Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

“سب کا ساتھ، سب کا وکاس – عوامی امنگوں کی تکمیل” کے موضوع پر بجٹ کے بعد کے  ویبنار میں وزیراعظم کے خصوصی خطاب کا متن

“سب کا ساتھ، سب کا وکاس – عوامی امنگوں کی تکمیل” کے موضوع پر بجٹ کے بعد کے  ویبنار میں وزیراعظم کے خصوصی خطاب کا متن


ساتھیو،

بجٹ کے بعد ویبنارز کے اس سلسلے میں آج یہ چوتھا اور اہم ویبنار ہے۔ ‘عوامی امنگوں کی تکمیل’  محض بحث کا کوئی موضوع نہیں ہے، بلکہ یہ اس بجٹ کا بنیادی مقصد اور اس حکومت کا پختہ عزم بھی ہے۔ ان عوامی امنگوں کی تکمیل کا ایک بہت بڑا ذریعہ تعلیم، مہارت ، صحت، سیاحت، کھیل اور ثقافت جیسے بنیادی شعبے ہیں۔ اسی لیے اس ویبنار میں ہم ان اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ بجٹ کے اعلانات پر عمل درآمد کے لیے ان موضوعات سے وابستہ تمام ماہرین، پالیسی سازوں، اسکالرز، کاروباری حضرات اور میرے نوجوان ساتھیو، آپ سب کے خیالات اور تجاویز بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ میں اس چوتھے بجٹ ویبنار کے سیشن میں آپ سب کا خیرمقدم اور استقبال کرتا ہوں۔

ساتھیو،

بھارت آج بیماری سے بچاؤ اور  تحفظ  اورجامع صحت کے لیے ایک وسیع وژن پر کام کر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک کا صحت کا بنیادی ڈھانچہ کافی مضبوط ہوا ہے، سینکڑوں اضلاع میں نئے میڈیکل کالج کھل گئے ہیں۔ آیوشمان بھارت یوجنا اور آروگیہ مندروں کے ذریعے صحت کی سہولیات کی رسائی گاؤں گاؤں تک بڑھائی گئی ہے۔ ہمارا یوگا اور آیوروید پوری دنیا میں مقبول ہو رہے ہیں۔ آپ سب یقیناً اس کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کریں گے، لیکن ایک اہم موضوع جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا، وہ ہے ‘کیئر اکانومی’۔ آنے والی دہائی میں ملک میں بزرگ شہریوں  کی تعداد تیزی سے بڑھے گی۔ اس کے علاوہ، موجودہ وقت میں دنیا کے کئی ممالک میں دیکھ بھال کرنے والوں  کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس لیے، اب صحت کے شعبے میں لاکھوں نوجوانوں کے لیے مہارت پر مبنی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ میں اس ویبنار میں موجود صحت کے شعبے کے ماہرین سے گزارش کروں گا کہ وہ ٹریننگ کے نئے ماڈلز اور شراکت داری  تیار کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں، تاکہ ملک میں تربیت کا  ایکو سسٹم مزید مضبوط ہو سکے۔

ساتھیو،

اس سے وابستہ  دوسرا موضوع ٹیلی میڈیسن کا ہے۔ آج بڑی تعداد میں دور دراز علاقوں کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کا اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اب بھی آگاہی اور سہولت کو مزید بڑھانے کی بہت ضرورت ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ ایک دہائی میں ملک کی سوچ (مائنڈ سیٹ) میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ آج گاؤں، قصبے اور شہر کی حدود سے بالاتر، بھارت کا ہر نوجوان کچھ نیا کرنا چاہتا ہے، اس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے۔ نئی نسل کی یہ نئی سوچ  ملک کی سب سے بڑی طاقت اور روشن مستقبل کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو مسلسل جدید بنانا ہے اور اسے اپ گریڈ کرتے رہنا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) نے اس کے لیے ضروری بنیاد تیار کر دی ہے۔ اب یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارا نصاب  مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق اپ ڈیٹ رہے! ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو حقیقی عالمی  معیشت  سے جوڑنے کے عمل کو مزید تیز کرنا ہوگا؛ ہمیں اے آئی اور آٹومیشن، ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ جیسے موضوعات پر اپنی توجہ مزید بڑھانی ہوگی۔

ساتھیو،

ملک میں تعلیم کو روزگار اور کاروبار  سے جوڑنے کی سمت میں مسلسل کام ہو رہا ہے۔ ‘یونیورسٹی ٹاؤن شپس’ جیسے نئے ماڈلز ہماری اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج بھارت اے وی جی سی  سیکٹر، یعنی اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اور کامکس کو فروغ دے رہا ہے۔ بھارت  اختراع پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آج اس ویبنار میں ملک کے بہت سے ماہرینِ تعلیم اور تعلیمی ادارے وابستہ ہیں۔ میں آپ سے گزارش کروں گا کہ اس ویبنار میں اپنے کیمپسز کو صنعتوں کے ساتھ اشتراک  اور تحقیق پر مبنی سیکھنے کے عمل کا مرکز بنانے کی سمت میں ضرور غور و خوض کریں۔ اس سے طلباء کو حقیقی دنیا کا تجربہ ملے گا اور مہارت کا ایکو سسٹم مزید مضبوط ہوگا۔

