سے موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف مواد تخلیق کرنے کی صنعت ہی کئی ہزار کروڑ روپے کے شعبے میں تبدیل ہو چکی ہے، جس سے لاکھوں افراد کے لیے آمدنی کے پُرکشش مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یعنی موبائل فون نے ہندوستان میں مواد تخلیق کرنے کے عمل کو بھی عام لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔’’

سائبرسیکورٹی کی اہم ضرورت کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دیا کہ جیسے جیسے ٹیلی مواصلات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ بنتی جا رہی ہیں، موبائل فون اور نیٹ ورک کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری کے لیے پیچیدہ تکنیکی نظام اور طریقۂ کار سے کہیں زیادہ اہم تحفظ کا وہ بنیادی اور واضح یقین ہے جو اسے محفوظ ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ جناب مودی نے کہا،‘‘اس کے لیے اعتماد بہت اہم ہے۔’’

ڈیجیٹل اعتماد سے متعلق صارفین کی بنیادی توقعات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے صارفین کے تحفظ کی ایک واضح تصویر پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ فون کرنے والا شخص اصل میں کون ہے، پیغامات کی صداقت کی تصدیق کی جا سکے اور ادائیگی کرتے یا ذاتی معلومات فراہم کرتے وقت انہیں مکمل تحفظ کا احساس ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کا اعتماد ڈیجیٹل توسیع کی اصل بنیاد ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘جب وہ کسی بھی شکل میں اپنا ڈیٹا فراہم کرے تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس کا ڈیٹا محفوظ ہے۔’’

سرحدوں سے ماورا ڈیجیٹل خطرات کے خلاف متحدہ عالمی کارروائی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ سائبر فراڈ اور ڈیپ فیک عالمی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، ٹیلی مواصلاتی آپریٹروں اور مالیاتی اداروں کو ایک ساتھ لانے والے فوری اور مربوط عالمی لائحۂ عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جی ایس ایم اے پر زور دیا کہ وہ ایسے فعال نظام وضع کرنے میں مدد کرے جو دھوکا دہی کی سرگرمیوں کو آخری صارف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک سکیں۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘ہندوستان ہمیشہ اپنے تجربات دنیا کے ساتھ اشتراک کے لیے تیار ہے۔’’

اسٹریٹجک منظرنامے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شرکاء کو یاد دلایا کہ موجودہ دہائی کے اختتام میں صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں، اس لیے سربراہی اجلاس میں ہونے والی فوری بات چیت عالمی موبائل بازار کو مستقبل کی جانب رہنمائی دینے والا اہم لائحۂ عمل تشکیل دے گی۔ انہوں نے اس تقریب کو ٹیکنالوجی کے اگلے دور کی قیادت کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یہ لائحۂ عمل ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے موبائل بازار کو سمت فراہم کرے گا۔’’

ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفالت کے حتمی وژن کو واضح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک صارف سے تخلیق کار بننے کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کر چکا ہے اور اب مصنوعات کے ڈیزائن، بنیادی ٹیکنالوجی اور دانشورانہ ملکیت پر مکمل گھریلواختیار کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے صنعت کو یقین دلایا کہ حکومت کئی دہائیوں پرانے قوانین کو تیزی سے جدید بنا رہی ہے، جامع مراعات فراہم کر رہی ہے اور ٹیلی مواصلات قانون اور گتی شکتی پورٹل جیسی وسیع اصلاحات نافذ کر رہی ہے تاکہ کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یعنی ٹیلی مواصلات کے شعبے میں بھی اصلاحات کی رفتار تیز ہے اور یہ عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔’’

دیسی ساختہ اہم ہارڈویئر کے حوالے سے پیش رفت کی جانکاری دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں سیمی کنڈکٹر کی تیاری کا نظام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور پانچ مقامات پر تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن’ کے اگلے مرحلے میں پوری سپلائی چین کو ملک کے اندر تیار کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یعنی ہندوستان ٹیلی مواصلات کے شعبے سے متعلق ہر میدان میں بڑے اقدامات کر رہا ہے۔’’

اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر اعظم نے عملی اقدامات کی پُرجوش اپیل کرتے ہوئے انڈیا موبائل کانگریس کو چیلنج دیا کہ وہ محض ٹیکنالوجی کی نمائش تک محدود نہ رہے، بلکہ ایسی اختراعات، تحقیق اور شراکت داریوں کا مرکز بنے جو انسانیت کی خدمت کریں اور ایک ترقی یافتہ ملک کے عظیم مقصد کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ شرکا اس پلیٹ فارم کو صنعت اور افکار کے لیے دنیا کے سب سے اہم عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل پوری لگن کے ساتھ کوشش کرتے رہیں گے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘مجھے یقین ہے کہ آپ سب اس مقصد کے لیے پوری لگن کے ساتھ مسلسل کوشش کرتے رہیں گے۔ اسی امید کے ساتھ، ایک بار پھر آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔’’

********

) ش ح ۔ م ش۔اش ق)

U.No. 4829