Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

ٹی وی 9 سمٹ 2026 میں وزیراعظم کے خطاب کا اصل متن

ٹی وی 9 سمٹ 2026 میں وزیراعظم کے خطاب کا اصل متن


نمسکار

گزشتہ کچھ عرصے میں مجھے ایک دو بار ٹی وی 9 بھارت ورش دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ عام طور پر بھی آپ کا جنگوں اور میزائلوں پر بہت زیادہ فوکس ہوتا ہے اور آج کل تو آپ کو مواد کی حد سے زیادہ فراہمی ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے ممالک ٹی وی 9 کو کافی زیادہ مواد دینے پر تلے ہوئے ہیں، لیکن سنجیدگی سے دیکھا جائے تو آج دنیا جن سنگین حالات سے گزر رہی ہے، وہ بے مثال اور نہایت ہی تشویشناک ہیں اور ان حالات کے درمیان، آج ٹی وی-9 نیٹ ورک نے خیالات کے تبادلے کے لیے ایک نہایت اہم پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ آج اس سمٹ میں آپ سب ’انڈیااینڈ دی ورلڈ‘ کے موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں۔ میں آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس سمٹ کے لیے اپنی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں اور تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آج جب دنیا تنازعات کے باعث الجھی ہوئی ہے، جب ان تنازعات کے منفی اثرات پوری دنیا پرنظرآرہےہیں، تب ’انڈیا  اینڈ دی ورلڈ‘کی بات کرنا نہایت ہی موزوں ہے۔ ہندوستان آج وہ ملک ہے ،جس کی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ 2014 سے پہلے کے حالات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آج  ہندوستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اب  ہندوستان چیلنجوں سے گریز نہیں کرتا، بلکہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔آپ گزشتہ 5-6 سال پر نظر ڈالیں، کورونا وبا کے بعد چیلنجزایک بعد ایک مسلسل بڑھتے ہی گئے ہیں۔ ایسا کوئی سال نہیں گزرا ،جس نے ہندوستان اور ہندوستانیوں کا امتحان نہ لیا ہو، لیکن 140 کروڑ ہم وطنوں کی متحدہ کوششوں سے ہندوستان ہر آفت کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔اس وقت جنگی حالات میں بھی  ہندوستان کی پالیسی اور حکمت  عملی کو دیکھ کر، ہندوستان کی صلاحیت کو دیکھ کر دنیا کے کئی ممالک حیران ہیں۔ ہمارے یہاں ایک کہاوت ہے: ’سچ کو آنچ نہیں‘۔28 فروری سے دنیا میں جو ہلچل مچی ہے، ان سخت اور ناموافق حالات کے باوجود بھی  ہندوستان پر اعتماد انداز میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ان 23 دنوں میں  ہندوستان نے اپنے تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور بحران کے انتظام کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ساتھیو،

آج جب دنیا کئی گروپوں میں تقسیم ہے، ہندوستان نے غیر معمولی اور ناقابل تصور پل قائم کیے ہیں۔ خلیج سے لے کر گلوبل ویسٹ تک، گلوبل ساؤتھ سے لے کر پڑوسی ممالک تک،  ہندوستان سب کا قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کس کے ساتھ ہیں؟ تو ان کے لیے میرا جواب یہی ہے کہ ہم  ہندوستان کے ساتھ ہیں، ہم  ہندوستان کے مفادات کے ساتھ ہیں، ہم امن کے ساتھ ہیں اور ہم مکالمے کے ساتھ ہیں۔

ساتھیو،

بحران کے  اس وقت  میں جب عالمی سپلائی چینز ڈگمگا رہی ہیں،  ہندوستان نے تنوع اور مضبوطی (ریزیلینس) کا ماڈل پیش کیا ہے۔ توانائی ہو، کھاد ہو یا ضروری اشیاء—اپنے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو، اس کے لیے ہندوستان نے مسلسل کوششیں کی ہیں اور آج بھی کر رہا ہے۔