ساتھیو،

ایک بہت اہم موضوع اسٹیم (ایس ٹی ای ایم)ہے، یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی۔ اس شعبے میں یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اسٹیم  کے مضامین میں دلچسپی لینے والی بیٹیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آج جب ہم مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے تیار ہو رہے ہیں، تو یہ بہت ضروری ہے کہ کوئی بھی بیٹی مواقع کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔ ویبنار میں آپ اس سمت میں ضرور بحث کریں، ہمیں خواتین کی شرکت بڑھانے پر مزید زور دینا ہوگا۔ ہمیں ایسا تحقیقی ایکو سسٹم تیار کرنا ہوگا جہاں نوجوان محققین کو تجربات کرنے اور نئے خیالات پر کام کرنے کا بھرپور موقع ملے۔

ساتھیو،

یووا شکتی (نوجوانوں کی طاقت) تبھی قومی طاقت بنتی ہے جب وہ صحت مند بھی ہو، منظم بھی ہو اور خود اعتمادی سے بھرپور بھی ہو۔ اسی لیے گزشتہ چند برسوں میں کھیلوں کو قومی ترقی کے ایک اہم دھارے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ‘کھیلو انڈیا’ جیسے اقدامات نے ملک میں اسپورٹس ایکو سسٹم کو نئی توانائی دی ہے۔ ملک بھر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس ویبنار میں آپ سب کچھ سوالات پر ضرور غور و خوض کریں۔ مثلاً، چھوٹے چھوٹے مقامات سے بھی ٹیلنٹ کی شناخت کو مزید درست کیسے بنایا جائے، ہزاروں کھلاڑیوں کے لیے ‘اسٹرکچرڈ فائننشل سپورٹ’  یعنی منظم مالی امداد میں کیسے بہتری لائی جائے اور تیسری اہم بات یہ کہ ہمارے اسپورٹس باڈیز کو مزید پیشہ ورانہ  کیسے بنایا جائے؟ اگلے چند برسوں میں ملک میں کامن ویلتھ گیمز ہونے جا رہے ہیں، ملک اولمپک کے انعقاد کی کوششوں میں مصروف ہے، ایسے میں ہمیں آج ہی کم عمر کھلاڑیوں کی شناخت کر کے انہیں تراشنا ہوگا، تبھی بین الاقوامی مقابلوں میں بھارت کا پرچم لہرا سکے گا۔

ساتھیو،

سیاحت  اور ثقافت، روزگار کے نئے مواقع بڑھانے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کسی جگہ پر سیاحت بڑھتی ہے تو اس مقام یا اس شہر کی برانڈنگ بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس سے اس شہر کی مجموعی ترقی  بھی بہت تیز ہو جاتی ہے۔ بھارت میں ایسے تاریخی مقامات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن طویل عرصے تک سیاحت چند مخصوص مقامات تک ہی محدود رہی۔ اب ہم ملک کے کونے کونے میں سیاحتی مقامات کو نئے سرے سے تیار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

آپ سب اس ویبنار میں بھارت کے ٹورزم ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے ہولسٹک اپروچ یعنی ایک جامع نقطہ نظر پر ضرور تبادلہ خیال کریں۔ تربیت یافتہ گائیڈز، مہمان نوازی کی مہارتیں ، ڈیجیٹل کنیکٹی ویٹی، عوامی شمولیت، صفائی ستھرائی اور ان سے جڑے موضوعات پر آپ کی تجاویز بہت اہم ہوں گی۔

ساتھیو،

جب ادارے ، صنعتیں  اور تعلیمی ماہرین  مل کر کام کرتے ہیں، تو تبدیلی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ بجٹ کے بعد ویبنارز کا یہ جو سلسلہ ہوا ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے آنے والے وقت کے لیے ایک ٹھوس سمت ملے گی۔ ایسے ہی اقدامات سے ‘وکست بھارت’  کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی اور ساتھیو، یہ ایک بہت ہی خوشگوار تجربہ ہے کہ ویبنار کی اس روایت کی وجہ سے، بجٹ کے بعد اور خاص طور پر اس پر عمل درآمد  کے حوالے سے مجھے بتایا گیا ہے کہ اس سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان موضوعات سے وابستہ ہیں؛ جن میں ماہرین بھی ہیں، اس کے مستفیدین بھی ہیں اور اس کے نظام سے جڑے ہوئے لوگ بھی ہیں۔ یعنی ایک طرح سے وہ تمام لوگ جو اس عمل کی اصل طاقت  ہیں، وہ بڑی سرگرمی کے ساتھ ان ویبنارز میں شامل ہوئے۔ ہمارے افسران مجھے بتا رہے تھے کہ بہت ہی بہترین اور عملی  تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ یعنی ایک طرح سے نہ صرف مسائل کا حل مل رہا ہے بلکہ نئی توانائی اور نئی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ویبنار کا یہ تجربہ بہت ہی خوش آئند ہے۔ ان تمام ویبنارز میں حصہ لینے والے تمام افراد مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔

ایک بار پھر آپ سب کے لیے بہت  بہت نیک خواہشات اور بہت بہت شکریہ۔

نمسکار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م م ع ۔ ن م۔

U- 3544