پی ایم انڈیا
پرنسپل سکریٹری جناب پی کے مشرا جی، کرمایوگی بھارت کے چیئرمین جناب ایس رامادورئی جی، کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن کی چیئرپرسن ایس رادھا چوہان جی، دیگر معزز مہمانان، خواتین و حضرات!
کرم یوگی سادھنا سپتہ کے اس انعقاد کے لیے آپ سبھی کو بہت سی نیک خواہشات۔ 21ویں صدی کے اس دور میں تیزی سے بدلتے ہوئے نظام، تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور ان کے درمیان اسی رفتار سے آگے بڑھتا ہوا ہمارا ہندوستان—اس کے لیے پبلک سروس کو وقت کے مطابق مسلسل اپڈیٹ کرنا ضروری ہے۔ کرم یوگی سادھنا ہفتہ اسی کوشش کی ایک اہم کڑی ہے۔ آپ سب واقف ہیں کہ آج ہم جس طرز حکمرانی کے اصول کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اس کا بنیادی منتر ہے—’ناگرک دیوو بھوا‘۔ اس منتر میں شامل جذبے کے ساتھ آج پبلک سروس کو زیادہ قابل اور شہریوں کے لیے زیادہ حساس بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اب حکمرانی کو شہری پرمرکوز بنا کر ایک نئی پہچان دی جا رہی ہے۔
ساتھیو،
کامیابی کا ایک بڑا اصول یہ بھی ہے کہ دوسروں کی لکیر چھوٹی کرنے کے بجائے اپنی لکیر بڑی کرو۔ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد مختلف ادارے مختلف مقاصد کے ساتھ کام کر رہے تھے، لیکن ضرورت ایک ایسے ادارے کی تھی جس کا مرکز کیپیسٹی بلڈنگ ہو، جو حکومت میں کام کرنے والے ہر ملازم، ہر کرم یوگی کی صلاحیت میں اضافہ کرے۔ اسی سوچ نے کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن (سی بی سی) کو جنم دیا۔ آج سی بی سی کے یومِ تاسیس پر یہ نئی شروعات اور آئی جی او ٹی مشن کرم یوگی کا کامیاب کردار ہماری کوششوں کو کئی گنا توانائی دے رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان اقدامات سے ہم جدید، باصلاحیت، مخلص اور حساس کرم یوگیوں کی ایک مضبوط ٹیم بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
ساتھیو،
چند ہفتے پہلے جب سیوا تیرتھ کا افتتاح ہو رہا تھا، تب بھی میں نے آپ کے سامنے تفصیل سے وکست بھارت کے عزم پر بات کی تھی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے ہمیں تیز رفتار اقتصادی ترقی درکار ہے، جدید بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، ہمیں ملک میں بڑی تعداد میں ہنر مند افرادی قوت تیار کرنی ہوگی اور ان اہداف کی کامیابی میں ہمارےعوامی اداروں اور سرکاری ملازمین کا کردار نہایت اہم ہے۔ہم سب دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کر رہے ہیں کہ آج کا ہندوستان کتنا خواہش مند اور ترقی کا متلاشی ہے۔ ہر شہری کے اپنے خواب ہیں، اپنے مقاصد ہیں اور ہم سب پر یہ ذمہ داری ہے کہ ان خوابوں کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون فراہم کریں۔ ہماری حکمرانی ایسی ہونی چاہیے کہ ملک کے شہریوں کی زندگی میں آسانی اور معیار زندگی روز بروز بہتر ہو—یہی ہماری اصل کسوٹی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر دن کچھ نیا سیکھیں اور خود کو کرم یوگی کے جذبے کے مطابق ڈھالیں۔
ساتھیو،