ساتھیو،

جب قومی پالیسی ہی سیاست کی بنیاد بنے، تب ملک کا مستقبل سب سے مقدم ہوتا ہے، لیکن جب سیاست میں ذاتی مفادات غالب آ جاتے ہیں، تو لوگ ملک کے مستقبل کے بجائے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ ذرا یاد کیجیے 2004 سے 2010 کے درمیان کیا ہوا تھا؟ اس وقت کانگریس حکومت کے دور میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کا بحران آیا تھا اور کانگریس نے ملک کے بجائے اپنی حکومت کی فکر کی تھی۔اس وقت کانگریس نے ایک لاکھ48؍ہزارکروڑ روپے کے آئل بانڈ جاری کیے تھے اور وزیراعظم منموہن سنگھ جی نے خود کہا تھا کہ وہ آنے والی نسلوں پر قرض کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آئل بانڈ کا فیصلہ غلط ہے، جو لوگ ریموٹ کنٹرول سے حکومت چلا رہے تھے، انہوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے یہ غلط فیصلہ کیا، کیونکہ اس وقت جوابدہی نہیں ہونی تھی—ان بانڈز کی ادائیگی(ری پیمنٹ) 2020 کے بعد ہونی تھی۔

ساتھیو،

گزشتہ 5سے6 برسوں میں ہماری حکومت نے کانگریس حکومت کے اُس گناہ کو دھونے کا کام کیا ہے اور اس صفائی کی قیمت کم نہیں رہی—ایسی لانڈری آپ نے نہیں دیکھی ہوگی۔ ایک لاکھ 48 ہزار کروڑ روپے کی جگہ، ملک کو 3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کرنی پڑی ،کیونکہ اس میں سود بھی شامل ہو گیا تھا۔ یعنی ہم تقریباً دوگنی رقم ادا کرنے پر مجبور ہوئے۔آج کل کانگریس کے جو لیڈر بیانات کی میزائلیں داغ رہے ہیں—میزائل آئے تو ٹی وی9 کو مزہ آئے گا—لیکن جیسے ہی اس موضوع کا ذکر آتا ہے، ان کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔

ساتھیو،

مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والے حالات پر میں نے آج لوک سبھا میں اپنا بیان دیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگیں ہو رہی ہیں، وہ ہندوستان کی سرحدوں سے دور ہیں، لیکن آج کے نظام میں کوئی بھی ملک جنگوں کے منفی اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہے، ایسا ناممکن نہیں ہوتا۔ کئی ممالک میں تو صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہےاور ان حالات میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی مفاد ات رکھنے والے کچھ لوگ اور کچھ سیاسی جماعتیں اس بحران کے وقت میں بھی اپنے لیے سیاسی مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ اسی لیے میں ٹی وی9 کے اس پلیٹ فارم سے ایک بار پھر کہوں گا کہ یہ وقت ضبط کا ہے، حساسیت کا ہے۔ہم نے کورونا کے بڑے بحران کے دوران بھی دیکھا ہے کہ جب ملک کے لوگ متحد ہو کر بحران کا مقابلہ کرتے ہیں تو کتنے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ اسی جذبے کے ساتھ ہمیں اس جنگ سے پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کرنا ہے۔

