پی ایم انڈیا
سب سے پہلے آ پ سبھی کو، ہریانہ اور دہلی کے لوگوں کو بہادر گڑھ ۔ منڈیا میٹرو لائن شروع ہونے پر بہت بہت بدھائی۔
ہریانہ کا بہادر گڑھ آج دہلی میٹرو سے جڑ گیا ہے۔ گورو گرام اور فرید آباد کے بعد اب بہادر گڑھ ہریانہ کا تیسرا بڑا علاقہ ہے جو دہلی میٹرو سے کنیکٹ ہوا ہے۔ آج کے اس وقف کے عمل کے بعد ہریانہ میں میٹرو نیٹ ورک کی طوالت 26 کلو میٹر تک پہنچ گئی ہے۔
ساتھیوں، دہلی میں چل رہی میٹرو نے کس طرح لوگوں کی زندگی بدلی ہے اس کا گواہ ہر وہ شخص ہے جس نے کبھی نہ کبھی اس میں سفر کیا ہے۔ میں بھی کئی بار دہلی میٹرو میں سفر کر چکا ہوں۔ آج سے یہ تجربہ بہادر گڑھ ۔ منڈکا لائن پر چلنے والوں کو بھی حاصل ہوگا۔
بطور خاص بہادر گڑھ میں تیزی کے ساتھ نمو پذیر ہوتی صنعتوں کی وجہ سے کافی عرصے سے میٹرو کا انتظار ہو رہا تھا۔ بہادر گڑھ میں متعدد کالج، انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹیاں بھی ہیں۔ دہلی سے روز متعدد طلبا اور طالبات آمدورفت کرتے ہیں ۔ اب اس علاقے کے لاکھوں صنعت کاروں، طلبا کو، علیحدہ علیحدہ پیشہ وران کو دہلی آنے جانے میں مزید آسانی ہوگی۔
ویسے تو بہادر گڑھ کو گیٹ وے آف ہریانہ کہا جاتا ہے، لیکن یہ میٹرو لائن یہاں ترقی کا داخلی دروازہ بن کر پہنچی ہے۔
میٹرو کی وجہ سے لوگوں کی سہولت بڑھے گی، نئی کالونیاں بنیں گی، صنعتوں کی توسیع ہوگی تو روزگار کے بھی نئے مواقع فراہم ہوں گے۔ کنیکٹی وٹی کا ترقی سے جوناطہ ہے، اس میٹرو نیٹ ورک کو دیکھ کر سمجھا جا سکتا ہے۔
ابھی دہلی این سی آر میں قریب 280 کلو میٹر لائن آپریشنل ہے ۔ جس تیزی سے اس کی توسیع ہو رہی ہے، بہت جلد، شنگھائی، بیجنگ، لندن اور نیویارک کے بعد ، دنیا کے پانچویں سب سے بڑے میٹرو نیٹ ورک کے طور پر دہلی کی شناخت ہوگی۔ ساتھیوں، جو خواب دہلی میں شرمندہ ٔ تعبیر ہوا ہے، اٹل ارادوں ک ا جو نتیجہ آج دہلی این سی آر کے عوام دیکھ رہے ہیں، ویسی ہی کوشش پورے ملک میں کی جا رہی ہے۔
میٹرو سے وابستہ کاموں میں ایک بہت بڑی کمی یہ تھی کہ ہر شہر میں پہلے اپنے ہی طریقے سے کام کیا جا رہا تھا۔
میٹرو اور اس سے وابستہ تعمیراتی کاموں کے لئے کوئی پالیسی نہیں تھی۔ اس لئے کوئی معیار کوئی اسٹینڈرڈ بھی طے نہیں تھا۔ رہنماؤں کی مرضی کے مطابق اسٹیشن اور علیحدہ علیحدہ شعبوں کے مفاد کے مطابق فیصلے ہو رہے تھے۔
2017 میں ملک کی اولین میٹرو پالیسی وضح کرنے کے بعد ان چیزوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ لوگوں کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن یا پھر اپنے گھر یا دفتر پہنچنے میں پریشانی نہ ہو، اس کے لئے شہروں کے پورے نقل و حمل نظام کو مربوط کیا جا رہا ہے۔
اب ملک میں کہیں بھی میٹرو کی تعمیر ہو لیکن ایک طے شدہ اسٹینڈرڈ پر کام کرے گی۔ ساتھیو، 21 ویں صدی کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے شہروں میں اسمارٹ، سلبھ، سستا اور صاف ستھرا عوامی نظام نقل و حمل نظام فراہم کرنا اس حکومت کی عہد بندگی ہے۔
آج ملک کے بارہ شہروں میں میٹرو نیٹ ورک کی توسیع کی جار ہی ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں کو بھی میٹرو سے جڑنے کے لئے ریاستی حکومتوں کو ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میٹرو کے ڈبے بھی ملک میں تیار کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔
گجرات کے وڈدرا اور تمل ناڈو کے چنئی میں جدید ترین پلانٹ لگائے گئے ہیں۔ میٹرو پروجیکٹس میں میک ان انڈیا کو بڑھاوا دینے کے لئے حکومت نے حصولیابی کی پالیسیوں کو بدلا ہے اور تقریباً 75 فیصد بھارت میں ہی تیار سامان لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ساتھیو، میٹرو کے نظام ہمارے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کا بھی ایک عمدہ نمونہ ہے ۔ پہلے کئی ملکوں نے میٹرو کے لئے ہماری مدد کی۔ اب بھارت دنیا کے کئی ملکوں کو میٹرو کوچ کی سپلائی کرنے کے لئے تیار ہو رہا ہے۔
نہ صرف بین الاقوامی بلکہ کو آپریٹو فیڈرالزم کیسے کام کرتا ہے اس کا بھی یہ ثبوت ہے۔ آج ملک کی جن جن ریاستوں میں بھی میٹرو کی تعمیر ہو رہی ہے وہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی سرکاری شراکت داری سے ہی عمل میں آرہی ہے۔
ساتھیو،
دہلی این سی آر کی بات کریں تو آج جتنا میٹرو نیٹ ورک فراہم ہوا ہے اس نے ہر روز چھ لاکھ گاڑیوں کی ضرورت کو ختم کیا ہے ۔
میٹرو نے لوگوں کا وقت بچایا ہے، پیسہ بچایا ہے اور کثافت کو بھی کم کرنے کا کام کیا ہے۔ میٹرو کے ساتھ ہی ساتھ حکومت دہلی این سی آر میں ٹرانسپورٹ کے پورے نظام کو ہی جدید ترین اور عوام الناس کی ضروریات کے مطابق بنانے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
دہلی کو ہائی اسپیڈ ریل رابطے سے سونی پت الور اور میرٹھ سے مربوط کرنے کے لئے علاقائی ریپڈ ٹرانسپورٹ نظام پر بھی کام چل رہا ہے۔
اس کے علاوہ دہلی کے چاروں طرف ایکسپریس وے کا حلقہ بنانے کا کام بھی تیزی سے کیا جا رہا ہے۔ اس کام کو پورا کرنے کے لئے بھی لوگ کوشش کر رہے ہیں۔
پہلے مرحلے یعنی مشرقی مضافی ایکسپریس وے کو چند روز قبل میں نے اسے عوام کو وقف کیا تھا۔ ہریانہ کی طرف سے مغربی مضافاتی ایکسپریس وے پر بھی کام آگے بڑھ رہا ہے۔ مضافاتی ایکسپریس وے نے دہلی سے ہو کر گزرنے والی چھوٹی بڑی موٹر گاڑیوں کی تعداد کو پچیس سے تیس فیصد تک کم کیا ہے۔ اس سے نقل و حمل پر تو اثر پڑا ہی ہے، آلودگی کی ایک بڑی وجہ بھی کم ہوئی ہے۔
بھائیو اور بہنو،
نیو انڈیا کے لئے نیو اور اسمارٹ بنیادی ڈھانچہ اس حکومت کا عہد ہے۔
گذشتہ چار برسوں میں، روڈ، ریل، فضائی راستے، آبی راستے اور بجلی سے وابستہ بنیادی ڈھانچے پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ کرگل سے لے کر کنیا کماری تک، کچھ سے لے کر کاماکھیہ تک کنیکٹی وٹی پر زور دیا جا رہا ہے۔ سب سے طویل سرنگیں ہوں یا پھر سب سے بڑے پل، ایک کے بعد ایک سارے پروجیکٹ طے شدہ مدت میں پورے کیے جا رہے ہیں۔ بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت پینتیس ہزار کلو میٹر طویل جدید ہائی ویز کا جال بچھانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔
آنے والے وقت میں ایک طرف جہاں 100سے زائد آبی راستے، بلیٹ ٹرین ملک کے نقل و حمل نظام میں بڑی تبدیلیاں لائیں گے، وہیں چھوٹے چھوٹے شہروں میں نمو پذیر ہوتے ہوائی اڈے لوگوں کا حوصلہ آسمان تک پہنچانے کا کام کریں گے۔ یہ جدید طرین بنیادی ڈھانچے ہمارے شہروں کو اکیسویں صدی میں بھی اقتصادی ترقی کا مرکز بنانے میں مددگار ہوں گے۔ دیش کے الگ الگ علاقوں میں جتنا زیادہ بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو گا،آنا جانا آسان ہوگا، جتنا زیادہ نقل و حمل کے ذرائع ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے، اتنا ہی لوگوں کی زندگی آسان بنیں گی، کاروبار کے نئے مواقع فراہم ہوں گے، روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔
ساتھیو،
حکومت کی ان کوششوں میں عوام الناس آپ سبھی حضرات کی سرگرم شراکت داری کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ یہ بہت ضروری بات ہے۔
آئیے نیو انڈیا کے لئے بن رہے اس بنیادی ڈھانچہ کے لئے باہم مل کر اور زیادہ کوششیں کریں۔
ایک بار پھر ہریانہ اور بہادرگڑھ کے عوام کو بہت بہت مبارک باد کے ساتھ اس کا فائدہ ہمارے ناگرک اٹھائیں۔ نجی موٹر گاڑیوں سے نجات پائیں۔ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ
I congratulate the people of Haryana and Delhi on the commencement of this new section of the Delhi Metro. It is gladdening to see Bahadurgarh connected with the Delhi metro. This is the third place in Haryana, after Gurugram and Faridabad to be connected like this: PM
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
We have seen how the Metro in Delhi has positively impacted the lives of citizens: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
We have seen how the Metro in Delhi has positively impacted the lives of citizens: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
Bahadurgarh is witnessing tremendous economic growth, there are several educational centres there, students from there even travel to Delhi. The Metro will bring convenience to this part, which is considered the gateway to Haryana: PM @narendramodi https://t.co/JRsdKQ1BxJ
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
There is a direct link between connectivity and development.
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
The Metro will bring more colonies, more people coming to Bahadurgarh. It will also mean more employment opportunities for local people: PM @narendramodi
Our Government brought out a policy relating to Metros. This is because we felt aspects relating to Metro systems need greater coherence and work as per a basic set of standards: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
Our priority is to build convenient, comfortable and affordable urban transport systems in our cities: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
We also want to boost @makeinindia by making coaches of the Metro in India itself. Several nations helped us in the making of the Delhi Metro and other Metros, and now, we are helping other nations by designing coaches for their Metro systems: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
The process of making Metro systems is also linked to cooperative federalism. Wherever Metros are being built in India, the Centre and the respective state Governments are working together: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018
New India requires new and smart infrastructure. We have worked on roads, railways, highways, airways, waterways and i-ways. There is unparalleled focus on connectivity and ensuring development projects are completed on time: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) June 24, 2018