جب ہم انتظامی خدمات میں اصلاحات اور تبدیلی کی بات کرتے ہیں، تو اس کا ایک مطلب سرکاری ملازمین کے رویّے میں تبدیلی بھی ہوتی ہے۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پرانے نظام میں افسر ہونے پر زور زیادہ دیا جاتا تھا، لیکن آج ملک میں فرض شناسی پرزیادہ زور ہے—عہدہ نہیں بلکہ کام کی اہمیت بڑھی ہے۔ آئین بھی ہمیں ہمارے فرائض کے ذریعے ہی حقوق عطا کرتا ہے۔ہر فیصلے سے پہلے جب آپ یہ سوچیں گے کہ آپ کی ذمہ داری (ڈیوٹی) کیا کہتی ہے، تو آپ کے فیصلوں کا اثر خود بخود کئی گنا بڑھ جائے گا اور میں ایک بات پھر دوہرانا چاہوں گا کہ ہمیں اپنی موجودہ کوششوں کو مستقبل کے ایک بڑے کینوس پر دیکھنا چاہیے۔ 2047 وکست بھارت—یہی ہمارا کینوس ہے، یہی ہمارا ہدف ہے۔ہم آج جو کام کر رہے ہیں، اس کا ملک کی ترقی کے سفر پر کیا اثر ہوگا، ہمارے ایک فیصلے سے کتنے شہریوں کی زندگی بدل سکتی ہے اور ہماری ذاتی تبدیلی کیسے ادارہ جاتی تبدیلی میں بدل سکتی ہے—یہ سوالات ہماری ہر کوشش کا حصہ ہونے چاہئیں۔اپنے تجربے سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے اور یہ توانائی ہمیں صرف اور صرف خدمت کے جذبے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔
ساتھیو،
جب ہم سیکھنے (لرننگ) کی بات کرتے ہیں تو آج کے تناظر میں ٹیکنالوجی کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ 11 برسوں میں سرکاری اور انتظامی کاموں میں کس طرح ٹیکنالوجی کا انضمام ہوا ہے۔ ہم نے حکمرانی اور خدمات کی فراہمی سے لے کر معیشت تک ٹیکنالوجی انقلاب کی طاقت کو دیکھا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آمد کے بعد یہ تبدیلی مزید تیز ہونے والی ہے۔ اس لیے ٹیکنالوجی کو سمجھنا اور اس کا درست استعمال کرنا پبلک سروس کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اب بہتر منتظم اور بہتر پبلک سرونٹ وہی ہوگا، جسے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کی سمجھ ہوگی اور یہی آپ کے فیصلہ سازی کی بنیاد بنے گا۔ اسی لیے اے آئی کے شعبے میں صلاحیت سازی اور مسلسل سیکھنے کےعمل کو فروغ دینے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اس میں آپ سب کی شرکت اور شمولیت نہایت اہم ہے۔ مجھے امید ہے کہ کرم یوگی سادھنا سپتہ میں اس موضوع پر بھی بھرپور توجہ دی جائے گی۔
ساتھیو،
ہمارے وفاقی ڈھانچے میں ملک کی کامیابی کا مطلب ہے ریاستوں کی اجتماعی کامیابی۔ ہم نے دہائیوں تک ملک میں ریاستوں کی درجہ بندی دیکھی ہے—کیاکیا سنتے تھے،ترقی کرنے والی ریاستیں، پسماندہ ریاستیں، بیمار ریاستیں—لیکن آج ہم ایسی تمام اصطلاحات کو ختم کر رہے ہیں۔ ہمیں ریاستوں کے درمیان ہر قسم کے فرق کو ختم کرنا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا، جب ہر ریاست یکساں عزم اور شدت کے ساتھ کام کرے گی۔ ہمیں رکاوٹوں اور الگ تھلگ نظام کو ختم کرنا ہے اور بہتر ہم آہنگی اور مشترکہ فہم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں ’ہول آف گورنمنٹ اپروچ‘ کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور بیوروکریسی دونوں اس اپروچ کو اپنائیں تو ہر مشن میں کامیابی حاصل ہوگی۔ سادھنا سپتہ کے ذریعے اسی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ساتھیو،
ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عام شہری کے لیے مقامی دفتر ہی حکومت کا چہرہ ہوتا ہے۔ آپ کا طرزِ عمل اور آپ کا رویہ ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ جمہوریت اور آئینی نظام پر شہریوں کا کتنا اعتماد ہے۔ اس لیے ہم جو بھی کریں، جس بھی سطح پر کریں، ہمیں اس اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ میں ایک بار پھر کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ کرم یوگی سادھناسپتہ، وکست بھارت کے ہمارے سفر میں ایک اہم باب ثابت ہوگا۔
بہت بہت شکریہ۔
نمسکار۔
****
(ش ح ۔م ن ع۔ ص ج)
U. No. 5291
Sharing my remarks during the Karmayogi Sadhana Saptah.
— Narendra Modi (@narendramodi) April 2, 2026
https://t.co/8nkQJE1QZQ