ساتھیو،

دنیا کی ہر ہلچل کے درمیان ہندوستان نے اپنی ترقی کی رفتار کو بھی برقرار رکھا ہے۔ اگر میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد گزشتہ 23 دنوں کا ہی جائزہ پیش کروں تو مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ملک میں ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوا ہے۔ دہلی میٹرو ریل کے اہم کوریڈورز کا افتتاح، سلچر میں ہائی اسپیڈ کوریڈور کا سنگِ بنیاد، کوٹا میں نئے ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد، مدورائی ایئرپورٹ کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا درجہ دینا—ایسے متعدد کام گزشتہ 23 دنوں میں ہی انجام پائے ہیں۔گزشتہ ایک مہینے کے دوران صنعتی ترقی کو رفتار دینے کے لیے ایک بڑی اسکیم کو منظوری دی گئی ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں 100 پلگ اینڈ پلے انڈسٹریل پارکس تیار کیے جائیں گے۔ ملک میں چھوٹے ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم کو بھی منظوری دی گئی ہے، جس سے آنے والے برسوں میں 1,500 میگاواٹ نئی ہائیڈرو پاور صلاحیت کا اضافہ ہوگا۔اسی دوران جل جیون مشن کو سال 2028 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کسانوں کے مفاد میں بھی کئی بڑے فیصلے کیے گئے ہیں۔ گزشتہ ایک مہینے میں ہی پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت 18 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ رقم براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کی گئی ہےاور ہمارے ایم ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے بھی تقریباً 500 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وکست بھارت  کی تعمیر کے لیے ملک کتنی تیزی سے کام کر رہا ہے۔

ساتھیو،

مینجمنٹ کی دنیا میں ایک اصول کہا جاتا ہے: جس چیز کی پیمائش کی جاتی ہے، اس کا بہتر انتظام ممکن ہوتا ہے(What gets measured, gets managed لیکن میں اس میں ایک بات اور شامل کرنا چاہتا ہوں کہ جس چیز کی پیمائش کی جاتی ہے، وہ بہتر ہوتی ہے اور بالآخر مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ جائزہ لینے سے آگاہی پیدا ہوتی ہے، جائزہ لینے سے جوابدہی طے ہوتی ہے اور سب سے اہم یہ کہ جائزہ لینے سے امکانات جنم لیتے ہیں۔

ساتھیو،

اگر آپ 2014 سے پہلے کے 10سے11 سال اور 2014 کے بعد کے 10 سے11 برس کا جائزہ لیں گے تو آپ یہی پائیں گے کہ اسی اصول پر چلتے ہوئے  ہندوستان نے ہر شعبے میں تبدیلی لائی ہے۔ جیسے پہلے قومی شاہراہ کی تعمیرتقریباً 11 سے12 کلومیٹر فی دن کی رفتار ہوتی تھی، آج ہندوستان تقریباً 30 کلومیٹر یومیہ کی رفتار سے قومی شاہراہ بنا رہا ہے۔پہلے بندرگاہوں پر جہازوں کا ٹرن اراؤنڈ ٹائم 5 سے6 دن ہوتا تھا، آج وہی کام تقریباً 2 دن سے بھی کم وقت میں مکمل ہو رہا ہے۔ پہلے اسٹارٹ اپ کلچر کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں ہوتی تھی—2014 سے پہلے ہمارے ملک میں صرف 400 سے500 اسٹارٹ اپس تھے، جبکہ آج ہندوستان میں 2 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس ہیں۔پہلے میڈیکل تعلیم میں نشستیں بھی محدود تھیں، تقریباً 50 سے55 ہزار ایم بی بی ایس سیٹیں تھیں، جو آج بڑھ کر ایک لاکھ 25؍ ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ پہلے ملک کے بینکنگ نظام سے بھی کروڑوں لوگ باہر تھے—ملک میں صرف تقریباً 25 کروڑ بینک اکاؤنٹس تھے، جبکہ جن دھن یوجنا کے ذریعے 55 کروڑ سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔پہلے ہمارے ملک میں ایئرپورٹس کی تعداد بھی 70 سے کم تھی، جبکہ آج ایئرپورٹس کی تعداد بڑھ کر 160 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ساتھیو،

پہلے بھی منصوبے بنتے تھے، لیکن آج فرق یہ ہے کہ آج نتائج نظر آتے ہیں۔ پہلے رفتار سست تھی، آج ہندوستان ’فاسٹ ٹریک‘ پر ہے۔ پہلے امکانات بھی اندھیرے میں تھے، آج عزم کامیابیوں میں بدل رہے ہیں۔ اسی لیے دنیا کو بھی یہ پیغام مل رہا ہے کہ یہ نیا  ہندوستان ہے، جو اپنی ترقی کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہا ہے۔

ساتھیو،

آج ہماری کوشش ہے کہ ماضی میں ترقی کا جو عدم توازن پیدا ہو گیا تھا، اسے مواقع میں تبدیل کیا جائے۔ جیسے ہمارا مشرقی ہندوستان—یہ علاقہ وسائل سے مالا مال ہے، لیکن دہائیوں تک وہاں حکومت کرنے والوں کی غفلت نے اس کی ترقی کو روک دیا تھا۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔جس آسام میں کبھی گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، آج وہاں سیمی کنڈکٹر یونٹ قائم ہو رہی ہے۔ اوڈیشہ میں سیمی کنڈکٹر سے لے کر پیٹروکیمیکلز تک کئی نئے شعبوں میں ترقی ہو رہی ہے۔ جس بہار میں 6 سے7 دہائیوں میں دریائے گنگا پر صرف ایک بڑا پل بن سکا تھا، اسی بہار میں گزشتہ ایک دہائی میں 5 سے زیادہ نئے پل تعمیر کیے گئے ہیں۔اتر پردیش میں کبھی کٹّا (دیسی اسلحہ) بنانے کی کہانیاں مشہور تھیں، آج وہی اتر پردیش موبائل فون مینوفیکچرنگ میں دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا رہا ہے۔

ساتھیو،

مشرقی ہندوستان کی ایک اور بڑی ریاست مغربی بنگال ہے۔ مغربی بنگال ایک وقت میں ہندوستان کی ثقافت، تعلیم، صنعت اور تجارت کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ گزشتہ 11 برسوں میں مرکزی حکومت نے مغربی بنگال کی ترقی کے لیے بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کی ہے، لیکن بدقسمتی سے آج وہاں ایک ایسی بے رحم حکومت ہے، جو ترقی پر بریک لگا کر بیٹھی ہے۔ٹی وی 9 بنگلا کے جوناظرین  ہیں وہ جانتے ہیں کہ بنگال میں آیوشمان یوجنا پر اس بے رحم حکومت نے روک لگا رکھی ہے۔ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا پر بریک لگا رکھی ہے۔ پی ایم آواس یوجنا پر روک لگا رکھی ہے۔ چائے باغان کے مزدوروں کے لیے شروع کی گئی اسکیم پر بھی بریک لگا رکھی ہے۔ یعنی یہ بے رحم حکومت ترقی اور عوامی فلاح سے زیادہ ترجیح اپنے سیاسی مفادات کو دے رہی ہے۔

ساتھیو،

ملک میں اس طرح کی سیاست کی شروعات جس جماعت نے کی ہے، وہ اپنے گناہوں سے بچ نہیں سکتی اور وہ پارٹی ہے—کانگریس۔ کانگریس پارٹی کی سیاست کا ایک ہی مقصد رہا ہے: کسی نہ کسی طرح ترقی کی مخالفت کرنا اور کانگریس یہ کام اس وقت سے کر رہی ہے، جب میں گجرات میں تھا۔ گجرات میں برسوں تک عوام نے ہمیں آشیرواد دیا، تو کانگریس نے اس عوامی فیصلے کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے گجرات کی شبیہ پر سوال اٹھائے، اس کی ترقی کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور جب یہی اعتماد پورے ملک میں نظر آنے لگا تو کانگریس کی مخالفت بھی علاقائی سطح سے بڑھ کر قومی سطح تک پہنچ گئی۔

ساتھیو،

جب سیاست میں مخالفت، ترقی کی مخالفت میں بدل جائے، جب تنقید ملک کی کامیابیوں پر سوال اٹھانے لگے، تب یہ صرف حکومت کی مخالفت نہیں رہتی بلکہ یہ ملک کی ترقی سے بے چینی کی ایک ذہنیت بن جاتی ہے۔ آج کانگریس اسی ذہنیت کی غلام بن چکی ہے۔آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کی ہر کامیابی پر سوال اٹھایا جاتا ہے، ہر کامیابی میں خامی تلاش کی جاتی ہے اور ہر کوشش کے ناکام ہونے کی تمنا کی جاتی ہے۔ کووڈ کے دوران جب ملک نے اپنی ویکسین تیار کی تو کانگریس نے اس پر بھی شک ظاہر کیا۔ ’میک ان انڈیا‘ کی بات ہوئی تو کہا گیا کہ یہ کامیاب نہیں ہوگا، اسے ’ببر شیر’ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا گیا۔ جب ملک میں ڈیجیٹل انڈیا مہم شروع ہوئی تو اس کا بھی مذاق اڑایا گیا،لیکن ہر بار یہ کانگریس کی بدقسمتی اور ملک کی خوش قسمتی رہی کہ  ہندوستان نے ہر چیلنج کو کامیابی میں بدلا۔ آج  ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم کی مثال ہے۔  ہندوستان ڈیجیٹل ادائیگیوں میں دنیا کا  ایک سرکردہ ملک ہے اور  ہندوستان مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپس کے میدان میں نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

ساتھیو،

جمہوریت میں اختلاف ضروری ہوتا ہے، لیکن اختلاف اور عداوت کے درمیان ایک لکیر ہوتی ہے۔ حکومت کی مخالفت کرنا ایک جمہوری حق ہے، لیکن ملک کو بدنام کرنا کانگریس کی نیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ جب مخالفت اس حد تک پہنچ جائے کہ ملک کی کامیابیاں بھی  ناگوارلگنے لگیں، تو یہ سیاست نہیں، بلکہ سوچ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔حال ہی میں ہم نے گلوبل اے آئی سمٹ میں بھی دیکھا کہ جب پوری دنیا  ہندوستان میں جمع ہوئی تھی، تب کانگریس کے لوگ وہاں کپڑے پھاڑنے وہاں پہنچ گئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ملک کی عزت کی کتنی فکر ہے۔ اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک  کےمفاد کو جماعت مفاد سے اوپر رکھا جائے، کیونکہ آخر میں ملک سیاست سے بالاتر ہوتا ہے اور  ملک کی ترقی ہوتی ہے۔

ساتھیو،

آج کا یہ دن بھی ہمیں یہی ترغیب دیتا ہے۔ آج ہی کے دن شہید بھگت سنگھ، شہید راج گرو اور شہید سکھ دیو نے ملک کے لیے اعلیٰ ترین قربانی دی تھی۔ آج ہی سوشلسٹ تحریک کے ممتاز رہنما ڈاکٹر رام منوہر لوہیا جی کایوم پیدائش بھی ہے۔ یہ وہ تحریکیں اور شخصیات ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ملک کو اپنے ذاتی مفاد سے اوپر رکھا۔ملک کے مفاد کو سب سے اوپر رکھنے کی یہی تحریک  ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنائے گی اور یہی جذبہ  ہندوستان کو  آتم نربھر بنائے گا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ٹی وی9 کی یہ سمٹ نہ صرف ہندوستان کے اعتماد کو مزید تقویت دے گی ،بلکہ دنیا کا  ہندوستانیوں پر جو اعتماد ہے، اسے بھی مزید مضبوط بنائے گی۔ آپ سب کو میری جانب سے بہت سی دلی نیک خواہشات۔  اپنے درمیان آنے کا موقع دیا، آپ سب سے ملنے کا موقع ملا، اس کے لیے بہت بہت شکریہ!

نمسکار!

***

ش ح ۔ م ع ن۔ م ش

U. No.4746